The news is by your side.

Advertisement

‘پرُامن احتجاج آئینی حق ہےلیکن ریاست کی اجازت ضروری ہے’

سپریم کورٹ آف پاکستان نے احتجاج سے متعلق فیصلے میں قرار دیا ہے کہ پرامن احتجاج آئینی حق ہے لیکن ریاست کی اجازت ضروری ہے پرامن احتجاج کیلئےاجازت دےدینی چاہیے۔

سپریم کورٹ کاتحریری فیصلہ احتجاج سےمتعلق اسلام آباد ہائیکورٹ بار کی درخواست پر سپریم کورٹ نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ 12صفحات پرمشتمل فیصلہ چیف جسٹس عمرعطابندیال نے تحریر کیا ہے۔

فیصلے کے مطابق آرٹیکل 15 اور 16کی روشنی میں پابندی نہ ہوتواحتجاج کی اجازت ہونی چاہیے کسی کوقانونی عذر کے بغیراحتجاج کےحق سےمحروم نہیں کیاجاسکتا جب کہ حکومتی اہلکارکوعوام کی زندگی میں رخنہ ڈالنے کاحق حاصل نہیں حکومت کسی کی جان اور پراپرٹی کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔

عدالت نے واضح کیا کہ 25مئی کے فیصلے نے مشترکہ حقوق، عوام اور ریاست میں توازن پیدا کیا اعتبار کر کے اچھی نیت کیساتھ توازن پیدا کرنےکی کوشش کی لیکن افسوس کی بات ہےہماری نیک نیتی کوعزت نہیں دی گئی۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت اور مظاہرین نےاحتجاج ختم کر دیا ہے لانگ مارچ کےختم ہونے کے بعد تمام شاہراہوں کوکھول دیاگیا آزادانہ نقل و حرکت میں کوئی رکاوٹ نہیں عدالت درخواست دائر کرنے کا مقصد پورا ہو چکا ہے۔

سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے میں جسٹس یحیٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ بھی شامل ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں