The news is by your side.

Advertisement

آئی جی سندھ نے پولیس میں غیرقانونی بھرتیوں کا اعتراف کرلیا

کراچی : سپریم کو رٹ کراچی رجسٹری میں کیس کی سما عت کے دوران آئی جی سندھ نے پولیس میں غیرقانونی بھرتیوں کا اعتراف کرتے ہو ئے اس کی ذمہ داری اے ڈی خواجہ پرعائد کردی۔ ساتھ ہی آئی جی سندھ غلام حیدرجمالی نے جسٹس امیرہانی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق تفتیشی فنڈز میں خورد برد اورغیرقانونی بھرتیوں سےمتعلق مقدمات کی سماعت سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ہوئی ۔ آئی جی سندھ کے خلاف ان کے اپنے ہی افسران نے انکوائری رپورٹ پیش کر دی۔

آئی جی سندھ نےکمرہ عدالت میں غیرقانونی بھرتیوں کااعتراف کر لیا اوراے ڈی سلطان خواجہ پرغیرقانونی بھرتیوں کا الزام عائد کردیا۔

اے آئی جی فدا حسین شاہ، غلام حیدر جمالی بھی ذمہ داروں میں شامل ہیں، انکوائری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2013 اور 2014 میں 12000 سے زائد بھرتیاں ہوئی۔

سماعت کے دوران جسٹس خلجی عارف نے کہا عدالت نے فیصلہ دیاتھا کہ پولیس کو سیاست سے پاک کیا جائے لیکن اس کے باوجود سیاسی یا کسی اور بنیاد پر بھرتیاں کی گئیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پولیس کی بھرتیوں میں قواعد و ضوابط نظر انداز کئے گئے۔ بھرتیوں سے متعلق اشتہار ہلچل اور سرمایہ نامی غیر معروف اخبارات میں دیئے گئے۔

کمپیوٹر آپریٹر کو کمپیوٹر آپریٹ کر نا نہیں آتا۔کئی ایسے امیدوار ہیں جن کی ڈیٹ آف برتھ ہی نہیں۔ رپور ٹ میں بتایا گیا ہے تفتیشی فنڈز کی تقسیم میں بھی قوائد و ضوابط کو نظرانداز کیا گیا ۔

ساڑھے 21کروڑ تفتیشی فنڈز میں سے 99فیصد کیش میں تقسیم ہوا۔ رپورٹ کے مطابق ایس ایس پی ویسٹ نے سی پی او کے ذریعے رقم لی جو قواعد کے کیخلاف ہے۔

اے آئی جی فنانس نے 50لاکھ کی گرانٹ جاری کی۔ سماعت کے دوران بنچ نے آئی جی سندھ کی متعصبانہ رویئے سے متعلق تحریری درخواست مستردکردی۔

جسٹس امیر ہانی نے کہا کہ ان کے رویئے سے پریشانی ہے تو آئی جی سندھ نظرثانی درخواست دائرکریں۔ وہ اللہ کو جواب دہ ہیں ۔ بنچ سےخود کو علیحدہ نہیں کریں گے۔

 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں