The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ نےبینکوں سےقرضے معاف کرانےوالے 222 افراد کونوٹسز جاری کردیے

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے بینکوں سے قرضے معاف کرانے والے 222 افراد کو نوٹسز جاری کردیے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بینکوں سے قرضے معاف کرانے سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔

عدالت عظمیٰ میں سماعت کے آغاز پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ گورنر اسٹیٹ بینک نے کمیشن کو رپورٹ جمر کرادی جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ گورنراسٹیٹ بینک خود کہاں ہیں؟۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے بتایا کہ گورنراسٹیٹ بینک اور ان کے وکیل پیش نہ ہوسکے، انہوں نے بتایا کہ کمیشن کے مطابق 84 ارب کے قرض معاف کیے گئے، 222 افراد اور کمپنیوں نے قرض معاف کرائے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تمام 222 افراد کو نوٹس جاری کریں گے، قرض معاف کرنے والے ذمے داران کے خلاف کارروائی ہوگی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ آئندہ سماعت پر کسی کی غیر حاضری قبول نہیں ہوگی، عدالتی حاضری کے لیے پریس ریلیز جاری کرنی پڑے توکریں۔

یاد رہے گزشتہ ماہ 26 اپریل کو قرضہ معافی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ ہمارے پاس 2007 سے زیرالتوا ہے، جنہوں نے سیاسی بنیادوں پر قرض معاف کرائے ان سے وصول کریں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں