The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ نےاوورسیز پاکستانیوں کے ریلیف سے متعلق رپورٹ طلب کرلی

اسلام آباد : اوورسیز پاکستانیوں سے شناختی کارڈ کی اضافی فیس پرازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اوور سیزپاکستانیوں کے ریلیف سے متعلق اسی ہفتے رپورٹ طلب کرلی۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے اوورسیز پاکستانیوں کے شناختی کارڈ اجرا کی فیس سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ وزیرداخلہ احسن اقبال سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے احسن اقبال سے اسفسار کیا کہ آپ بڑے غصے میں بیٹھے ہیں، آپ نے حجرہ شاہ مقیم کیس دیکھا؟ سیاسی لوگ کیا کررہے ہیں، انہیں دیکھ کرہمیں شرم آتی ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ اس مسئلے کو حل کرنا آپ لوگوں کا کام ہے، آپ لوگوں نے اس ملک کو قیادت دینی ہے، وزیرداخلہ احسن اقبال نے جواب دیا کہ ناراض ہوکر ہم نے کہا جانا ہے، ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں، آپ کی تشویش درست ہے۔

وفاقی وزیرداخلہ نے کہا کہ میں بھی آپ کے نوٹس پرایک بات لانا چاہتا ہوں، نارروال میں ایک بوائزاور ایک گرلز کالج منظور کرایا تھا، بوائزکالج بن گیا، گرلزکالج پرہائی کورٹ نے 7 سال سے اسٹے دے رکھا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے ہائی کورٹ سے فائل طلب کر لی، انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے میں یہ مسئلہ حل کر دیتے ہیں، آپ عدالتوں کو دشمن سمجھتے ہیں،عدالتیں دشمن نہیں دوست ہیں۔

وزیرداخلہ احسن اقبال نے کہا کہ میں میں عدالتوں کو دوست ہی سمجھتا ہوں، اس لیے مسئلہ آپ کے نوٹس میں لایا ہوں۔

چیف جسٹس نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ ہمیں یقینی بنانا ہے سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملے، سمندرپار پاکستانی ملک سے بے حد محبت کرتے ہیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ اوور سیزپاکستانیوں کو ہرحال میں ریلیف دیا جائے، اوورسیزپاکستانی بے تحاشا زر مبادلہ ملک لے کر آتے ہیں، سپریم کورٹ نےسمندرپارپاکستانیوں کے ریلیف سے متعلق اسی ہفتے رپورٹ طلب کرلی۔

خیال رہے کہ 19 مارچ کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں اوورسیز پاکستانیوں کے شناختی کارڈ اجرا کی فیس سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال کو طلب کیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں