The news is by your side.

Advertisement

عمران خان کے خلاف کارروائی کی اجازت دینے کی حکومتی استدعا مسترد

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے عمران خان کے خلاف کارروائی کی اجازت دینے کی حکومتی استدعا مسترد کردی، عدالت نے کہا حکومت کل کےعدالتی حکم کو مدنظر رکھ کراپناکام خود کرے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کیخلاف قانونی کارروائی کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی ، چیف جسٹس کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پہلےعدالت اٹارنی جنرل کوسنناچاہتی ہے ، جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اسلام آبادہائی کورٹ بار نے عوامی مفاد کی درخواست دائرکی تھی، سپریم کورٹ نےاس درخواست پرعبوری حکم نامہ دیا، پی ٹی آئی وکیل نےقیادت کی ہدایات پرعدالت کویقین دہانی کرائی، پی ٹی آئی نے جس جگہ کاتقاضا کیاعدالت نےاس کی اجازت دی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آئین کےآرٹیکل16،15اور17کےتحت عوام کےآئینی حقوق ہیں، سپریم کورٹ کےعبوری حکم نامےنےتوازن قائم کیا، پی ٹی آئی نے حالیہ دنوں میں متعددجلسےاورریلیاں کیں، اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے33جگہوں پرریلیاں اورجلسے کیے۔

چیف جسٹس نے کہا سرکاری اورنجی املاک کونقصان پہنچاناغلط ہے اور استفسار کیا کیا راستے کھل گئے ہیں، جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جی راستےکھول دیےگئےہیں۔

جسٹس عطا بندیال نے کہا تحریک انصاف نےعدالت میں یقین دہانی کی خلاف ورزی کی ، ہم اس پربعدمیں آئیں گے، اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کروڑوں مالیت کےسرکاری ونجی املاک کونقصان پہنچایاگیا، چیف کمشنراس کاتخمینہ دیں گے۔

چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ایگزیکٹوآئینی حدودمیں رہتےہوئےاپناکام جاری رکھیں، گزشتہ روزہماری ٹی وی کی لائن منقطع ہوگئی،نہیں معلوم صبح کیاہوا ، تو اٹارنی جنرل نے کہا چیئرمین تحریک انصاف ریڈزون سے کچھ فاصلے پرموجودتھے، انہوں نےخطاب کیامیں نےاپناذہن بدل دیااب دھرنانہیں دوں گا اور حکومت کو6دن کی مہلت دی اسمبلیاں تحلیل اورالیکشن کااعلان کریں۔

اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ عمران خان نےمظاہرین کومنتشرہونےکابھی نہیں کہا، تحریک انصاف نےعدالتی حکم کی کھلی خلاف ورزی کی ہے، جس پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ ہماراکام عوام کےحقوق کویقینی بناناہے، ہم نے ریاست کوآئینی حقوق کی خلاف ورزیوں سے روکا، لوگوں کےگھروں پرچھاپےنہ مارنےاورگرفتارنہ کرنے کاکہا۔

جسٹس عطا بندیال کا کہنا تھا کہ ہم نےقانون نافذکرنےوالےاداروں کوہرممکن اقدام کرتےدیکھاہے، سپریم کورٹ نےآئینی حقوق کےتحفظ کیلئےیہ کیس سنا ہے۔

سپریم کورٹ نےتوہین عدالت سمیت تمام درخواستیں نمٹا دیں ، چیف جسٹس نے کہا کیس کاحکم نامہ جاری کرینگےجومستقبل کیلئےمثال بنے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کسی پر الزام لگانے کیلئےکارروائی نہیں کررہے، عدالت نے صرف آئینی حقوق کی خلاف پر حکم جاری کیاتھا، علم میں آیا ہے کہیں شیلنگ ہوئی لوگ زخمی بھی ہوئے ، جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حکومت کو کل رات فوج طلب کرناپڑی۔

جسٹس عطا بندیال نے کہا کہ عوام کے آئینی حقوق لامحدود نہیں ہوتے، عدالتی حکم میں فریقین میں توازن کی کوشش کی گئی، پی ٹی آئی کے تمام جلسے پر امن تھے، پی ٹی آئی پچھلے کچھ عرصے میں 33 جلسے کرچکی ہے، توقع ہے پی ٹی آئی کو اپنی ذمہ داری کا بھی احساس ہوگا۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کل 31 پولیس اہلکار پتھراؤ سے زخمی ہوئے، فائر بریگیڈاور بکتر بند گاڑیوں کو بھی آگ لگائی گئی، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کل سڑکوں پر صرف کارکنان تھےلیڈر شپ نہیں تھی، آنسو گیس سے بچنے کے لیے آگ لگائی گئی، کارکنان کو قیادت روک سکتی تھی جو موجود ہی نہیں تھی۔

چیف جسٹس نے واضح کیا کہ عدالت کا کوئی ایجنڈا نہیں ہے، حکومت،تحریک انصاف کواخلاقی سپورٹ چاہیے توباہمی اعتمادقائم کرے، سیاسی کشیدگی سے ہمیشہ ملک کا نقصان ہوتا ہے، عدالت ٹھوس وجہ پر ہی سیاسی نوعیت کے معاملےمیں مداخلت کرے گی ، قانون ہاتھ میں لیکرسسٹم کیلئےخطرہ بننےسےملک کانقصان ہوتاہے، ممکن ہے عمران خان کو پیغام درست نہ پہنچا ہو۔

دوران سماعت اٹارنی جنرل کی پیش کردہ ویڈیو کلپ عدالت میں چلائی گئی، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا عمران خان کے اس پیغام کے بعد کیا ہوا یہ بتائیں، عدالت آئین کی محافظ ہے، تحریک انصاف کے تمام جلسے پرامن تھے، توقع ہے تحریک انصاف کو اپنی ذمہ داریوں کابھی احساس ہوگا۔

اٹارنی جنرل نے کا کہنا تھا کہ عوام کو بغیر قیادت ہی گھروں سے نکلنے کی کال دی گئی تھی تو چیف جسٹس کا ریمارکس میں کہنا تھا کہ دیکھنا ہوگا وکلا عمران خان سے رابطہ کرسکتے تھےیا نہیں، عدالت نے فریقین میں اعتماد پیدا کرنے کی کوشش کی تھی، عدالت کی اس کوشش کو دھچکا لگا، کل عدالت نے شہریوں کے تحفظ کی کوشش احتجاج سے پہلے کی، عمومی طور پر عدالتی کارروائی واقعہ ہونے کے بعدہوتی ہے۔

اٹارنی جنرل نے استدعا کی عدالت نے اس معاملے میں خود ثالث بننے کی ذمہ داری لی، جس پرچیف جسٹس نے کہا تحریک انصاف کو بھی حکومت پر کئی تحفظات ہوں گے، اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ عدالت کو کرائی گئی یقین دہانیوں کی خلاف ورزیاں ہوئیں۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس میں کہا کہ جو کچھ کل ہوا وہ آج ختم ہوچکا ہے، عدالت انتظامیہ کے اختیارات استعمال نہیں کرتی، عدالت عوام کے تحفظ کے لئے ہر وقت دستیاب ہے، عوام کے تحفظ کے لئے ہی چھاپے مارنے سے روکا تھا، عدالت چھاپے مارنے کے خلاف اپنا حکم برقرار رکھے گی۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمے میں کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب حکومت قانون کے مطابق اپنا کام کرے، کل ہماری ٹی وی لائنز بھی بند کردی گئی تھیں، حکومت عدالتی احکامات کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرے۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آج ڈی چوک سے کچھ پہلے عمران خان نے تقریر کی، عمران خان نے دھرنا دینےکے بجائے 6 دن کی ڈیڈ لائن دی، عمران خان نے کارکنوں کو واپس جانے کا نہیں کہا، کرورڑوں روپے کی سرکاری اراضی کو تباہ کیا گیا، کارروائی نہ ہوئی تو کل عدالتی یقین دہانی پرعمل نہیں کرے گا۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے امریکا صدارتی الیکشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا امریکا میں بھی صدارتی الیکشن میں ایسا واقعہ ہوا تھا، کل عام لوگ نکلے ہوئے تھے جنھوں نے غیرذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کیا جلسے کا مقام اب بھی دستیاب ہے؟ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ عدالت حکم دے گی تو گراؤنڈ دستیاب ہوجائے گا، مسئلہ یہ ہے کہ تحریک انصاف گراؤنڈ میں جائے تو سہی۔

فی الحال یہ کیس نمٹا رہے ہیں کیونکہ راستے کھل چکے ہیں، عدالت نے ضروری سمجھا تو دوبارہ کیس بحال کردیں گے۔

سپریم کورٹ نے عمران خان کیخلاف کارروائی کی حکومتی درخواست اور رکاوٹیں ہٹانے کیلئے دائر اسلام آباد ہائیکورٹ بار کی درخواست نمٹا دی۔

سپریم کورٹ نے عمران خان کے خلاف کارروائی کی اجازت دینے کی حکومتی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا حکومت کل کےعدالتی حکم کو مدنظر رکھ
کر اپنا کام خود کرے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں