غیرمعیاری گھی کی فروخت کی اجازت نہیں دی جا سکتی‘چیف جسٹس -
The news is by your side.

Advertisement

غیرمعیاری گھی کی فروخت کی اجازت نہیں دی جا سکتی‘چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان نے غیرمعیاری گھی کی فروخت پرتشویش کا اظہارکرتے ہوئےکہاکہ مضر صحت گھی کی فروخت کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

تفصیلات کےمطابق سپریم آف پاکستان میں یوٹیلیٹی اسٹورزپرغیرمعیاری گھی کی فروخت پر ازخودنوٹس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے کی۔

سپریم کورٹ میں سماعت کے آغاز پریوٹیلیٹی اسٹورز کےوکیل نے اپنے دلائل میں کہاکہ فروخت ہونےوالےگھی کے 51 نمونے لیے گئے،جن میں سے45گھی کےنمونےانسانی صحت کےلیےموزوں جبکہ 6کمپنیوں کےگھی کےنمونوں کامعیارتھوڑاکم ہے۔

وکیل نےکہا کہ معیار پرپورا نہ اترنے والے گھی کو ان کی کمپنیوں کو واپس کردیا جائے گا،انہوں نےکہاکہ بڑےفوڈچینزاستعمال شدہ گھی آگے فروخت کر دیتے ہیں۔ٹھیکیداراستعمال شدہ گھی کوپکوڑے،سموسے،مچھلی فرائی کےلیےاستعمال کرتےہیں۔

یوٹیلیٹی اسٹورز کےوکیل نے دلائل دیتے ہوئےکہاکہ استعمال شدہ گھی انسانی صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے،عدالت اس معاملے کا بھی نوٹس لے۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ نےکہاکہ غیرمعیاری گھی کی فروخت کی اجازت نہیں دی جا سکتی،جبکہ استعمال شدہ گھی کی فروخت روکناحکومت کا کام ہے۔

انہوں نے استفسار کیاکہ استعمال شدہ گھی کی فروخت روکنےکےلیےحکومت نےکیااقدامات کیے؟ایسےگھی کےاستعمال پرمتعلقہ فوڈ اتھارٹیز کوطلب کیاجاسکتاہے۔

چیف جسٹس نےکہاکہ اس موقع پرابھی کوئی افراتفری پیدا نہیں کرناچاہتے،استعمال شدہ گھی کےمعاملےکاآئندہ سماعت پرجائزہ لیں گے۔عدالت نےکہاکہ یوٹیلیٹی اسٹورزکومعیارپرپورااترنےوالےگھی کی فروخت کی اجازت ہے۔

واضح رہےکہ سپریم کورٹ نے ازخودنوٹس کیس میں سلمان اکرم راجہ کوعدالتی معاون مقررکر دیا،جبکہ غیرمعیاری گھی کی فروخت پر ازخودنوٹس کی سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی ہوگئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں