The news is by your side.

Advertisement

پنجاب کے بلدیاتی ادارے بحال کرنے کا حکم

اسلام آباد: عدالت عظمیٰ نے دو سال قبل معطل کئے پنجاب کے بلدیاتی اداروں سے متعلق بڑا اور تاریخ ساز فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے بلدیاتی ایکٹ کے سیکشن 3 کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو بحال کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا کہ پنجاب کی بلدیاتی حکومتیں بحال کی جائیںم عوام نے بلدیاتی نمائندوں کو پانچ سال کے لیے منتحب کیا، ایک نوٹیفیکشن کا سہارا لے کر انہیں گھر بھجوا نے کا اجازت نہیں دے سکتے۔

چیف جسٹس نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا کہ آرٹیکل140کے تحت قانون بنا سکتے ہیں مگر ادارے کو ختم نہیں کر سکتے، اٹارنی جنرل صاحب آپ کو کسی نے غلط مشورہ دیا ہے، حکومت کی ایک حیثیت ہوتی ہے چاہے وہ وفاقی صوبائی یابلدیاتی ہو۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اختیار میں تبدیلی کرسکتے ہیں اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

تاریخ ساز فیصلے سے قبل وکیل پنجاب حکومت قاسم چوہان نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ پنجاب میں بلدیاتی الیکشن نہ ہونے کی وجہ کرونا بھی ہے، جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دئیے کہ بلدیاتی اداروں کو ختم کرنے کے بعد پھر انتخابات کا اعلان ہوا، اس کے بعد 21ماہ کی توسیع کی گئی اور اب آپ اسے اب مشترکہ مفادات کونسل سے مشروط کررہے ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ وفاق، صوبائی،بلدیاتی حکومتوں کو محدود مدت کیلئے ختم کیا جاسکتا ہے، مگر آپ نے عوام کو ان کے نمائندوں سے محروم کردیا ہے اس موقع پر وکیل پنجاب حکومت نے اپنے موقف دہرایا کہ کرونا کی وجہ سے دوبارہ انتخابات میں تاخیر ہوئی تو جسٹس اعجازِ الحسن نے ریمارکس دئیے کہ کیا گلگت بلتستان میں انتخابات نہیں ہوئے؟ کیا اس کی مثال ملتی ہے قانون ختم کرکےکہا جائے کل نیاقانون لایاجائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں