اتوار, جنوری 18, 2026
اشتہار

طیبہ تشدد کیس ، سابق جج اوران کی اہلیہ کی سزاؤں میں اضافہ کالعدم قرار

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے طیبہ تشدد کیس میں سابق جج اوران کی اہلیہ کی سزاؤں میں اضافہ کالعدم قرار دےدیا اور دونوں کو ٹرائل کورٹ سے ملنے والی ایک ایک سال کی سزا بحال کردی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے طیبہ تشدد کیس میں ملزمان کی اپیلوں پرفیصلہ سنا دیا ، مئی2019میں محفوظ شدہ فیصلہ جسٹس اعجازالاحسن نےپڑھ کرسنایا۔

فیصلے میں سپریم کورٹ نے سابق جج راجہ خرم،اہلیہ ماہین ظفر کی سزاؤں میں اضافے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دی اور راجہ خرم،ماہین ظفر کو ٹرائل کورٹ سے ملنے والی ایک ایک سال کی سزا بھی بحال کردی۔

سپریم کورٹ نے سزاؤں میں مزید اضافے کی حکومتی اپیل پر ملزمان کو نوٹس جاری کیا، نوٹس آرٹیکل 187کاخصوصی اختیار استعمال کرکےجاری کیا ، عدالت نے کہا ملزمان کی سیکشن 328اےکےتحت سزاکیخلاف اپیلیں زیرالتواہیں، اڈیالہ جیل انتظامیہ ملزمان کو عدالتی نوٹس سے آگاہ کرے، رجسٹرار آفس ملزمان کونوٹس ملتےہی اپیل سماعت کیلئےمقررکرے۔

یاد رہے اسلام آباد میں سیشن جج کے گھر کام کرنے والی 10 سالہ گھریلو ملازمہ طیبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، متاثرہ بچی طیبہ نے الزام عائد کیا ہے تھا وہ گزشتہ 2 سال سے اپنے مالکان کے تشدد کا نشانہ بن رہی ہے۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے طیبہ تشدد کیس میں سابق ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی اور ان کی اہلیہ ماہین ظفرکو ایک، ایک سال قید اور50،50ہزار جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں