The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ کا کرک میں ہوئے واقعے پر قانون کے مطابق کارروائی کا حکم

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے رمیش کمار کو کرک سمادھی  پر خرچ  38ملین کے حسابات جمع کرانے کاحکم دیتے ہوئے کہا کرک میں ہوئے واقعے پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں اقلیتوں سے متعلق بنیادی حقوق کیس کی سماعت ہوئی ، چیف جسٹس کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے سماعت کی۔

رمیش کمار نے بتایا کہ کرک واقعہ سے پہلے سمادھی پر 3 کروڑ 80 لاکھ خرچ کیے لیکن متروکہ وقف املاک بورڈ نے خرچ رقم واپس نہیں کی ، کامران مرتضی کا کہنا تھا کہ فوجداری مقدمات کےٹرائل ازخودنوٹس کی وجہ سےنہیں چل رہے، ٹرائل کورٹ 100 سےزیادہ گرفتار ملزمان کوضمانت نہیں دے رہی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا کرک واقعےکے ملزمان سے وصولی ہوئی؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا سمادھی پر حملہ کرنے والوں کی ویڈیوموجود ہیں، ویڈیومیں نظر آنے والے حملہ آوروں سےوصولی کریں۔

ایڈووکیٹ جنرل کے پی کا کہنا تھا کہ وصولی کی رقم کا تعین کر رہے ہیں، نوٹس بھی جاری کریں گے ، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پرلاب مندر کوسیکیورٹی فراہم کرنے کاعدالت نےحکم دیا ہواہے، کیاپنجاب حکومت ہولی تہوارکے لیےسیکیورٹی فراہم کر رہی ہے؟

جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کیا پنجاب حکومت ہولی تہوار کے لیئے سیکورٹی فراہم کر رہی ہے، ہمارا حکم صرف سیکیورٹی سے متعلق ہے، ایڈیشنل  ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ پرلاب مندر کی دیواریں کمزور ہیں ، عدالت مندرکی دیواروں کودوبارہ تعمیر کاموقع فراہم کرے۔

ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کا کہنا تھا کہ ملتان سمیت پنجاب بھر میں ہولی منائی جاتی ہے، پرلاب مندر کی ایک تاریخ ہے، پرلاب مندر اور درگاہ بہا الدین زکریا جڑےہوئے ہیں، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا قیام امن ریاست کے کرنے کے کام ہیں۔

عدالت نے رمیش کمار کو 38ملین کے حسابات جمع کرانے کاحکم دیتے ہوئے کہا رمیش کمار خرچ کیےگئے38ملین کا حساب چیئرمین محکمہ اوقاف کو پیش کریں اور کرک میں ہوئے واقعے پر قانون کے مطابق کارروائی کا حکم دے دیا۔

اقلیتوں سے متعلق بنیادی حقوق کیس میں سپریم کورٹ چیف سیکرٹری پنجاب کی عدم پیشی پر برہمی کا اظہار کیا ، چیف جسٹس نے کہا چیف سیکرٹری نہ خود آئے نہ عدالتی حکم پر عمل ہوا۔

سیکرٹری عملدرآمدپنجاب نے کہا چیف سیکرٹری کابینہ میٹنگ کی وجہ سےمصروف ہیں، جسٹس مظاہر نقوی کا کہنا تھا کہ عدالتی نوٹس ملتےہی کابینہ میٹنگ کیوں رکھی گئی۔

چیف جسٹس نے سوال کہا پرناب مندرکےحوالے سےخط لکھ کرکونسا تیرماراہے؟ خط و کتابت کرنا سیکریٹری کا نہیں کلرک کا کام ہے،
سیکرٹری کاکام احکامات پرعملدرآمدیقینی بناناہوتاہے، اب 100 سال پرانازمانہ نہیں کہ خط لکھ کربیٹھے رہیں۔

عدالت نے پرناب مندر کی بحالی اور سیکیورٹی کےاحکامات پر 2ہفتے میں عملدرآمد رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

دوران سماعت اپوزیشن کے لانگ مارچ کا بھی تذکرہ کیا گیا، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل فیصل چوہدری نے کہا پرناب مندرمیں تہوار26 مارچ کو منانے کاکہا گیا، 26 مارچ کواپوزیشن نےلانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، سیاسی ماحول کی وجہ سے سیکیورٹی کی فراہمی مشکل ہوگی، پنجاب حکومت نے تمام معاملات کو مدنظر رکھنا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں