The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ نے نیب ملزمان کی طویل حراست کا نوٹس لے لیا

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے نیب ملزمان کی طویل حراست کا نوٹس لے لیا اور کہا نیب مقدمات میں ملزمان کوطویل عرصہ حراست میں رکھنا ناانصافی ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے ڈائریکٹرفوڈپنجاب محمداجمل کی درخواست ضمانت پرسماعت کی ، دوران سماعت عدالت نے نیب ملزمان کی طویل حراست کانوٹس لے لیا۔

عدالت نے کہا کہ نیب مقدمات میں ملزمان کوطویل عرصہ حراست میں رکھناناانصافی ہوگی، معاشرےیاٹرائل پراثراندازہونےکاخطرہ ہوتوہی گرفتار رکھا جاسکتا ہے، پرتشددفوجداری اوروائٹ کالرکرائم کےملزمان میں فرق کرناہوگا، نیب ملزمان کےکنڈکٹ کوکنٹرول کیاجاسکتاہے۔

سپریم کورٹ نےاحتساب عدالت لاہورسےٹرائل میں تاخیر کی وجوہات مانگتے ہوئے کہا آگاہ کیاجائےاستغاثہ کے38گواہان کےبیان کب تک ریکارڈہوں گے ، عام طورپرنیب مقدمات میں تاخیرکیوں ہوتی ہےبتایاجائے۔

سپریم کورٹ نےاحتساب عدالت سے نومبر کے تیسرے ہفتے تک رپورٹ مانگ لی، جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس میں کہا ملزمان کو گرفتارکرنے کے علاوہ طریقے بھی استعمال ہوسکتے، ملزمان کے پاسپورٹ، اکاؤنٹس، جائیداد کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

وکیل ملزم عابد ساقی نے بتایا کہ احتساب عدالت کےمطابق ان کے پاس80ریفرنس زیرالتواہیں، اگست2020میں ملزم پرفردجرم عائدکی گئی، ملزم14ماہ سے نیب حراست میں ہے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا اگر80مقدمات ہیں تواس کیس کی باری کب آئےگی؟ جس پر اسپیشل پراسیکیوٹر نے یقین دہانی کرائی ، نیب کسی ریفرنس میں بھی تاخیر نہیں کرے گا، صرف تاخیرپرضمانتیں ہوئیں توہرملزم ضمانت مانگے گا۔

جسٹس یحییٰ آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کےحالیہ فیصلےپرنیب کوعمل کرناہوگا، نیب کوروزانہ کی بنیادپرسماعت پراعتراض ہےتونظرثانی دائرکرے، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا روزانہ کی بنیادپرٹرائل کےفیصلےپرخوش ہیں، نیب بھی چاہتاہے کہ مقدمات جلد ختم ہوں۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے سماعت نومبر کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کردی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں