The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ نے شجاعت عظیم کو کام کرنے سے روک دیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وزیراعظم کے مشیر ہوابازی شجاعت عظیم کو کام کرنے سے روک دیا۔

چیف جسٹس انور ظہیرجمالی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اپنے سنائے گئے حکم میں کہا ہے کہ شجاعت عظیم یہ مقدمہ نمٹائے جانے تک نہ تو اپنے اختیارات استعمال کرینگے اور نا ہی کوئی فیصلہ لیں گے.

شجاعت عظیم تقرر کیس میں توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کے آغاز میں اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں توہین عدالت کی درخواست کا جواب دینے کے لئے 15دن کی مہلت دی جائے.

جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ ایسی صورت میں شجاعت عظیم کو کام سے روکنا ہوگا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس ضمن میں وزیراعظم سے معلوم کر کے کوئی موقف اختیار کر سکتے ہیں.

عدالت نے انہیں وزیر اعظم سے مشورہ کرنے کے لئے وقت دیتے ہوئے سماعت میں مختصر وقفہ کر دیا، وقفہ کے بعد اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزیراعظم سے رابطہ ممکن نہیں ہوا جس پر عدالت نے شجاعت عظیم کو کام نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی.

شجاعت عظیم کی تقرری کو چیلنج کیا گیا تو عدالت نے سزا یافتہ شخص کی سرکاری عہدے پر تعیناتی پر سوال اٹھایا تھا۔

شجاعت عظیم کا انیس سو ستانوئے میں کورٹ مارشل ہوا تھا۔ حکومتی کمیٹی نے موقف اختیارکیا کہ تقرری کے وقت کمیٹی کو کورٹ مارشل کا علم نہیں تھا، تقرری میں بے ضابطگی نہیں ہوئی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں