The news is by your side.

Advertisement

جرگے اور پنچائتیں آئین اور قانون کے دائرے میں کام نہیں کرتے: سپریم کورٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان کا کہنا ہے کہ جرگے اور پنچائتیں آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کام نہیں کرتے، جرگے اور پنچائتیں محدود حد تک ثالثی، مذاکرات اور مصالحت کر سکتی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں غیر قانونی جرگوں سے متعلق کیس کی سماعت قائم مقام چیف جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ پنجاب میں غیر قانونی جرگے کا کوئی کیس نہیں ہے۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ کبھی کبھار پنجاب سے بھی جرگے کے کیس آجاتے ہیں، عدالت کی ہدیات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ حکومت پاکستان کے جو عالمی معاہدے ہیں ان کے مطابق جرگے غیر قانونی ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جس طرح جرگے منعقد کیے جاتے ہیں وہ آئین کے آرٹیکل 4، 8، 10 اے، 25 اور 175(3) سے بھی متصادم ہیں۔

عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ جرگے اور پنچائتیں آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کام نہیں کرتے، جرگے اور پنچائتیں محدود حد تک ثالثی، مذاکرات اور مصالحت کر سکتی ہیں۔ کسی جرگے کو بھی فوجداری اور سول عدالت کے برابر کا مرتبہ حاصل نہیں۔

عدالت نے چاروں صوبائی اور گلگت بلتستان حکومت سے جرگوں سے متعلق 6 ہفتوں میں پیشرفت رپورٹ طلب کر لی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں