The news is by your side.

Advertisement

اسلام آباد ایئرپورٹ میں پانی بھرجانےسےمتعلق کیس کی سماعت

سپریم کورٹ کاغلط رپورٹ پیش کرنے پراظہاربرہمی

لاہور: سپریم کورٹ میں اسلام آباد ایئرپورٹ میں بارش کا پانی بھرجانے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ غلط رپورٹ پرکیوں نہ توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں اسلام آبادایئرپورٹ میں بارش کا پانی بھرجانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کے دوران غلط رپورٹ پیش کرنے پربرہمی کا اظہار کیا، عدالت میں ایئرپورٹ پرپانی کھڑے ہونے کی فوٹیج بھی دکھائی گئی۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج میں بہت پانی دکھایا گیا رپورٹ میں معمولی پانی کا ذکرہے جس پر ڈپٹی ڈائریکٹرجنرل نے جواب دیا کہ پانی زیرتعمیرعمارت میں جمع ہوا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عدالت کی منظوری کے بغیرآپ کوڈی جی کس نے لگایا جس پر ڈی جی سی اے اے نے جواب دیا کہ سی ای اوپی آئی اے کی منظوری سے تعیناتی کی گئی۔

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا کہ خود ہی کمیٹی بنا کرخود ہی فیصلے کررہے ہیں۔

ڈپٹی ڈی جی نے کہا کہ بارش بہت زیادہ تھی جس کی وجہ سے پانی اندرآگیا جس پرجسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ تعمیرشدہ بلڈنگ میں پانی آنے کا سوال ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پیش کی گئی رپورٹ سے مطمئن نہیں، کیوں نہ آپ کا کیس ایف آئی اے میں بھیجا جائے،غلط رپورٹ پرکیوں نہ توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

بعدازاں سپریم کورٹ لاہور رجسٹری نے اسلام آباد ایئرپورٹ میں بارش کا پانی بھرجانے سے متعلق کیس کی سماعت 31 جولائی تک ملتوی کردی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں