The news is by your side.

Advertisement

چیف جسٹس کا کے الیکٹرک کا مکمل آڈٹ اور سی ای او مونس علوی کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا حکم

کراچی : چیف جسٹس گلزار احمد نے کراچی میں غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور کرنٹ لگنےسے اموات پر کے الیکٹرک کا مکمل آڈٹ اور سی ای او کے الیکٹرک کانام ای سی ایل میں شامل کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں کراچی میں غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور کرنٹ لگنے سے اموات پر سماعت ہوئی۔

سپریم کورٹ نے کے الیکٹرک پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کےالیکٹرک کےخلاف تمام مقدمات میں سی ای او کا نام شامل کرنے کا حکم دیا ، چیف جسٹس نے کہا اٹارنی جنرل صاحب سی ای اوکےالیکٹرک کانام ای سی ایل میں شامل کریں۔

چیف جسٹس نے کے الیکٹرک کا مکمل آڈٹ کا حکم دیتےکرنٹ لگنے سےلوگ مررہے ہیں ،پورےکراچی سےارتھ وائر ہٹا دیے، ان لوگوں کے خلاف قتل کا مقدمہ بنتا ہےان کو احساس ہی نہیں ، کراچی کی بجلی بند کریں تو ان کو بند کردیں۔

جسٹس گلزار نے کہا کہ جمعےکومیں آیا توشارع فیصل پر اندھیرا تھا ،لوگ باہر بیٹھے تھے ، ان کو صرف پیسہ کمانے کےلیےلایا گیاتھا؟ ادارے کو تباہ کردیا ، سستا میٹریل لگا یا ، صرف پیسہ کما رہےہیں، پوری دنیا میں آج آپریشنز چلا رہےہیں ، کراچی والوں سے پیسہ لے رہےہیں، اسٹیٹ بینک کو بھی منع کردیتے ہیں ان کا منافع باہر نہ بھیجے۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ نےسی ای او الیکٹرک مونس علوی کو جھاڑ پلا دی اور کہا آپ کوشرم نہیں آتی لوگو ں کوبھاشن دیتے ہیں ؟ بدترین انتظامیہ ہے،نظام پہلےسےبھی بد تر ہوگیا ہے ، کراچی پراجارہ داری قائم نہیں ہونےدیں گے، دوسری کمپنیاں بھی ہونی چاہییں۔

چیئرمین نیپرا نے بتایا کہ ہم نے 5 کروڑ روپے کا جرمانہ کیااور ایکشن لیا ، کے الیکٹرک نے ہمارےایکشن پرعدالتوں سے امتناع لیا ہوا ہے۔

چیف جسٹس نے وکیل کےالیکٹرک سےمکالمے میں کہا کہ آپ بھی کراچی کےشہری ہیں آپ کوبھی احساس ہونا چاہیے ، ابھی 21لوگ مرے ہیں، آپ جا کر امتناع لےلیتےہیں ، جس پر وکیل کے الیکٹرک کا کہنا تھا کہ لوگ گھروں میں مرے ہیں ۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ بجلی کا کوئی نہ کوئی فالٹ ہوتا ہے تو بندہ مرتا ہے ، جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس میں کہا سڑکوں پر بھی لوگ مرے ہیں ،ارتھ وائر ہی ختم کردیے، جس پر چیئرمین نیپرا نے بتایا کہ رننگ وائر میں سے ارتھ وائر نکال دی گئی۔

جسٹس گلزار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا آپ کےغیر ملکی مالکان کی ذہنیت سمجھتےہیں وہ ہمیں غلام سمجھتے ہیں، وہ کچاسمجھتےہیں پاکستانیوں کو،ان کے تو اونٹ کی قیمت بھی پاکستانی سے زیادہ ہے۔

سپریم کورٹ نےکےالیکٹرک کالائسنس منسوخ ہونے پرمتبادل پوچھ لیا اور چیئرمین نیپرا سے استفسار کیا کہ ان کا لائسنس معطل ہوجائےتو آپ کےپاس کیا متبادل ہے ؟ چیف جسٹس نے کہا جب سے انہوں نےٹیک اوور کیا نظام کوتباہ کردیا ہے ، یہ کون ہوتے ہیں آکر ہمیں ،کراچی والوں کوبھاشن دیں ؟ کہتےہیں کراچی والےبجلی چوری کرتے ہیں ،یہ کون ہوتےہیں یہ کہنےوالے؟ کراچی والوں کو بھاشن مت دیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے سی ای اوکےالیکٹرک سے کہا کہ ایک منٹ کیلئے بھی بجلی بند نہیں ہونی چاہیےسمجھےآپ؟ جس پر سی ای اوکےالیکٹرک کا کہنا تھا کہ پچھلے 10سال میں ڈھائی ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔

جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ نمبروں کی بات نہ کریں ،آپ سی ای او ہیں ، کے الیکٹرک نقصان میں جارہی ہے، آپ کومعلوم ہے جب رات میں بجلی بندہوتی ہےتوکیاہوتاہے،چیف جسٹسچھوٹےچھوٹےگھروں میں بجلی نہ ہوتوکیاہوتاہے؟ عورتیں دہائیاں دیتی ہیں آپ لوگوں کی، آپ پوری دنیا میں ڈیفالٹرہیں ،لندن میں کیا ہوا آپ کے ساتھ؟ وہاں تو اپ لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور گردن دبوچ کر پیسے لئے گئے ، لوگوں کی بجلی بند نہیں کریں گے،بجلی بند کرنا ہے تو اپنےدفاتر کی کریں۔

کراچی میں غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور کرنٹ لگنےسے اموات پرسماعت میں چیف جسٹس نے کہا کے الیکٹرک کی ساری انتظامیہ کےخلاف کاروائی کی جائے، ایک ایک منٹ کی کی بجلی کی تقسیم پرنظر رکھیں، پیسہ یہ ہم سےسو گنا لیتے ہیں اور میٹریل سستا لگایا ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس میں کہا کہ دنیابھر میں جو اپنا نظام چلا رہے ہیں وہ کراچی سے چلا رہے ہیں، آپ بھاشن دیتےہیں،قوم نےاعتماد کیا،آپ نےیہ صلہ دیا؟ بھارت میں بورڈہےجو ایسی صورت حال میں ٹیک اوور کرتاہے، بجلی نہیں ہوتی تو خواتین بد دعائیں دیتی ہیں۔

دوران سماعت چیئرمین نیپرا کا کہنا تھا کہ قانونی طورپرتحقیقات کی اجازت مل گئی،کےالیکٹرک کاازسرنو جائزہ لیں گے، ہم کے الیکٹرک کو 200ملین تک کا جرمانہ کرسکتے ہیں ، معلوم تھا ڈی جی نیپرا کو طلب کیا گیامگر میں خود عدالت چلاآیا ، ہم کے الیکٹرک کا مکمل آڈٹ کریں گے ، جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ اپنے ادارے کا بھی آڈٹ کرالیں۔

سماعت میں اےجی سندھ نے کہا کہ جب کےالیکٹرک کی نجکاری ہوئی تووفاق نےکہا تھا بجلی نہیں کاٹیں گے ، سندھ ہائی کورٹ کافیصلہ ہےکہ واٹر بورڈ کے پیسے وفاق نے دینے ہیں، جس پر وکیل کے الیکٹرک نے بتایا کہ ہم نے لائن لاسزز کم کرکے 19 فیصد کر دیےہیں۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ریمارکس میں کہا آپ کی جو ذمےداری ہے وہ پیسے ادا کریں، امن ایمبولینس کی 4ارب کی لگژری گاڑیاں لیتے ہیں، اس میں دو ارب روپے کی پولیس کی گاڑیاں ہیں، ایمبولینس منگوائیں ،فائر بریگیڈ ،کچرا اٹھانے والی گاڑیاں منگوائیں۔

فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا مسئلہ نیپراکےقانون کا ہے جو لاگو نہیں کرتے ،جس پر چیف جسٹس نے مکالمے میں کہا آپ غریب آدمی کو 20ہزار کا بل بھیج دیتے ہیں ، تو فیصل صدیقی کا کہنا تھا کہ کس قانون کےتحت ایک بجلی چور کی سزا پورے علاقے کودیتےہیں ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جیسی سروس دیتے ہیں ویسالوگ آپ سے برتاؤکرتے ہیں۔

فیصل صدیقی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ کوئی بتائے کہاں بارش میں اتنے لوگ مرجاتے ہیں ، چیئرمین نیپرا نے کہا میں بطور چیئرمین خود زمینی حقائق بتانے آیا ہوں ، جس پر چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ریمارکس میں کہا آپ اپنے ادارے کےبھی زمینی حقائق بتائیں۔

غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ پر سپریم کورٹ نے حکم نامہ جاری کردیا ، جس میں کہا گیا کرنٹ لگنے کامقدمہ کے الیکٹرک حکام کے خلاف درج کیا جائےگا، کوئی بھی واقعہ ہوتوسی ای او سمیت تمام حکام کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے نیپرا کی کارروائی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ کے جاری حکم امتناع کی تفصیل طلب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کوبجلی سےمتعلق ٹریبونلز فعال کرنے کےاقدامات کی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس نے سی ای او کےالیکٹرک سے مکالمے میں کہا آپ کےپاس لوڈشیڈنگ کااختیار نہیں ، بجلی کی کمی ہے تو خرید یں اور لوگوں کو دیں ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس میں کہا آپ شارٹ فال پوراکرنے کےلیےبجلی پیدا کریں۔

جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ آپ کو لوڈشیڈنگ کےلیےنہیں لایا گیا ہے ، آپ کےمالک جوباہربیٹھے ہیں ان کاسوچ رہے ہیں، جس پر سی ای اوکےالیکٹرک نے کہا ہم کوئی پیسہ باہر نہیں بھیجتے ، ریکارڈ دیکھ لیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے مزید کہا سب انڈر ہینڈہوجاتاہےبیگ بھر بھرکےیہاں سےپیسہ چلاجاتاہے، اگر نقصان ہو رہا ہے تو جائیں یہاں سے ، ہم کچھ نہیں جانتےہم لوڈ شیڈنگ برداشت نہیں کریں گے۔

سی ای اوکےالیکٹرک نے کہا ہم کوئی پاورپلانٹ اپنی مرضی سےنہیں لگاسکتے، جس پر چیئرمین نیپرا کا کہنا تھا کہان کا ایس ایس جی سی ، پی ایس او سے معاہدہ نہیں ، ان کے پاس پیٹرولیم ذخیرہ کرنےکابندوبست نہیں۔

جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس میں کہا کہ آپ ریگولیٹری باڈی ہیں آپ کرائیں ، سی ای اوکےالیکٹرک نے عدالت کو بتایاہم نے 73 فیصد علاقے میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر دیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کیابات کرتے ہیں،میرے علاقے میں روز بجلی جاتی ہے، سی ای او نے جواب دیا کہ اچھاسر میں چیک کرا لیتا ہوں۔

سپریم کورٹ نےکےالیکٹرک سے جمعرات کومکمل ٹائم لائن طلب کرتے ہوئے بجلی پیدا کرنےکی استعداد،موجودہ پیداوار اور طلب کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کردی اور سماعت جمعرات تک ملتوی کردی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں