The news is by your side.

سپریم کورٹ کا سزائے موت کے دو قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم

اسلام آباد : سپریم کورٹ آف پاکستان نے شک کا فائدہ دے کر سزائے موت کے دو قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم دے دیا، ملزمان نے سزائے موت کے خلاف اپیلیں دائر کی تھیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے دو ملزمان کی سزائے موت کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی۔

وکیل اپیل کنندگان نے کہاکہ پہلے مرحلے میں ملزمان کا نام ایف آئی آر میں درج نہیں کیا گیا،ایف آئی آر نامعلوم افراد کے نام پر درج کی گئی،بعد میں سزا یافتہ ملزمان محمد اویس اور شبیر احمد کو شامل تفتیش کیا گیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے شک کا فائدہ دے کر ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دےدیا۔

یاد رہے کہ ملزمان پر الزام تھا کہ 23 اکتوبر 2005 کو دو بھائیوں نعیم اور ندیم کا قتل کیا،پولیس نے ملزمان کو 23 نومبر 2005 کو گرفتار کیاایڈیشنل سیشن جج ساﺅتھ کراچی نے ملزمان کو پھانسی کی سزا سنائی اور ہائی کورٹ نے سزا کو برقرار رکھا۔

مزید پڑھیں :  چیف جسٹس نے 52 مرتبہ سزائےموت پانے والے ملزم کو بری کردیا

بعد ازاں ملزمان محمد اویس اور شبیر احمد نے سزائے موت کے خلاف اپیلیں دائر کی تھیں۔

یاد رہے گذشتہ ماہ کے آغاز میں چیف جسٹس آصف کھوسہ نے  شک کا فائد ہ دیتے ہوئے 52 مرتبہ سزائےموت پانے والے ملزم صوفی بابا کو بری کردیا تھا ،  ملزم بہرام عرف صوفی بابا پر خودکش بمبار تیار کرنے کا الزام تھا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا خود کش حملہ کرنے والا بچہ درحقیقت خود نشانہ بنتا ہے ، ملزم کے بیان کے مدنظر پولیس نے کوئی ثبوت نہیں دیا، ملزم خود کش حملےکے موقع پر موجود نہیں تھا، ملزم کے خلاف پراسیکوشن نے کوئی ثبوت نہیں دیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں