The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کا دھرنا روکنے کیخلاف درخواست مسترد کردی

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو دھرنے سے روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے دائر درخواست پر فریقین کو نوٹسسز جاری کردیے، چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق دو نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کے معاملے پر کیس کی سماعت چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی، ایڈووکیٹ طارق نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے پانامہ لیکس کیس میں تحریک انصاف کے دو نومبر کے احتجاجی دھرنے کو روکنے کیلئے ایک متفرق درخواست درخواست دائر کررکھی ہے۔

دھرنے کو روکنے سے متعلق درخواست کی سماعت کیلئے مختصر تاریخ دی جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا اب یہ کام بھی ہم نے کرنا ہے ؟ جن کا کام ہے وہ خود کریں ، سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے، عدالت وفاق ،وزیر اطلاعات و نشریات ،چیئرمین پیمرا سمیت فریقین کو نوٹسسز جاری کردیئے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ اگر حکومت بنیادی حقوق کے نفاذ میں ناکام ہوئی تو مداخلت کریں گے، چیف جسٹس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ یہ درخواست قبل ازوقت ہونے کی بناء پر خارج کی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ  درخواست میں کہا گیا ہے کہ احتجاج کرنا بنیادی آئینی حق ہے لیکن آئین کسی کو دوسرے کے بنیادی حقوق سلب کرنے کی اجازت نہیں دیتا، شہرکو بند کرنے سے عام شہریوں کی روزمرہ کی زندگی مفلوج ہوجائے گی اور امن و امان کی صورتحال بگڑ سکتی ہے، اس لئے تحریک انصاف کو دھرنے سے روکا جائے۔

پانامہ لیکس معاملہ، وطن پارٹی کی درخواست مسترد

دوسری جانب سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس معاملے کو پارلیمنٹ کے ذریعے حل کروانے سے متعلق وطن پارٹی کی درخواست پر سماعت ہوئی تو اُنکے وکیل نے کہا کہ حکومت کو جوڈیشل کمیشن بنانے کی اجازت نہ دی جائے یہ کام پارلیمنٹ کو کرنا چاہیے، ملک کی عوام کو خوف زدہ کیا جارہا ہے، دھرنا دینے سے روکا جائے۔

وطن پارٹی کے وکیل نے عدالت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو بھی دھمکایا جارہا ہے، جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ ہمیں کوئی دھمکا نہیں سکتا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم کسی سیاسی معاملے میں ملوث نہیں ہونگے اگر انتظامیہ بنیادی حقوق کی فراہمی میں ناکام ہوئی تو ہم ضرور مداخلت کریں گے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کا معاملہ عدالت میں نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم جوڈیشل کمیشن کا معاملہ تو ہم پہلے ہی واپس کرچکے ہیں ۔عدالت نے وطن پارٹی کی درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ یہ درخواست قبل از وقت ہے او رمفاد عامہ کے تحت نہیں سن سکتے۔


مزید پڑھیں : بدھ 2 نومبر کو اسلام آباد بند کردیں گے،عمران خان


واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ نے اعلان کیا تھا کہ 2 نومبر کی دوپہر 2 بجے سے دارالخلافہ کو بند کرنا شروع کردیں گے، دھرنا وزیر اعظم کے استعفیٰ تک جاری رہے گا،کوئی ہمارے پُرامن احتجاج کے سامنے نہ آئے ورنہ نتائج کا ذمہ دار خود ہوگا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں