پانامہ لیکس کیس ، سپریم کورٹ کا فریقین سے تحریری جواب طلب -
The news is by your side.

Advertisement

پانامہ لیکس کیس ، سپریم کورٹ کا فریقین سے تحریری جواب طلب

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کی تحقیقات اور وزیراعظم کی نااہلی کیلئے درخواستوں پر سماعت میں وزیراعظم اوران کے اہلخانہ کو2 دن میں جواب داخل کرانے کا حکم دیا اور فریقین سے ٹی اوآرز اور کمیشن کی تجویز تحریری طور پر طلب کرتے ہوئے کرتے ہوئے کیس کی سماعت 3 نومبر تک ملتوی کردی۔

تفصیلات کے مطابق پاناما لیکس کی تحقیقات سے متعلق دائردرخواستوں پرچیف جسٹس آف پاکستان انورظہیر جمالی کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ سماعت کررہا ہے، سپریم کورٹ کے بینچ میں جسٹس آصف سعید کھوسہ،جسٹس امیرہانی مسلم،جسٹس عظمت سعیداورجسٹس اعجازالحسن شامل ہیں۔

سلمان اسلم بٹ حکومت کی نمائندگی کررہے ہیں جبکہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید، پی ٹی آئی کی جانب سے شیریں مزاری اور شاہ محمود قریشی اور سعد رفیق بھی عدالت پہنچ گئے ہیں۔

وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو وزیراعظم نواز شریف کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے عدالت کو بتایا وزیراعظم جوڈیشل کمیشن کے قیام پر متفق ہیں لیکن کمیشن کو جہانگیر ترین اور عمران خان کی بہن کا کیس بھی بھیجا جائے، اگر الزامات ثابت ہو گئے تو وزیراعظم قانونی نتائج کو تسلیم کریں گے۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں  کہا کہ حکومت اور اپوزیشن ٹی او آرز کے معاملے پر نظرثانی کرے ، فریقین کے مابین معاملات بہتر ہو جائیں گے،   سیاست ضرور کریں مگر تحمل کے ساتھ۔ ، اگر فریقین کا  ٹی اوآرز پر اتفاق نہ ہوا تو ہم خود ٹی اوآرز بنائیں گے۔

کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے پانامالیکس کی تحقیقات کے لئےکمیشن بنانے کی تجویز دی تھی ، سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ پاناما لیکس پر تحقیقاتی کمیشن کے قیام کے لیے آج ہی ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کرے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا تمام فریق کمیشن پر متفق ہوں گے؟ عدالت کمیشن بنائے تو اس کے فیصلے کو تسلیم کریں گے؟ چیف جسٹس نے ایک بجے تک تحریری رائے طلب کی تھی ، عدالتی ہدایت کے بعد عمران خان اور نواز شریف کے وکلاء مشاورت کے لئے روانہ ہوگئے۔

عدالت نے کہا کہ آف شور کمپنیوں کا اصل مالک کون ہے، ہم وزیر اعظم سے پوچھیں گے، بتایا جائے پیسےکہاں سے منتقل ہوئے، سپریم کورٹ نے تحقیقات کے لئے تین آپشن رکھ دئیے، پہلا آپشن عدالت خود بینکوں کے کھاتوں کاجائزہ لے، دوسرا آپشن ہے تحقیقاتی اداروں کو حکم دیں، تیسرا آپشن درخواست گزار دستاویزات اور ثبوت خود پیش کریں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت تحقیقاتی ادارہ نہیں تحقیقات کاحکم دے سکتی ہے۔

پاناما لیکس پرکمیشن کی عدالتی تجویزپر سیاسی ردِعمل

پاناماتحقیقات کی عدالتی تجویزپرسیاسی قیادت کا ردعمل سامنے آیا، وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہےکہ اقتدار میں ہوتے ہوئے سرنڈر کر رہےہیں ، مار دھاڑکی سیاست کو حصول اقتدار کی کوشش کہہ دیا۔

سعدرفیق کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نوازشریف عدالتی تجویز پرخوش ہیں،عمران خان کارکنوں پر رحم کریں۔

سراج الحق نے ن لیگ کی سیاست کو ڈبل شاہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف قائداعظم کا احتساب چاہتے ہیں، پانامالیکس سے متعلق کیس کی سماعت جمعرات کو ہوگی۔

پانامہ لیکس کی تحقیقات پر کیس کی سماعت  شروع

سماعت کے آغاز میں  طارق اسد کی پٹیشن اٹھائی گئی، جسٹس امیر ہانی کا کہنا ہے کہ یہ بینچ خصوصا اسی کیس کیلئے بنایا گیا ہے، بینج تسلی سے سماعت کرے گا، ہیجانی کیفیت پیدا نہیں کی جائے۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا تمام فریقین نے جواب جمع کرا دیا ہے؟ تمام فریقین کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا پورا پوقع دیا جائے گا ، میڈیانے 2ہفتے سے اس کیس کے حوالے سے سنسنی پیدا کررکھی ہے، سماعت سے متعلق میڈیا ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔

چیف جسٹس آف پاکستان انورظہیر جمالی نے کہا کہ دوہفتوں کیلئے سماعت ملتوی کی گئی تھی تاریخ آنے پرتاثردیاگیاکہ تاریخ تبدیل کردی گئی ہے، اس قسم کی باتوں پرمیڈیااورسیاسی جماعتیں زمہ داری کامظاہرہ کریں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آمدن سے زیادہ  اثاثہ جات ہوں تو نیب تحقیقات کرسکتا ہے، نیب نے ابھی تحقیقات کیوں شروع نہیں کریں، کس بات کا انتظار کررہی ہے۔

جسٹس عظمت سعید کا کہنا ہے کہ اب تک تمام فرقین کی جانب سے جواب نہیں آیا ، دوہفتے پہلے نوٹس دیا گیا تھا، جواب دینے میں تاخیری حربے کیوں استعمال کیے جارہے ہیں، نیب کیسے کہتا ہے کہ اسکا دائرہ اختیارنہیں، نیب کیوں چاہتا ہے کہ لوگ اسے ثبوت جمع کرکے دیں، نیب خود تحقیقات کیوں نہیں کرتا۔

پراسیکیوٹر نیب نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری کا معاملہ ہے جونیب کے دائرہ اختیار میں نہیں، اتنے بڑے معاملے کی تحقیقات کوئی ایک ادارہ اکیلانہیں کرسکتا۔

جسٹس آصف سعید کا کہنا تھا کہ نیب کے دلائل سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ اس ملک میں کرپشن کی تحقیقات کے لئے کوئی ادارہ نہیں، جس ادارے نے کچھ نہیں کیا اس کے بارے میں بھی حکم جاری کریں گے ،عدالت سے باہرہرایک زبان پر کرپشن کے خلاف تحقیقات کامطالبہ ہے، کوئی ادارہ اس سلسلے میں کچھ نہیں کرنا چاہتا، چئیرمین نیب کے اختیارات کا معاملہ عدالت دیکھے گی۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا آپ عدالت کا اختیارسماعت چیلنج کرنا چاہتے ہیں، تو اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ہم نہیں چیلنج کرنا چاہتے لیکن گزشتہ سماعت پریہ تاثر تھا کہ عدالت پہلے اختیارسماعت طے کرے گی اس لیے جواب نہیں کرایا۔

جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ رقم ملک سے باہرجائے تو یہ نیب کامعاملہ بنتا ہے، کیاآپ نے آمدنی سے زائد اثاثہ جات کے کیسز واپس لے لیے جو دائرہ اختیارکی بات کررہے ہیں۔

عمران خان کے وکیل حامد خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ موزیک نامی قانونی فرم پانامہ میں قائم ہے ، جہاں سے معلومات لیک ہوئی،  آئی سی آئی جے نے سیاستدانوں کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات لیک کیں، خفیہ دستاویزات کی لیکیج اور اس کی صداقت سے کسی کو انکار نہیں۔

حامد خان نے کہا کہ مریم ، حسن اور حسین کی آف شور کمپنیوں کی تصدیق آئی سی آئے جے نے کی، کیا قانونی فرم نے دستاویزات کو کنفرم کیا، نیسکون اور نیلسن دو کمپنیوں کی ملکیت مریم صفدر کی ہے جن پر ایڈریس سرور پیلس جدہ کا ہے۔

ہمیں سپریم کورٹ پر مکمل اعتماد ہے، خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آج عدالت نے پیغام دیا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس معاملے پر کوئی فیصلہ ہو ، ہمیں سپریم کورٹ پر مکمل اعتماد ہیں، عدالت کمیشن قائم کرے جو بھی راستی اختیار کرے ہمیں احترام ہے، کمیشن سے سب ڈارائی کلین ہوکر نکلیں گے ، الزامات ہمارے پاس بھی ہے ہم بھی لگائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ 6ماہ پہلے ہی معاملے پر عدالت کو خط لکھا تھا، دو گھنٹے میں ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کریں گے، کمیشن میں جائیں گے تو انکی بھی آف شور کمپنیاں نکلیں گی۔

جس طرح 28 تاریخ کو کمیٹی چوک پہنچا تھا 2 تاریخ کو بھی بنی گالہ پہنچوں گا،شیخ رشید

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مشرف ڈکٹیر تھا لیکن ان لوگوں سے بہتر تھا ، جس طرح 28 تاریخ کو کمیٹی چوک پہنچا تھا 2 تاریخ کو بھی بنی گالہ پہنچوں گا ،سپریم کوٹ آنے والے راستے بند ہے لفٹ لے کر پہنچا ہوں۔

عام شہریوں کے بنیادی حقوق پامال کئے جارہے ہیں، شاہ محمود قریشی

شاہ محمود قریشی کا میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ  عام شہریوں کے بنیادی حقوق پامال کئے جارہے ہیں، کل وفاق اور پنجاب حکومت نے آئین اور قانون کی خلاف ورزی کی۔ چیف جسٹس کے سامنے پانامہ لیکس جیسا اہم کیس موجود ہے ، سپریم  کورٹ تک آنے میں کافی وقت لگا جگہ جگہ ناکے اور بھاری پولیس تعینات ہیں۔

وزیراعلیٰ کے پی کے پر جو بمباری کی گئی اسکی شدید مذمت کرتے ہیں،سراج الحق

امیرجماعت اسلامی سراج الحق نے وزیراعلی پرویزخٹک کے قافلےپر انتظامیہ کی کارروائی کو بمباری قراردیتے ہوئے مذمت کی اور کہا کہ منتخب وزیراعلیٰ کے ساتھ ایسا رویہ فیڈریشن کیخلاف ہے، مسئلے کا حل خودحکومت کے پاس ہے، حکومت ٹی او آرز اور کمیشن بنانے پر راضی ہوجائے۔،

یاد رہے کہ 20اکتوبرکو ان درخواستوں پر سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے وزیراعظم نوازشریف،ان کی بیٹی مریم نواز،داماد ریٹائرڈ کیپٹن صفدر،حسین اور حسن نواز سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کیے تھے اور سماعت ملتوی کردی تھی۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف کےسربراہ عمران خان، امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی جانب سے پاناما لیکس کے حوالے سے درخواستیں دائر کی تھیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں