جمعہ, اگست 7, 2026
اشتہار

خراب شہرت رکھنے والے جج کو ہٹانا ایسا ہی ہے جیسے جسم سے ناسور نکال دیا جائے، سپریم کورٹ

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (19 جون 2026): سپریم کورٹ نے میلسی میں تعینات ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا۔

سپریم کورٹ نے سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی برطرفی بحال کر دی اور قرار دیا کہ ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی برطرفی کی سزا بحال کی جاتی ہے۔

عدالت عظمیٰ نے عدالتی افسر کی بحالی اور منفی ریمارکس ختم کرنے کی دونوں درخواستیں مسترد کیں۔

9 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس شاہد وحید نے تحریر کیا، جبکہ جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شفیع صدیقی تین رکنی بینچ کا حصہ تھے۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ مسمار کرنے کے سپریم کورٹ فیصلے پر سوالات اٹھا دیے

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ رشوت ثابت نہ ہونے کے باوجود خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا، خراب شہرت ثابت ہونے پر لازمی ریٹائرمنٹ نہیں بلکہ برطرفی ہی مناسب سزا ہے، ٹریبونل نے برطرفی کو لازمی ریٹائرمنٹ میں تبدیل کر کے قانون کی غلط تشریح کی، عوام کا عدلیہ پر اعتماد مجروح ہو جائے تو جج کو منصب پر برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ عدالتی ادارہ صرف حقیقی دیانت نہیں بلکہ دیانت کے تاثر کا بھی تقاضا کرتا ہے، جج کا معیار صرف بے گناہی نہیں بلکہ ہر قسم کے شبہ سے بالاتر ہونا ہے، جج کی ساکھ متاثر ہو تو قانون پر عوام کا اعتماد بھی متزلزل ہو جاتا ہے، جج کی دیانت تقسیم نہیں ہو سکتی وہ یا تو مکمل ہوتی ہے یا بالکل نہیں ہوتی، عدالتی ادارے کی ساکھ کے تحفظ کیلیے خراب شہرت رکھنے والے جج کی برطرفی ضروری ہے۔

’خراب شہرت رکھنے والے جج کو ریٹائرمنٹ فوائد دے کر رخصت کرنا تاثر دیتا ہے کہ دیانت قابل سودے بازی ہے۔ ایسے جج کو ہٹانا ایسے ہی ہے جیسے جسم سے ناسور نکال دیا جائے۔ عوام کا اعتماد عدلیہ کی اصل طاقت ہے، عدلیہ قوت سے نہیں بلکہ اعتماد سے قائم رہتی ہے۔‘

ضلعی عدلیہ کے جج کے خلاف فیصلوں کے بدلے رشوت لینے کی متعدد شکایات موصول ہوئیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے فوری کارروائی کے بجائے خصوصی نگرانی کا حکم دیا۔ سہ ماہی رپورٹس میں جج کی شہرت خراب قرار دی گئی، محکمانہ انکوائری میں بدعنوانی، بدانتظامی اور خراب شہرت کے الزامات کی تحقیقات کی گئیں۔

انکوائری میں رشوت لینے کا الزام ثابت نہ ہو سکا۔ انکوائری میں عدالتی افسر کی خراب شہرت اور مشتبہ دیانت ثابت قرار پائی۔ محکمانہ اتھارٹی نے عدالتی افسر کو ملازمت سے برطرف کیا، سروس ٹریبونل نے برطرفی کی سزا کو لازمی ریٹائرمنٹ میں تبدیل کیا۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں