ہفتہ, جون 13, 2026
اشتہار

کیا سسر کی جائیداد بہو کو حق مہر میں دی جا سکتی ہے؟ اہم فیصلہ جاری

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : سپریم کورٹ میں حق مہر میں سسر کی جائیداد کی شمولیت کے تنازع پر جسٹس مسرت ہلالی نے اہم فیصلہ جاری کردیا۔

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے حق مہر میں سسر کی جائیداد شامل کرنے سے متعلق ایک اہم تنازع پر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کسی بھی تیسرے شخص کی ملکیت کو اس کی رضا مندی کے بغیر حق مہر کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔

جسٹس مسرت ہلالی نے کیس کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا۔

عدالت نے واضح کیا کہ جائیداد چاہے سسر کی ہی کیوں نہ ہو، مالک کی اجازت کے بغیر اسے بہو کے حق مہر میں لکھنا قانونی طور پر غلط ہے۔

سپریم کورٹ نے مدعیہ کے حق میں جاری ہونے والی ایک کنال پلاٹ کی ڈگری منسوخ کر دی، ریکارڈ کے مطابق رنگ روڈ پشاور پر واقع یہ پلاٹ سسر کی ملکیت تھا اور اس نے اسے دینے کی رضا مندی نہیں دی تھی۔

عدالت نے مشاہدہ کیا کہ نکاح کے بعد تیار کردہ ‘کابین نامہ’ قانونی طور پر ثابت نہیں ہو سکا۔ گواہان دستاویز کی تیاری اور دستخط کے وقت اپنی موجودگی ثابت کرنے میں ناکام رہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ فیملی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ نے شواہد کو درست طریقے سے نہیں پڑھا اور ملکیت کے اہم پہلو کو نظر انداز کیا، جس کی وجہ سے قانونی غلطی ہوئی۔

عدالت نے حق مہر میں شامل ایک کنال پلاٹ کی حد تک تمام سابقہ فیصلے کالعدم قرار دے دیے گئے، حق مہر میں شامل دیگر اشیاء بشمول 5 لاکھ روپے اور سونے کے زیورات کی حد تک سابقہ فیصلے برقرار رکھے گئے ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں