The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ کا ذہنی امراض کےاسپتال کی حالت زارپراظہارتشویش

لاہور: سپریم کورٹ آف پاکستان نے لاہور میں ذہنی امراض کے اسپتال کی حالت زار سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران اسپتال کوپاگل خانہ یا مینٹل اسپتال کہنے سے روک دیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں ذہنی امراض کے اسپتال کی حالت زار سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی۔

عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران عدالتی معاون عائشہ حامد اورظفرکلا نوری نے رپورٹ پیش کی۔ عدالت نے اسپتال کی حالت زار پرتشویش کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا کہ جلد اس معاملے پرمیڈیکل بورڈ بنایا جائے گا۔ انہوں نے اسپتال میں زیر علاج بھارتی خاتون سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔


چیف جسٹس کا مینٹل اسپتال کا دورہ ‘ انتظامیہ کی دوڑیں لگ گئیں

خیال رہے کہ آج صبح چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے لاہور میں ذہنی امراض کے اسپتال کا دورہ کیا اور وہاں اسپتال انتظامیہ کی جانب سے مریضوں کو فراہم کی جانے والی ادویات وسہولیات کا جائزہ لیا اور مریضوں کی عیادت کی۔

چیف جسٹس آف پاکستان کے اسپتال پہنچنے پر لوگوں نے شکایات کے انبار لگا دیے جس پر انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی وزیرصحت خواجہ سلمان رفیق سے کہا کہ خواجہ صاحب آپ پیچھے پیچھےکیوں ہیں، آگے آکربتائیں مریض شکایت کررہے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے مینٹل اسپتال میں خالی اسامیوں اور بدانتظامی پرازخود نوٹس لیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں