The news is by your side.

Advertisement

سندھ ہاؤس پر حملے کا نوٹس : سپریم کورٹ نے آئی جی  اسلام آباد سے رپورٹ طلب کرلی

 اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان  نے  حکومت کوآرٹیکل 95پر روح کے مطابق عمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے آئی جی  اسلام آباد سے سندھ ہاؤس پر حملے سےمتعلق رپورٹ طلب کرلی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق چیف سپریم کورٹ نے سندھ ہاؤس پر حملے کا نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ بار کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی ہے۔

 سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا ہے، جبکہ آئی جی اسلام آباد پولیس کو بھی ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔

سپریم کورٹ بار کی جانب سے دائر درخوا ست پر سماعت کورٹ روم نمبر ون میں ہوئی,  آئی جی اسلام آباد اوراٹارنی جنرل خالد  جاوید جبکہ سپریم کورٹ بار کی جانب سے تصور اعوان عدالت میں پیش ہوئے۔

ارنی جنرل نے کہا کہ کسی خلاف ورزی کی گنجائش نہیں عوام احتجا ج کا حق رکھتےہیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب سپریم کورٹ بار نے عدالت سے رجوع کیا ہے، بار ایسوسی ایشن چاہتی ہے کہ قانون پر عملدرامد کیا جائے، آپ بھی عدالت سے رجوع کرنا چاہتے ہیں۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 63 اے پر ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ ہوا ہے، پیر تک صدرتی ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا بار امن عامہ اور آرٹیکل 95 کی عملداری چاہتی ہے، ہم آرٹیکل63 سے متعلق اپنی رائے بھی درخواست کےساتھ دےدیتےہیں، جس پراٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ صدارتی ریفرنس کوسپریم کورٹ بارکی درخواست سے الگ رکھا جائے۔

جسٹس عطا بندیال کا کہنا تھا کہ درخواست گزار سپریم کورٹ بار اپنی درخواست میں استدعا کر پڑھ کر سنائے، درخواست گزار کی استدعا سیاسی تناظر میں ہے ،عدالت نے ملک کے سیاسی تناظر کو نہیں آئین کو دیکھنا ہے ، قانون پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اخبارات سے معلوم ہوا 63 اے کے حوالے سےحکومت سپریم کورٹ آ رہی ہے ، کیا حکومت بھی معاملے پر سپریم کورٹ آرہی ہے ؟

یہ از خود نوٹس کی کاروائی نہیں ،ہمارے پاس پہلے درخواست آچکی ہے، آزادی رائے اوراحتجاج کے حق پرکیا کہیں گے، کل ہم نےایسا واقعہ دیکھا جو آزادی رائے اوراحتجاج کے حق کےخلاف تھا۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ قانون کی خلاف ورزی کا کوئی جواز نہیں، میں واقعےکا پس منظر بتانا چاہتا ہوں، تشدد کا بھی جواز نہیں ہے پرامن انداز سے احتجاج کا حق ہے، آئی جی اسلام آباد اور ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ بھی موجود ہیں ، تھانہ سیکریٹریٹ میں 13افراد کےخلاف مقدمہ درج کر لیاگیا اور آج 13مظاہرین کو رہاکر دیا گیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ بار لا اینڈ آرڈر کے حوالے سے خدشات رکھتی ہے، ایسا واقعہ دیکھا جو آزادی اظہار راے کےآئینی حق کے خلاف ہے ۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اس بارے میں تو کوئی دوسرا سوال نہیں ہے ، اچانک سیاسی درجہ حرارت بڑھا اور یہ واقعہ ہوا ، جس پر چیف جسٹس نے کہا جو کچھ ہو رہاہے ہمیں اس سے مطلب نہیں، ہم آئین کی علداری کے لیےیہاں بیٹھے ہیں ، کیاپبلک پراپرٹی پر دھا ابولنا قابل ضمانت جرم ہے۔

سپریم کورٹ نے تمام سیاسی جماعتوں تحریک انصاف،مسلم لیگ ن ،جےیوآئی اور پیپلز پارٹی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کو مقدمے میں فریق بنا دیا۔

سپریم کورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو پیر تک رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا سیاسی عمل میں عدالت کی کوئی دلچسپی نہیں، عدم اعتماد کی کاروائی آئین کے مطابق ہونی چاہیے۔

عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو قانون کے مطابق اقدامات کا حکم دیتے ہوئے کہا تمام سیاسی جماعتیں اپنے وکلاکےذریعے عدالت کی معاونت کریں۔

سپریم کورٹ میں سپریم کورٹ بارکی درخواست پر سماعت پیر تک ملتوی کردی، سپریم کورٹ بار نےبڑھتی کشیدگی روکنے کے لیے درخواست دائرکر رکھی ہے۔

واضح رہے کہ سترہ مارچ کو وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے معاملےپر سیاسی جماعتوں میں ممکنہ تصادم کے خدشے کے پیش نظر سپریم کورٹ بار نے ممکنہ تصادم روکنے کی آئینی درخواست دائر کی تھی۔

سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ عدم اعتماد آرٹیکل95 کےتحت وزیر اعظم کو ہٹانےکا آئینی راستہ ہے، تاہم سیاسی بیانات سےعدم اعتماد کےرو ز فریقین میں تصادم کا خطرہ ہے، ہم چاہتے ہیں کہ عدم اعتماد کا عمل پر امن انداز سے مکمل ہو۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ بار نے ممکنہ تصادم روکنے کی آئینی درخواست دائر کردی

سپریم کورٹ بار نے درخواست میں عدالتِ عظمیٰ سے استدعا کی کہ وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کی صورتِ حال برقرار رکھنے، ریاستی اداروں اور اہلکاروں کو کسی بھی خلافِ آئین اقدام سے باز رہنے کی تاکید کی جائے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سپریم کورٹ سے یہ گزارش بھی کی تھی کہ حکومت کو ارکانِ قومی اسمبلی کو گرفتار یا نظر بند کرنے سے روکنے کا حکم دیا جائے، ایسے اجتماع کی اجازت نہ دی جائے جس سے ارکانِ اسمبلی کو ووٹ ڈالنے سے روکا جا سکے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں