The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ کا جعلی ڈگری رکھنے والے پائلٹس کے معاملے کا نوٹس، ایئرلائنز سربراہان طلب

سندھ بجٹ میں لگژری گاڑیوں کیلئے مختص 4بلین سپریم کورٹ میں جمع کرانے کی ہدایت کردی

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے جعلی ڈگری رکھنے والے پائلٹس کے معاملے کا نوٹس لے لیا اور پی آئی اے، ایئربلیو، سیرین کے سربراہان کو بھی آئندہ سماعت  پر  طلب کرتے ہوئے کہا ایئرلائنز سربراہان پائلٹس کی ڈگریوں ،لائسنس کی تصدیق پر مبنی رپورٹس فراہم کریں جبکہ سندھ بجٹ میں لگژری گاڑیوں کیلئے مختص 4بلین سپریم کورٹ میں جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار کی سربراہی میں 5رکنی لارجربینچ نے کورونا ازخودنوٹس کیس کی سماعت کی ، اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا نہیں معلوم این ڈی ایم اے کیسے کام کررہا ہے، این ڈی ایم اربوں روپے ادھر ادھر خرچ کررہا ہے، نہیں معلوم این ڈی ایم اے کے اخراجات پر کوئی نگرانی ہے یا نہیں، این ڈی ایم اے باہرسے ادویات منگوا رہاہے، نہیں معلوم یہ ادویات کس مقصد کے لئے منگوائی جارہی ہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کیا یہ ادویات پبلک سیکٹر اسپتالوں کو فراہم کی گئی ہیں؟ ادویات سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹرزکی زیر نگرانی استعمال  ہو رہی ہیں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا این ڈی ایم اے کا آڈٹ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کرتا ہے، این ڈی ایم اے ادویات منگوانے میں سہولت کار کا کردار ادا کررہا ہے تو چیف جسٹس نے کہا جوادویات آرہی ہیں اس کی ڈرگ ریگولٹری اتھارٹی سےمنظوری ہونی چاہیے۔

کرونا وائرس ازخود نوٹس کیس کی سماعت میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ملک کی معیشت بالکل بیٹھ چکی ہے، صحت اور تعلیم کا شعبہ بہت نیچے چلا گیا ہے، لاتعداد گریجویٹس بےروزگارہیں ، ایسے گریجویٹس کو کھپانے کا حکومت کے پاس کوئی پلان نہیں، ایک لاکھ لیبرواپس آ رہی ہے، 14دن قرنطینہ کرنےکےعلاوہ کوئی پلان نہیں، حکومت ان کو کہاں کھپائے گی، حکومت کے پاس کوئی معاشی منصوبہ ہے تو سامنے لائے، حکومت کی بیان بازی سے عوام کا پیٹ نہیں بھرے گا۔

اٹارنی جنرل نے کہا ڈیوٹی میں فائدہ کسی کمپنی کو نہیں دیا گیا، این ڈی ایم اے نےہنگامی حالات میں نجی کمپنیوں کومشینری منگوانےمیں سہولت دی، جس پر جسٹس گلزار کا کہنا تھا کہ کسی انفرادی شخصیت کو فیورنہیں ملنی چاہیے، نجی کمپنی کا مالک 2دن میں ارب پتی بن گیا ہوگا، نہیں معلوم باقی لوگوں اور کمپنیوں کے ساتھ کیا ہوا، کورونا وائرس نے لوگوں کو راتوں رات ارب پتی بنا دیا، اس میں کافی سارے لوگ شامل ہیں، نہیں معلوم اس کمپنی کے پارٹنرز کون ہیں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا ایسی مہربانی سرکار نے کسی کمپنی کے ساتھ نہیں کی، اسکےمالک کاگھربیٹھےکام ہوگیا، نجی کمپنی کی این ڈی ایم اے نے این 95 ماسک کی فیکٹریاں لگوادیں، ایسی سہولت فراہم کریں تو ملک کی تقدیر بدل جائے، بیروزگاری اسی وجہ سےہے حکومتی اداروں سےسہولت نہیں ملتی ، باقی شعبوں کو بھی اگر ایسی سہولت ملےتوملک کی تقدیر بدل جائے۔

جسٹس گلزار نے سوال کیا کس قیمت کی مشینری آئی،ایل سی کیسے کھولی گئی، ایسی کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں، این ڈی ایم اے کے کام میں شفافیت نظر نہیں آرہی، حکومت نےبزنس مینوں کو سہولت فراہم کرنی ہے تو اخبار میں اشتہار دیا جائے گا، جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کسی کمپنی کو ڈیوٹی کی سہولت نہیں دی جارہی تو چیف جسٹس نے کہا حکومت ایسا کرے تو ملک میں صنعتی انقلاب آجائے گا، پیداواراتنی بڑھ جائے گی کہ ڈالر بھی 165 سے 20سے25روپے کا ہوجائے گا۔

سپریم کورٹ نے سندھ بجٹ میں لگژری گاڑیوں کیلئے مختص 4بلین سپریم کورٹ میں جمع کرانے کی ہدایت کی، چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا لوگوں کےپاس کھانےکوروٹی ،آپ کےپاس تنخواہیں دینے کے پیسے نہیں، 4 ارب کی گاڑیاں کیسے منگوا رہے ہیں ، ہم دیکھتے ہیں یہ4ارب کیسے سرکاری  ملازمین، لیڈرز کی عیاشیوں پر خرچ ہوتا ہے۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ نےاسپرےکرنےوالےجہازوں کیلئےپائلٹ باہرسےکیوں منگوائے، جس پر اے جی نے بتایا کہ محکمے کا کہنا ہے  وہ پائلٹس کوتربیت دےرہےہیں۔

جسٹس گلزار نے مزید کہا ہمیں یاد ہے کہ ڈالر کبھی 3روپے کا ہوتا تھا، مشرق وسطیٰ سے آنے والے پاکستانیوں کوکہاں کھپایا جائے گا، یہ پاکستانی 3ماہ جمع  شدہ رقم سے نکال لیں گے، اس کے بعد مزدور کیا کریں گے، کیا حکومت کاکوئی پلان ہے، کیا 14دن قرنطینہ میں رکھنے کے بعد وہ جہاں مرضی ہے جائے؟

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں سےلوگ فارغ التحصیل ہورہے ہیں انکوکھپانےکاکیاطریقہ ہے، ہماری صحت اور تعلیم بیٹھی ہوئی ہے کوئی ادارہ بظاہر کام نہیں کررہا ، ہرادارےمیں این ڈی ایم اے جیسا حال ہے، حکومت کی معاشی پالیسی کیا ہے وہ نہیں معلوم، اگر حکومت کی کوئی معاشی پالیسی ہے  تو بتائیں؟ حکومت کا مستقبل کا ویژن کیا ہے وہ بھی بتائیں، حکومت عوام کے مسائل کیسے حل کرے گی۔

جسٹس گلزار نے استفسار کیا کیا عوامی مسائل پرپارلیمنٹ میں اتفاق رائے ہے، ٹی وی پر بیان بازی سے عوام کا پیٹ نہیں بھرے گا ، عوام کو روٹی، پیٹرول، تعلیم، صحت اور روزگارکی ضرورت ہے، اس وقت تربیت دینے کی مثال ایسے ہے، جیسےبھوک لگنے کے بعد گندم بونے کی کوشش کی جائے۔

چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم کہتا ہے ایک صوبےکاوزیر اعلیٰ آمرہے،اس کی وضاحت کیا ہوگی؟ وزیر اعظم اور وفاقی حکومت کی اس صوبے  میں کوئی رٹ نہیں ہے، پیٹرول، گندم، چینی کے بحران ہیں، کوئی بندہ نہیں جو اسے دیکھے، جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ مسلم ممالک میں پاکستان ایسا ہے جہاں رمضان میں قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، دیگر ممالک میں رمضان میں چیزوں کی قیمتیں کم ہو جاتی ہیں۔

چیف جسٹس نے سوال کیا بیرون ملک سے منگوائی گئی ادویات کیا نجی پارٹی کو دی گئی ہیں، جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں این ڈی  ایم اے کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے، پہلےبھی یہی ہوا نجی پارٹیوں نےسامان منگواکرقیمتیں بڑھائیں۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا سندھ حکومت 4 ارب 400 لگژری گاڑیوں کے لئے کیسے خرچ کر سکتی ہے، یہ گاڑیاں صوبے کے حکمرانوں کے لئے منگوائی گئی ہیں، ایک گاڑی کی قیمت ایک کروڑ 16لاکھ ہے، اس طرح کی لگژری گاڑیاں منگوانے کی اجازت نہیں دیں گے، 4 ارب کی رقم سپریم کورٹ کے پاس جمع کرائیں، کراچی کا نالہ صاف کے کرنے کے لئے پیسےنہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا پنجاب، کے پی ،بلوچستان ایسی گاڑیاں منگوا رہے ہیں،ایڈووکیٹ جنرل نے جواب میں کہا کے پی اور پنجاب ایسی لگژری گاڑیاں نہیں منگوارہا، جس پر جسٹس گلزار نے اظہاربرہمی کرتے ہوئے کہا اس آئین کا فائدہ عام آدمی کوتوآج تک نہیں پہنچا، اس کے پھل کے انتظارمیں بچے  بوڑھے ہوگئے، اس کا پھل صرف چند لوگ کھا رہے ہیں اس میں شاید آپ اور ہم بھی شامل ہیں، اس میں مگرعام آدمی شامل نہیں۔

عدالت نے استفسار کیا آپ ٹڈی دل کے اسپرے کے لیے طیارےکے پائلٹ باہر سے کیوں منگوا رہے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب میں کہا محکمے کا کہنا ہے کہ وہ پائلٹس کو ٹریننگ دے رہے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا اس وقت تربیت دینے کا مطلب ایسا ہی ہے کہ بھوک لگنے پر گندم بونے جایا جائے، ہم 44سال سے عالمی تنظیم کے رکن ہیں ،پہلے تیار رہنا چاہیے تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا مشینری، امپورٹ اور دیگر سامان سے متعلق تفصیلات تسلی بخش نہیں،جسٹس قاضی امین کا کہنا تھا کہ آکسیجن سلنڈر کی قیمت 5ہزار سے کئی گنا بڑھ گئی ہے، صوبائی حکومت شہریوں کے تحفظ میں ناکام ہوچکی،حکومت کہاں ہے، جج ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شہری بھی ہوں، قانون کی عمل داری کدھر ہے۔

جسٹس گلزار نے کہا لوگوں کو بڑی امید تھی اس لئے تبدیلی لائے جبکہ جسٹس قاضی امین کا بھی کہنا تھا سیاسی لوگ ایک دوسرے پرکیچڑ ا چھالنے پر آگئے ہیں، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا حکومت قانون کے اندر رہتے ہوئے سخت فیصلے کررہی ہے تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پوری حکومت کو 20 لوگ یرغمال نہیں بنا سکتے۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ گندم کا بحران پیدا ہوا جس کی کوئی وجہ نہیں تھی، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ حکومت کی اگر کوئی خواہش ہو توحکومت کو کوئی روک نہیں سکتا، حکومت ہرکام میں قانون کے مطابق ایکشن لے تو اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ حکومت ایسی طاقتوں کے خلاف سرنڈرنہیں کررہی۔

چیف جسٹس نے سوال کیا 16 ملین ٹن گندم سندھ سے چوری ہوگئی، اس کا کیا بنا،اٹارنی جنرل نے کہا ٹڈی دل کا مسئلہ صوبائی ہے، اس کے خاتمے کے لئے  معاونت کررہے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لگتا ہے نیب کے متوازی این ڈی ایم اے کا ادارہ بن جائے گا، یہ ساری چیزیں عوام اور پاکستان کے لئے ڈیزاسٹر ہیں۔

دوران سماعت لوڈ شیڈنگ کا ذکر کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا لاک ڈاؤن کے دوران لوڈ شیڈنگ کس بات کی ہو رہی ہے، دکانیں اور ادارے بند ہیں پھر لوڈ شیڈنگ کیسی، جس ملک کے لوگوں کو 18 گھنٹے بجلی نہیں دیں گے ، وہ بات کیوں سنیں گے، حکومت نے عوام کے ساتھ اپنا معاہدہ توڑ دیا، آئین کا معاہدہ ٹوٹے بڑاعرصہ ہو چکا ہے،لوگ انتظار میں ہیں کہ انہیں کب انہیں یہ پھل ملے گا، یہ پھل چند لوگوں کو مل گیا، پتہ نہیں اس پھل سےہم اورآپ فائدہ اٹھا رہے ہیں یا نہیں۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمے میں کہا پارلیمنٹ کو اس چیز کا احساس ہونا چاہیے ، حکومت سے ہدایات لے کر بتائیں کیا کرنا ہے، ہر شہری کو بنیادی سہولیات ملنی چاہئے،اس پر حکومت اپنا پلان دے۔

جسٹس گلزار کا کہنا تھا کہ ملک میں کورونا کی وبا چل رہی ہے تو اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کورونا سے نمٹنے کے لئے قانون کا مسودہ بن گیا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے ہمارے3جہاز کھڑےہیں، کیا ہمارےپاس اسپرے والے جہاز چلانےکے لئے پائلٹ نہیں، لگتا ہے جب بھوک لگی توگندم بونے چل نکلے، حکومت کو ٹڈی دل سے نمٹنے کے لئے ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔

کرونا ازخود نوٹس کیس میں چیف جسٹس نے سوال کیا سندھ حکومت نے کتنی ڈبل کیبن گاڑیاں منگوائی ہیں، سندھ حکومت ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے گاڑیاں منگوا رہی ہے، سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن کرنا ہے تو کرے،لوگوں کو کھانا، پانی، بجلی فراہم کرے۔

جسٹس گلزار نے کہا سندھ میں 18گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے، ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ 18 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ پر رپورٹ دیں گے، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ سے بڑھ کر کوئی بااختیار نہیں، اگرچاہے تو سندھ حکومت صوبے کو کہاں سے کہاں لے جاسکتی ہے، کراچی کا گجر نالہ بھرا پڑا ہے، اس کو صاف کرنے کا کسی کو خیال نہیں، فیصل آباد کے رضاآباد کے گٹر سے نکلنے والا پانی پورے شہر میں پھیلاہے۔

جسٹس قاضی امین نے استفسار کیا کیا پنجاب میں کوئی وزیر اعلیٰ اور حکومت ہے، کیا پنجاب میں کوئی حکومت ہے؟ کیا صوبے میں ذخیرہ اندوزی پر کوئی چیک ہے، پنجاب میں زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں ہے، جس پر چیف جسٹس نے بھی سوال کیا بارش سے لاہورمیں کتنی بستیاں ڈوب گئیں ؟ کتنوں کو کرنٹ لگا، جسٹس فیصل عرب نے کہا 18 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہوگی تو کیسے کچھ ٹھیک ہوگا۔

کوروناازخودنوٹس کیس میں پی آئی اے طیارہ حادثے کی رپورٹ کے حوالے سے چیف جسٹس نے کہا ائیر کریش کا سارا الزام پائلٹ اور ٹریفک کنٹرول پر ڈال دیا ہے ، میں سن کرحیران رہے گیا 15سال پرانے جہاز میں کوئی خرابی نہیں تھی، سول ایوی ایشن پیسے لیکر پائلٹس کو لائسنس جاری کرتی ہے، قصور تو سول ایوی ایشن کا ہوا، پائلٹس کا کیا قصور ہوا، اٹارنی جنرل بتائیں سول ایوی ایشن کے خلاف کیا کارروائی ہونی چاہیے، اٹارنی جنرل نے کہا قانون کے مطابق ایکشن ہونا چاہیے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا ایسے لگتا ہے جیسے پائلٹ چلتا ہوا میزائل اڑا رہے ہوں، وہ میزائل جو کہیں بھی جاکر مرضی سے پھٹ جائے، بتایا گیا کہ 15سال پرانے جہاز میں کوئی نقص نہیں تھا، ساراملبہ پائلٹ اور سول ایوی ایشن پر ڈالا گیا ، لگتاہے ڈی جی سول ایوی ایشن کو بلانا پڑے گا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا جعلی ڈگریوں والے پائلٹس کے ساتھ کیا کیا گیا؟ سپریم کورٹ نے جعلی ڈگری رکھنے والے پائلٹس کے معاملے کا نوٹس لے لیا اور پی آئی اے ، سیرین ایئر اور ایئر بلیو سے بھی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

عدالت نے کہا بتایاجائے پائلٹس کو جعلی لائسنس کیسے اور کیوں جاری ہوئے؟ جعلی لائسنس دینے والوں کیخلاف کیا کارروائی ہوئی؟ مسافروں کی جان خطرے میں ڈالنا سنگین جرم ہے۔

سپریم کورٹ نے پی آئی اے، ایئربلیو، سیرین کے سربراہان کو بھی آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے کہا ایئرلائنز سربراہان پائلٹس کی ڈگریوں اور لائسنس کی تصدیق  پر مبنی رپورٹس فراہم کریں۔

سپریم کورٹ نےطیارہ حادثہ عبوری رپورٹ پر بھی سوال اٹھا دیے اور کہا اسمبلی فلورپروزیر نے کہا جس کا دل چاہتا ہے، پائلٹ کا لائسنس لے لیتا ہے، لگتا ہے، سول ایوی ایشن والے پیسے لے کر جہاز چلانے کا لائسنس دیتے ہیں، جعلی لائسنس پر جہاز اڑانا ایسے ہی ہے جیسے کوئی چلتا پھرتا میزائل ہو۔

جعلی لائسنس لے کر جہاز اڑانااس میزائل جیسا ہے جو کہیں بھی جا کر پھٹ جائے، ہمیں حکومت کی رپورٹ پر حیرانگی ہوئی، رپورٹ میں کہا گیا جہاز میں کوئی نقص نہیں تھا، حیرت کی بات ہے 15 سال پرانا جہاز اڑایا گیا،رپورٹ میں سارا ملبہ سول ایوی ایشن پر ڈال دیا گیا، سول ایوی ایشن والے وہی ہیں جو پائلٹس کو لائسنس دیتے ہیں، یہ حیران کن ہے جعلی لائسنس کی بنیادپرکمرشل پروازیں اڑانےکی اجازت دی گئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں