جمعہ, اپریل 17, 2026
اشتہار

صرف قبضہ یا طویل عرصہ زمین رکھنے سے ملکیت ثابت نہیں ہوتی، سپریم کورٹ

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (26 فروری 2026): سپریم کورٹ آف پاکستان نے 1992 کے مبینہ زبانی معاہدے کی بنیاد پر زمین کی منتقلی سے متعلق کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے درخواست گزار غلام علی کی اپیل منظور کر لی اور ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔

جسٹس شاہد بلال حسن نے فیصلے کا تحریری حکم جاری کیا، جس میں قرار دیا گیا کہ صرف زمین پر قبضہ یا طویل عرصے تک اسے اپنے پاس رکھنا ملکیت ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ زبانی معاہدوں سے متعلق مقدمات میں سخت معیارِ ثبوت لاگو ہوگا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ 1992 کا مبینہ زبانی معاہدہ قانون کے مطابق ثابت نہیں کیا جا سکا۔ عدالت کے مطابق کسی بھی زبانی معاہدے کو ثابت کرنے کے لیے اس کی تاریخ، وقت، مقام، شرائط اور گواہوں کی مکمل تفصیل فراہم کرنا لازمی ہے۔ مزید برآں، عدالتی تحریری مؤقف سے ہٹ کر دی جانے والی شہادت قابلِ قبول نہیں ہوگی۔

مقدمے کے پس منظر کے مطابق مدعیان نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ 1992 میں ان کے والد کے قتل کے مقدمے میں ملزم کی بریت کے بعد فریقین کے درمیان صلح ہوئی۔ دعویٰ کیا گیا کہ جرگے میں یہ فیصلہ ہوا کہ غلام علی 32 کنال زمین مدعیان کے نام کرے گا اور صلح کے بعد زمین کا قبضہ بھی ان کے حوالے کر دیا گیا۔

مدعیان کے مطابق 2016 میں غلام علی نے زمین کا انتقال رجسٹرڈ کرانے سے انکار کر دیا، جس پر انھوں نے عدالت سے رجوع کیا اور مخصوص کارکردگی کا دعویٰ دائر کیا۔ ٹرائل کورٹ نے ابتدائی طور پر مدعیان کا دعویٰ خارج کر دیا تھا، تاہم اپیل میں مخصوص کارکردگی کا دعویٰ منظور کر لیا گیا۔ بعد ازاں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج اور لاہور ہائیکورٹ نے بھی نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔

تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان نے تمام سابقہ فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا کہ زبانی معاہدے کو قانونی تقاضوں کے مطابق ثابت نہیں کیا گیا، اس لیے زمین کی منتقلی کا حکم برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں