The news is by your side.

Advertisement

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کی اسامیاں پُر نہ کرنے پر سپریم کورٹ کا اظہار برہمی

اسلام آباد: سپریم کورٹ کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججوں کی اسامیاں پُر نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا گیا ہے.

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان نے اس معاملے پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشیاق اے خان کی سرزنش کی.

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ عدلیہ مفلوج ہو جائے، نگران دور میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج بڑھانے کی سفارش کی تھی، آج بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں 4 جج کام کر رہے ہیں اور کام اتنا زیادہ ہے.

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ججوں کی تعداد بڑھانے کے لئے کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، بل کا ڈرافٹ پیش کرنا تھا، تب اپوزیشن نے مخالفت کر دی، آرڈیننس کی تجویز زیرغور تھی، لیکن اسمبلی کاسیشن چل رہا ہے.


نجی کالجزواسپتال بزنس ہاؤسزبن چکے ہیں‘ چیف جسٹس


اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ رجسٹرار کو کہتا ہوں، آپ سے وضاحت مانگے یا پھر از خود نوٹس لیتا ہوں،  اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججوں کی تعداد کم ہے، ڈویژن بینچ نہیں بن سکتا، مسئلہ حل ہونا چاہیے.

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اس موقع پر کہا کہ ہائیکورٹ میں ججوں کی خالی اسامیاں فوری پوری کی جائیں‌ گی.

یاد رہے کہ آج چیف جسٹس آف پاکستان نے  سروسز انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں تقریب سے خطاب کرتےہوئے کہا تھا کہ  عوامی مسائل حل کرنے کی بھرپور کوشش کی، میرا مقصد ہمیشہ خلوص پرمبنی رہا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں