The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ نے حکومت کی نئی حج کوٹہ پالیسی مسترد کردی

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے حکومت کی نئی حج کوٹہ پالیسی کو مسترد کر کے سابقہ پالیسی کے تحت پرائیوٹ ٹور آپریٹر کے 50 فی صد کوٹہ کو بحال کردیا۔

تفصیلات کے مطابق سپرہم کورٹ کےچیف جسٹس انور جمالی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے حج پالیسی  مقدمے کی سماعت کی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ حکومت نے حج ٹور آپریٹر کو ان کے کوٹے سے محروم کردیا ہے۔

حکومت نے اس سال حج پرائیوٹ آپریٹرز کا کوٹہ 50 فیصد سے کم کر کے 40 فی صد کردیاتھا جس کے خلاف ٹور آپریٹرز نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

کیس کی سنوائی کے موقع پر اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیاکہ حکومت حاجیوں کے لئے بہترین وسستا انتظام فراہم کرتی آئ ہےجبکہ پرائیوٹ ٹوورزحاجیوں پہ اضافی مالی بوجھ ڈالتے ہیں۔ انہی شکایتوں کی وجہ سےحکومت نے کوٹہ 50 فی صد سے کم کر کے 40 فی صد کیا۔ تاہم اٹارنی جنرل کی دلیل کارگر ثابت نہ ہو سکی اوراعلی عدالت نے پرائیوٹ ٹورز کے سابقہ کوٹہ کو بحال کرنے کا حکم صادرکیا۔

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے  ایک ماہ قبل ہی حج پالیسی 2016کا اعلان کیا تھاجس میں حکومتی کوٹہ 50 فی صد سے بڑھا کر 60 فی صد اور ٹور پرائیوٹ آپریٹررز کا کوٹہ 50 فی صد سے کم کر کے 40 فیصد کر دیا تھا۔

مذید تفصیلات بتاتے ہو ئے ان کا کہنا تھا کہ اس سال ایک لاکھ43 ہزار افراد حج ادا کریں گے جس میں سرکاری اسکیم کے تحت 86 ہزار سے زائد اورنجی اسکیم پر 46 ہزار 210 افراد حج کریں گے جب کہ کوٹہ سسٹم کے تحت 57 ہزار افراد حج کی سعادت حاصل کرسکیں گے۔

ٰٰٰسرکاری اسکیم کے تحت حج درخواستیں 18 سے 26 اپریل تک وصول کی جائیں گی اور قرعہ اندازی 29 اپریل کو ہونا تھی۔

پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے وزیرِ مذہبی امور نےمزید بتایا تھا کہ پنجاب اور خیبرپختونخواہ سے حج پر جانے والوں کو 2 لاکھ 70 ہزار اور سندھ اور بلوچستان سے جانے والوں کو 2 لاکھ 61 ہزار روپے ادار کرنا ہوں گے جب کہ گزشتہ پانچ سال سے حج کرنے والے اس سال جانے کے اہل نہیں ہوں گے۔

عدالتی فیصلے سے پالیسی پرغیر یقینی صورتِ حال کا خاتمہ تو ہوگیا پردیکھنا یہ ہے کہ حکومت عدالتی حکم پر عمل کرتے ہوئے پرائیوٹ حج آپریٹرز کو 50 فی صد کوٹہ دینے کے حکم پر عمل کب کرتی  ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں