The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ کا سندھ ریونیو کو تمام قبضے ختم کرانے کا حکم

کراچی : سپریم کورٹ نے سندھ ریونیو کو تمام قبضے ختم کرانے اور اینٹی انکروچمنٹ سیل کو فعال بنانے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں ملک بھر کی ریونیو اراضی کو کمپیوٹرائزڈ کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

سماعت میں چیف جسٹس پاکستان نے سندھ ریونیو کو تمام قبضے ختم کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا ابھی بھی بڑے پیمانے پر ریونیو اراضی پرقبضے ہیں، بتایا جائے کراچی میں ریونیو کی کل کتنی اراضی پر قبضے ہیں۔

عدالت نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو جامع رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے ریونیو ریکارڈ میں 2 لاکھ سے زائد مشتبہ اندراج پر بھی کارروائی کی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس میں کہا عام شخص کوتو داخل ہی نہیں ہونے دیا جاتا ریونیو میں، ریونیو ریکارڈ تک عام فرد کا تو داخلہ ہی ممکن نہیں، جس پر جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ عام آدمی کا داخلہ نہیں ہوگا تووہ کیسے معلومات لےگا تو سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے بتایا یکارڈ کوویب سائٹ پر بھی ڈال دیا گیا ہے۔

دوران سماعت خیبر پختونخواہ ریونیو کی پیش رفت رپورٹ جمع کرا دی گئی،چیف جسٹس سپریم کورٹ نے استفسار کیا سندھ ریونیو کی رپورٹ کہاں ہے؟

جس پر ممبر بورڈ آف ریونیو سندھ نے بتایا کہ 95فیصدریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کر دیا گیاہے، صوبائی ریکارڈسیل کاڈیٹابھی کمپیوٹرائزڈ کردیا گیا جبکہ 2 لاکھ سے زائد مشتبہ اندراج کوبلاک کیاگیاہے۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ مشتبہ اندراج پر کچھ طے تو کیا نہیں، جس زمین سےقبضے ختم کرائے ان کومحفوظ کیسے بنا رہے ہیں، جس پر شمس الدین سومرو نے کہا متعلقہ ادارےہی اپنی اپنی زمینوں کےتحفظ کی ذمے دارہیں۔

سپریم کورٹ نے اینٹی انکروچمنٹ سیل کو فعال بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا سرکاری اراضی پر جہاں بھی قبضہ ہو، خالی کرایا جائے جبکہ اور سینئرممبربورڈآف ریونیو کوعمل درآمد کرکے رپورٹ جمع کرانےکی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس نے سندھ بھر کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو فوری کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا سندھ پبلک پراپرٹی ریموول آف انکروچمنٹ کاتوکردار ہی نہیں، جس پر سینئر ممبر بورڈآف ریونیوشمس الدین سومرو نے بتایا اینٹی انکروچمنٹ فورس بنی ہوئی ہے، شہری سیل میں شکایت کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے ریونیو کیس کی سماعت آئندہ سیشن کے لیے ملتوی کردی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں