The news is by your side.

Advertisement

سابق وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پرجنگلات کی اراضی فروخت ہوئی‘سپریم کورٹ

اسلام آباد : سپریم کورٹ میں جنگلات کی کٹائی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ابھی تک اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ منسوخ کیوں نہیں کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے جنگلات کی کٹائی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ غیر قانونی قبضہ ہے توزمین کا تحفظ محکمے کی ذمے داری ہے، سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ سابق وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پرجنگلات کی اراضی فروخت ہوئی۔

ایڈیشنل ایڈویکٹ جنرل سندھ نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ 70 ہزارایکڑاراضی غیرقانونی الاٹ کردی گئی، ایک لاکھ 45 ہزار ایکٹر پرغیر قانونی قبضہ ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سندھ حکومت خود کہہ رہی ہے 70 ہزار ایکڑ الاٹمنٹ غیر قانونی ہے؟ ابھی تک اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ منسوخ کیوں نہیں کی گئی۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ منسوخی کا معاملہ کابینہ کو بھجوایا ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الاٹمنٹ منسوخ کرنے میں 2 منٹ لگتے ہیں، آپ نے کام نہیں کرنا توبتا دیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ سیکریٹری ، وزیرجنگلات اورچیف سیکریٹری کیوں پیش نہیں ہوئے؟ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ ایک لاکھ 45 ہزارایکڑپرغیرقانونی قبضہ ہے اسے تو واگزارکرائیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ دوماہ پہلے اپنے حکم میں کہا تھا اس ضمن میں اقدامات کریں، چیف جسٹس نے کہا کہ وقفے کے بعد آپ کو بتائیں گے اس کیس کو کراچی میں کب لگانا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیے کہ تمام اعلیٰ حکام کو نوٹس کریں گے، سیکریٹری ، وزیر جنگلات ا ور چیف سیکریٹری کو بلائیں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں