site
stats
اہم ترین

منی ٹریل ثابت نہ ہوئی تونتائج وزیراعظم کوبھگتناہوں گے‘ جسٹس اعجازافضل

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاناماکیس کی جےآئی ٹی رپورٹ پرسماعت کل تک ملتوی ہوگئی،وزیراعظم کےبچوں کےوکیل سلمان اکرم راجہ کل بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

تفصیلات کےمطابق جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ اورجسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے3 رکنی عمل درآمد بینچ نےپاناما کیس کی سماعت کی۔

پاناماکیس کی سماعت کےآغاز پروزیراعظم کےبچوں کےوکیل سلمان اکرم راجہ نے قطری خط عدالت میں پیش کیا۔

جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ آپ نےکل دستاویزات دینےکا وعدہ کیا تھا،عدالت سےپہلے دستاویزات میڈیا کو دے دیں۔ انہوں نےکہاکہ آپ میڈیا میں دلائل بھی دے دیتے,باہر ڈائس لگا ہےجا کر دلائل دے دیں۔

سلمان اکرم راجہ نےجواب دیاکہ مجھے دستاویزات میڈیاکو جانے کا علم نہیں، جس پر جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ جےآئی ٹی نے 2خطوط سربمہرلفافے میں بجھوائے ایک قطری کا خط ہے،دوسرا بی ڈی آئی سےآیاہے۔

جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ دونوں دستاویزات عدالت میں ہی کھولیں گے،جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ تمام دستاویزات لیگل ٹیم سےہی میڈٰیاکوگئی ہیں۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نےکہاکہ آپ کےاطمینان تک آپ کی بات سنیں گے،جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ جےآئی ٹی نےحکام سےدستاویزات کی تصدیق کرائی تھی۔

عدالت عظمیٰ نےکہاکہ وزیراعظم کی بیٹی مریم نواز کےوکیل نےمنرواکی دستاویزات سےلاتعلقی ظاہرکی تھی۔ جےآئی ٹی نےاسی وجہ سےتصدیق کےلیےدستاویزات بھجوائیں تھیں۔

وزیراعظم کےبچوں کےوکیل نےکہاکہ جےآئی ٹی نےیواےای کی وزارت انصاف کےخط پرنتائج مرتب کیے،انہوں نےکہاکہ خط پرحسین نوازسےکوئی سوال نہیں پوچھاگیا۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ حسین نوازکےتصدیق شدہ دستاویزات کوبھی نہیں ماناگیا،انہوں نےکہاکہ جےآئی ٹی نےنتیجہ اخذکیاکہ مشینری باہرمنتقل کی گئیں۔

وزیراعظم کےبچوں کےوکیل نےکہاکہ جےآئی ٹی نےان دستاویزات پرحسین نواز سےجرح نہیں کی،جس پرعدالت نےکہاکہ یواےای سےبھی حسین نوازکےدستاویزات کی تصدیق مانگی گئی تھی۔

سلمان اکرم راجہ نےیواےای کی وزارت انصاف کاخط پڑھ کرسنایا،انہوں نےکہاکہ یواےای نےگلف ملزمعاہدےکاریکارڈنہ ہونےکاجواب دیا۔

وزیراعظم کےبچوں کےوکیل نےکہاکہ 12ملین درہم کی ٹرانزیکشنزکی بھی تردیدکی گئی،انہوں نےکہاکہ خط میں کہاگیامشینری کی منتقلی کاکسٹم ریکارڈ موجود نہیں۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ یواےای محکمہ انصاف نےریکارڈموجودنہ ہونےکاکہا،جس پرجسٹس عظمت سعید نےکہاکہ انہوں نےکہاجونوٹری مہرہےوہ ہماری نہیں۔

شیخ عظمت سعید نےکہاکہ نوٹری مہرکی تصدیق نہ ہونےکےاثرات زیربحث نہیں لاناچاہتا،جس پرسلمان اکرم راجہ نےکہاکہ ایساکچھ نہیں ہوگاکچھ غلط فہمی ہوئی ہےغلطی ہوئی۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ حسین نواز،طارق شفیع سےپوچھاتوکہاہم نےنوٹری نہیں کرایا،انہوں نےکہاکہ سب نےکہانوٹری مہرنہیں جانتے،مطلب دستاویزات غلط ہیں۔

جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ آپ کوچاہیےتھاتمام ریکارڈجےآئی ٹی کوفراہم کرتے،اب آپ نئےدستاویزات لےآئےہیں۔انہوں نےکہاکہ اب نئے دستاویزات کےکیس پراثرات دیکھیں گے۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ 12مئی1988اور30مئی2016کودبئی حکام نےجعلی قراردیا جبکہ دبئی حکام نےدونوں نوٹری پبلک کوغلط اورجعلی قراردیا۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ دبئی حکام نےدبئی سےاسکریپ جدہ جانےکی تردیدکی،جس پرسلمان اکرم راجہ نےکہاکہ یہ اسکریپ نہیں مشینری تھی،جےآئی ٹی نےغلط سوال کیے۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ دبئی حکام کی بات سےاتفاق نہیں کرتا،جس پرجسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ اتفاق کرنایانہ کرناآپ کاحق ہے،مرضی ہےبرطانیہ،امریکہ یاکسی بھی ملک سےاتفاق نہ کریں۔

وزیراعظم کےبچوں کےوکیل نےکہاکہ جےآئی ٹی نےکسٹم حکام سےاسکریپ کاسوال پوچھاتھا،اسکریپ اورمشین میں زمین آسمان کافرق ہے۔انہوں نےکہاکہ کسٹم حکام کی نظرمیں اسکریپ اورمشینری الگ الگ ہوتےہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ جواب میں واضح کیاتھامشینری دبئی سےجدہ گئی تھی،انہوں نےکہاکہ اب کہتےہیں مشینری ابوظہبی سےجدہ گئی تھی۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ مشینری ابوظہبی سےدبئی اورپھرجدہ گئی،جس پرجسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ دبئی کی حدودسےنکلتےہی اندراج ضروری ہوتاہے،اندراج نہیں ہوتاتوکسٹم حکام کاکیاکام ہے۔

وزیراعظم کےبچوں کےوکیل نےکہاکہ دبئی سےشارجہ کسٹم کااندراج نہیں ہوتا،انہوں نےکہاکہ حسین نوازسےاس نکتےپربھی مؤقف نہیں لیاگیا۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ یواےای سےباہرجانےپرہی کسٹم سےاندراج ہوتاہے،جس پرجسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ پہلےکبھی ابوظہبی سےمشینری کی منتقلی کی بات نہیں آئی۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ کوئی دستاویزات بھی فراہم نہیں کی گئیں،انہوں نےکہاکہ گزشتہ سال والےتحریری مؤقف میں بھی ایسا کچھ نہیں تھا۔

وزیراعظم کےبچوں کےوکیل نےکہاکہ پہلےکسی نےاعتراض بھی نہیں کیاتھا،جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ آپ آدھاحصہ بتاکرکہتےہیں بہت کام کیاہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ جب سوال پوچھاجاتاہےسابقہ تاریخ کی دستاویزات آجاتی ہیں،انہوں نےکہاکہ اب بھی آپ فروری2017کی دستاویزات لےآئےہیں۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ جےآئی ٹی کےنتائج پرحملےنہ کریں دستاویزات کاجواب دیں،جس پرسلمان اکرم راجہ نےکہاکہ عزیزیہ اسٹیل مل کابینک ریکارڈبھی موجودہے۔

عدالت عظمیٰ نےکہاکہ کیافروخت کےوقت عزیزیہ پرکوئی بقایا جات تھے،جس کےجواب میں وزیراعظم کےبچوں کےوکیل نےکہاکہ جوبقایاجات تھےوہ اداکردیےگئے۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ دستاویزات کےمطابق21ملین ریال عزیزیہ کےبقایاجات تھے،جس پر سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ یہ دستاویزات ذرائع سےحاصل کیےگئےتھے۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ جےآئی ٹی نےکہاعزیزیہ اسٹیل مل42ملین ریال میں فروخت ہوئی، انہوں نےکہاکہ 63 ملین ریال کی رقم عزیزیہ اسٹیل مل کےاکاؤنٹ میں آئی۔

وزیراعظم کےبچوں کےوکیل نےکہاکہ بینک ریکارڈموجودہے،جس پرجسٹس شیخ عظمت سعید نےکہاکہ یہ بینک ریکارڈلےآئےہیں تودوسرابھی لےآئیں۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ نقطہ یہ ہے63ملین ریال اکاؤنٹ میں آئےاس سےآگےچلناہے،جسٹس شیخ عظمت سعید نےکہاکہ یہ اتناآسان نہیں ہےمیری جان جبکہ جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ کیاعزیزیہ کےواجبات کسی دوسرےنےاداکیے۔

وزیراعظم کےبچوں کےوکیل نےکہاکہ معلوم کرکےبتاسکتاہوں،جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ حسین،عباس،شہبازشریف کی بیٹی عزیزیہ کےحصہ دارتھے،جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ کیس کی تاریخ یہ ہےخفیہ جگہوں سےادائیگیاں ہوتی ہیں۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ جےآئی ٹی کوچاہیےتھاان پرسوالات کرتی،جسٹس شیخ عظمت سعید نےکہاکہ کیااخبارمیں اشتہاردےکرسوال پوچھتے۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ عزیزیہ آپ کی کمپنی تھی توآپ کوعلم نہیں واجبات کتنےتھے،جس پرسلمان اکرم راجہ نےجواب دیاکہ میں وکیل ہوں گواہ نہیں۔

وزیراعظم کےبچوں کےوکیل نےکہا وقفےکےدوران تلاش کرکےآگاہ کروں گا،انہوں نےکہاکہ ذرائع دستاویزات کےمطابق حسین نوازکو42ملین ریال ملے۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ عزیزیہ کےاکاؤنٹ میں63ملین ریال آنےکابینک ریکارڈہے،جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ یہ کمپیوٹرائزڈبینک دستاویزات کی بھی نقل ہے۔

وزیراعظم کےبچوں کےوکیل نےکہا جوواجبات تھےوہ فروخت سےپہلےاداکردیےگئےتھے،جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ آپ کہناچاہتےہیں کسی خفیہ شخص نےادائیگی کی۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ اس کیس کی تاریخ یہ ہےخفیہ جگہ سےادائیگیاں ہوتی رہیں،جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ عزیزیہ کےنوازشریف،حسین شہبازشریف شیئرہولڈزتھے۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ باقی دوحصہ داروں نےاپناحصہ آپ کودیااورآپ سےلےلیا۔ جس پر سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ باقی حصہ دارعدالت آکراپنامؤقف دےسکتےہیں۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ معاملےکی تہہ تک جاکرسب کچھ سامنےلاناچاہتےہیں،انہوں نےکہاکہ فلیٹس فنڈزکےذرائع کےلیےایک نہیں7،8لنک کوجوڑناپڑےگا۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ لندن فلیٹس حمزہ،حسین،حسن سمیت دیگربچوں کےزیراستعمال رہے،جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ لندن فلیٹس میں مستقل قیام نوازشریف کےبچوں کاہی ہے۔

وزیراعظم کےبچوں کےوکیل نےکہا کہ فلیٹس1993میں حسین نوازکےخریدنےکےالزام کومستردکرتےہیں،جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ لندن فلیٹس خریدنےکےذرائع آج تک سامنےنہیں آسکے۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ موزیک فونیسکانےٹرسٹ کی تردیدکی مریم کوبینفشل اونرقراردیا،انہوں نےکہاکہ برٹش آئی لینڈکےسرکاری ذرائع سےدستاویزات موصول ہوئیں۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ مریم بینفیشل اونرنہیں تودستاویزات سےثابت کریں،انہوں نےکہا کہ کیاکوئی اوربینفیشل اونربھی ہےتوتبادیں۔

جسٹس عظمت نےکہاکہ اگلےمرحلےمیں ٹرسٹ ڈیڈکاجائزہ لیں گے،جس پرسلمان اکرم راجہ نےکہاکہ الزام یہ نہیں کہ مریم نوازبینفشل اونرہیں،الزام1993سےفلیٹس کی ملکیت کاہے۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ یہ الزام نہیں موجوددستاویزات کےمطابق حقیقت ہے،جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ کیاآپ اس حقیقت کوتسلیم کررہےہیں؟جس پرسلمان اکرم راجہ نےکہاکہ ہم بینفشل اونرکوہی تلاش کررہےہیں۔

جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ 1993میں بچوں کی عمریں دیکھیں تولگتاہےفلیٹ نہیں خریدسکتے،انہوں نےکہاکہ الزام ہےفلیٹ وزیراعظم نوازشریف نےخریدے۔

جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ درخواست گزارکہتےہیں وزیراعظم فنڈزبتائیں،جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ لوگ پوچھتےہیں الزام کیاہےتوکہہ دیتے ہیں9اے5کاہے۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ 9اے5کامطلب ہوتاہےکرپشن اورکرپٹ پریکٹس، جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ الزام یہ ہےکہ بچےبےنامی دارہیں۔

جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ ٹھیک ہےنوٹ کرلیافلیٹ حسین نوازنےحاصل کیے،سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ مریم،حسن ،حسین نےغلط کام نہیں کیاصرف شیئرزوصول کیے۔

جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ الزام ہےمریم وزیر اعظم کی کفالت میں ہیں،انہوں نےکہاکہ نعیم بخاری کاکہناہےمریم سچ نہیں بولیں گی تونتائج ہوں گے۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ مریم پرجعلی دستاویزعدالت میں دینےکابھی الزام ہے،جسٹس شیخ عظمت سعید نےکہاکہ مسٹرسلمان اکرم راجہ چکری سےآگےچلو۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ عدالت سوالیہ نشان لگارہی ہےتومجھےجواب کاموقع دیاجائے،جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ آپ گھنٹےسےدلائل دےرہےہیں لیکن نئی بات نہیں کی۔

وزیراعظم کےبچوں کےوکیل نےکہا کہ عزیزیہ اسٹیل مل بنی اورکام شروع کردیا،جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ اورنقصان اٹھاناشروع کردیا۔

جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ آپ کےخلاف الزام نہیں توتوانائی کیوں خرچ کررہےہیں،جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ الزام غلط اورجعلی دستاویزات دینےکےہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ ٹھیک ہےمان لیارقم گلف اسٹیل مل سےگئی لیکن کیسے؟ انہوں نےکہاکہ ہم ڈیڑھ سال سےپوچھ رہےہیں رقم کیسےگئی،بتائیں کیسے؟۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ باہرجاکرکہہ رہے ہوتے ہیں عدالت نےیہ کیا کیا،انہوں نےکہاکہ وکلا جانتے ہیں نیب کا قانون کیا کہتا ہے۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ فلیٹس کے حصول میں وزیراعظم کے بچوں کا کوئی کردار نہیں،جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ آپ کہنا چاہتےہیں فلیٹس وزیراعظم نےحاصل کیےہیں۔

وزیراعظم کےبچوں کےوکیل نےکہاکہ میں یہ نہیں کہنا چاہتا،انہوں نےکہاکہ حسین نواز نے فلیٹس 2006 میں حاصل کیے۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ وزیراعظم کے بچوں پر کوئی غلط کام کرنے کا الزام نہیں،جسٹس اعجاز افضل نےکہاکہ الزام ہے کہ مریم نواز وزیراعظم کی زیر کفالت ہیں۔

جسٹس اعجاز افضل نےکہاکہ الزام مریم نواز پرموجود ہے،انہوں نےکہاکہ نعیم بخاری کے مطابق مریم نواز نے جعل سازی کی۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ عدالت میں بوگس دستاویزات دینے کا بھی الزام ہے،انہوں نےکہاکہ جعل سازی پرفوجداری کارروائی کی استدعا بھی کی گئی ہے۔

جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ بچےخریداری ثابت نہ کرسکےتوپبلک آفس ہولڈرسےپوچھا جائےگا،جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ منی ٹریل سےمتعلق ہمارےسوال اپنی جگہ پرموجودہیں۔

جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ منی ٹریل ثابت نہ ہوئی تونتائج وزیر اعظم کوبھگتناہوں گے۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ جےآئی ٹی نےخود نتیجہ نکال لیاحماد بن جاسم کےانٹرویوکی ضرورت نہیں،جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ عدالت کہہ چکی ہےفیصلہ دستاویزات پرہوناہے۔

جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ آپ دلائل دےرہےہیں کیس مزیدتحقیقات کابن چکاہے،وزیراعظم کےبچوں کے وکیل نےکہاکہ میں صرف یہ کہہ رہا ہوں مکمل انکوائری ہونی چاہیے۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ دادامحمدشریف نےزندگی میں حسن اورحسین کےلیےرقم کاانتظام کیا،جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ مزیدتحقیقات کاکہہ کرآپ نےنئی بات کردی۔

وزیراعظم کےبچوں کے وکیل نےکہاکہ میں نےاپنےموکل سےپوچھاہےان کاکہناہے63ملین ریال ٹوٹل ہے،جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ مسٹرسلمان یہ کیاکہہ رہےہیں آپ؟۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ موکل نےکہا21ملین ریال کی ادائیگی میری ذمہ داری تھی، سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ دونوں فیملیزنے63ملین ریال استعمال کی اجازت حسین نوازکودی۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ سب باتیں زبانی ہی ہیں،جس پرسلمان اکرم راجہ نےکہاکہ یہ توخاندان کےاندرکی بات ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ جےآئی ٹی کودستاویزنہیں دیں ہم کونہیں دکھائیں پھرکسےدیں گے،انہوں نےکہاکہ منی ٹریل کاایک سال سےپوچھ رہےہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ سوال ایک ہی ہےرقم کہاں سےآئی؟کہہ رہےہیں منی ٹریل ہےکہاں ہے؟جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ کیاآپ کسی متعلقہ فورم پردستاویزدیناچاہتےہیں۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ یہ بات عدالت پرچھوڑتا ہوں،جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ ہل میٹل سےکس نےفائدہ اٹھایا،جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ بارثبوت آپ پرہےجوکہ ابھی تک ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ باربارکہاجاتاہےمنی ٹریل موجودہے،انہوں نےکہاکہ حسین نےیہ بھی کہاسعیداحمدنےکوئی ادائیگی نہیں کی۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ ہل میٹل کےلیےرقوم کہاں سےآئی یہ بھی معلوم نہیں، انہوں نےکہاکہ ہل میٹل سےفائدہ کس نےاٹھایایہ سب کوعلم ہے۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ فنڈزکےذرائع معلوم نہیں،فائدہ اٹھانےوالاسامنےہے،انہوں نےکہاکہ غلط کام کاثبوت نہیں توصیح کام کابھی نہیں ہے۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ کسی غلط کام کاثبوت نہیں ہے،جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ کسی صحیح کام کابھی ثبوت نہیں ہے۔

وزیراعظم کےبچوں کے وکیل نےکہاکہ کسی کابےنامی دارہونابھی ثابت نہیں،جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ جن کی جائیدادہوتی ہےان کووضاحت دینا پڑتی ہے۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نےکہاکہ یہ دیکھنا ہےکیس بنتاہےکہ نہیں،سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ ہزاروں پاکستانی ملک سےباہرکام کررہےہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ وہ ہزاروں پاکستانی وزیراعظم نہیں،جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ نیب کاقانون9اے5دوبارہ کھول رہےہیں۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ خواجہ حارث نےکل یہ قانون تفصیل سےپڑھاتھا،انہوں نےکہاکہ حسین نوازکابےنامی داراورزیرکفالت ہونا ثابت نہیں ہوا۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ جس کی جائیداد اس کوہی وضاحت دینی ہوتی ہے،وزیراعظم کےبچوں کےوکیل نےکہاکہ عدالت بیرون ملک مقیم پاکستانی کی کاروبارکی تحقیقات کا حکم نہیں دیتی۔

عدالت عظمیٰ نےکہاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کےہزاروں مقدمات زیرالتوانہیں،سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ حسین نوازوزیراعظم نہیں ہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ حسین نوازوزیراعظم کےصاحبزادےضرورہیں۔جسٹس شیخ عظمت سعید نےکہاکہ بتاناآپ کی ذمہ داری پیسہ کہاں سےآیا۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نےکہاکہ ایک حصہ یہ تھاکیامقدمہ بنتاہے،دوسراحصہ یہ ہےکس مقدمےپرفیصلہ ہوناہے۔انہوں نےکہاکہ آپ کہناچاہتےہیں کیس احتساب عدالت بھیجاجائے۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ مقدمہ احتساب عدالت ارسال کرنےکاکبھی نہیں کہا،انہوں نےکہاکہ صرف جامع تحقیقات کی بات کررہاہوں۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ وضاحت نہ آنےکامطلب ہےکوئی وضاحت موجودنہیں،انہوں نےکہاکہ کیاقطری کاتعلق قابل قبول وضاحت ہے۔

وزیراعظم کےبچوں کےوکیل نےکہاکہ حسین نوازنےآرنک کمپنی کومنرواکمپنی سےروابط کےلیےمقررکیا،جسٹس شیخ عظمت سعید نےکہاکہ دستاویزات جمع کرانےمیں اتنی دیرکیوں کی؟۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ حسین نوازکی جانب سےفیصل ٹوانانےادائیگی منرواکوکی۔ جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ حسین نواز کےریکارد کےمطابق فیصل ٹوانادوست ہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ بینفشل اونرمریم ہیں اس کی تصدیق شدہ دستاویزات ہیں،جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ آپ چاہتےہیں آپ کی غیرتصدیق شدہ نقول کایقین کرلیں۔

وزیراعظم کےبچوں کےوکیل نےکہاکہ ہمارامؤقف اس سےمتعلق مزیدتحقیقات کاہے۔ عدالت نےکہاکہ آپ چاہتےہیں سرکاری سطح سےآنےوالی دستاویزات کایقین نہ کریں۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ کیاآپ نےبرٹش آئی لینڈکوغلطی دورکرنےکیلئےرابطہ کیا،جس پر سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ 2012کی دستاویزات ہیں اورآج2017ہے۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ یہ تصدیق دستاویزات خفیہ تھیں جواب سامنےآئی ہیں،جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ جےپی سی اےکوحسین نوازپیسےدیتےتھے۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ جےپی سی اےحسین نوازکےنکتےپرکچھ بھی لکھ کردےسکتی ہے،انہوں نےکہاکہ نجی کمپنی کےمقابلےسرکاری دستاویزات کیسےمستردکریں۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ جےپی سی اےسےپہلےمنرواکامعاملہ حل کریں،جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ جےپی سی اےسےپہلےمنرواکامعاملہ حل کریں۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ آپ ہونےوالامعاہدہ سامنےلائیں، جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ منرواون مین کمپنی تھی انٹرنیٹ پردیکھ لیں۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ منرواکےبعدسروسزفراہم کرنےکامعاہدہ جےپی سی اےسےہوا۔جےپی سی اےنےواضح کیامریم کاان سےکبھی رابطہ نہیں ہوا۔

وزیراعظم کےبچوں کےوکیل نےکہاکہ جےپی سی اےنےمریم سےکبھی خدمات ہی نہیں لیں۔جسٹس شیخ عظمت سعید نےکہاکہ منرواکامسئلہ تاحال حل نہیں ہوسکا۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ نوٹری کی تصدیق کرانےوالےوقاراحمدعدالت میں موجودہیں، انہوں نےکہاکہ وہ عدالت کوبیان دیناچاہتےہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ وقاربیان دیناچاہتےہیں اورحسین ان کابیان نہیں بتاناچاہتے،انہوں نےکہاکہ دبئی حکام کےپاس وقار احمد کا ریکارڈ موجود نہیں۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ دبئی حکام سےغلطی ہوئی ہوگی،جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ آپ کی بات سےلگتاہےدبئی حکام بہت غلطیاں کرتےہیں۔

وزیراعظم کےبچوں کےوکیل نےکہاکہ بی وی آئی نے2012میں کمپنیوں کی تفصیلات چندگھنٹےمیں طلب کی جبکہ ایک خبرکےمطابق ان معلومات میں بہت سی غلطیاں ہوئیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ 10دنوں میں12ای میلزکاتبادلہ ہوا، سلمان اکرم نےاخباری تراشےبھی حسین نوازکےدفاع میں پیش کردیے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ ایف آئی اےنےتحقیقات شروع کی توبی وئی آئی میں ہل چل مچ گئی تھی،انہوں نےکہاکہ میڈیاکےمطابق ہل چل اورتحقیقات کےدوران بہت غلطیاں ہوئیں۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ آپ ہم سےاخباری تراشےپریقین کرنےکاکہہ رہےہیں،جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ موزیک فونیسکاسے12ای میلزکاتبادلہ ہوا۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ ٹرسٹ ڈیڈکی پہلی کاپی عدالت کوکب دی گئی؟ انہوں نےکہا کہ پہلی ٹرسٹ ڈیڈعدالت کوکومبرگروپ کی دی گئی۔ جس پرسلمان اکرم راجہ نےکہاکہ یہ غلطی ہوگئی تھی۔

جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ جےآئی ٹی نےیہ دستاویزتصدیق کےلیےبھیجیں،انہوں نےکہایہ فونٹ2007 میں آیا جبکہ ٹرسٹ ڈیڈ2006میں تیارہوئی۔

عدالت کی جانب سے کہاگیاکہ فرانزک رپورٹ میں کہاگیادونوں کمپنیوں کی دستخط والا صفحہ ایک ہے،جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ بادی النظرمیں جووہ کہہ رہےہیں یہ دستاویزات غلط ہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل راناوقارروسٹرم پر طلب کرکےعدالت نے سوال کیاکہ راناصاحب بتائیں غلط دستاویزات دی جائیں توکیاہوتاہےجس پرایڈیشنل اٹارنی جنرل جواب دیاکہ غلط دستاویزات پرمقدمہ درج ہوتاہے۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ فرانزک آڈٹ میں فونٹ کاتبصرہ آیا جبکہ فرانزک میں دستخط والاصفحہ2مرتبہ استعمال ہونےکاانکشاف ہوا۔ انہوں نےکہاکہ رپورٹ میں مریم کےدستخط کوبنیاد بنایا گیا۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ ٹرسٹ ڈیڈکےوقت کیلبری فونٹ کااستعمال نہیں ہوسکتاتھا، انہوں نےکہاکہ ہرجگہ ایک جیسےایک سائزکےدستخط کیسےہوسکتےہیں؟۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ دستخط میں ایک جیسی غلطی دونوں دستاویزات پرکیسےہوسکتی ہے؟ انہوں نےکہاکہ فرانزک رپورٹ میں جوکہا وہ بکواس نہیں ہے۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نےکہاکہ عدالت میں غلط دستاویزات دیناکیسےہوگیا،انہوں نےکہاکہ ہم توسوچ بھی نہیں سکتےآپ لوگوں نےکیاکردیا۔

جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ چھٹی کےدن توبرطانیہ میں کوئی فون بھی نہیں اٹھاتا، جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ ٹرسٹ ڈیڈکی تصدیق ہفتےکوکرائی گئی۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ جےآئی ٹی کےرابطہ کرنےپرکمپنی نےجواب نہیں دیا،جس پر سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ یہ دستاویزات اکرم شیخ نےجمع کرائی ہیں۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ معلوم کروں گایہ کیسےہواہے،جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ جعلی دستاویزات کےمعاملےنےمیرادل توڑدیا۔انہوں نےکہاکہ جعلسازی پرقانون اپناراستہ خوداختیارکرےگا۔

وزیراعظم کےبچوں کےوکیل نےکہاکہ تکنیکی بنیادپرکیلبری فونٹ کامعاملہ درست نہیں،جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ گورےتوچھنک مارتےہیں تورومال لگالیتےہیں۔

جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ کیاکوئی قانونی فونٹ چوری کرےگا،جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ ٹرسٹ ڈیڈکےساتھ بہت سےمسائل ہیں۔ انہوں نےکہاکہ ہرشخص کےآئینی اختیارات پرہم بہت محتاط ہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ 4 فروری2006 ہفتےکو برطانیہ میں چھٹی تھی،آپ کےپاس اس کاکیاجواب ہے جس پر سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ ممکن ہےکوئی غلطی ہوگئی ہو۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ دستاویزات تیاراوراٹیسٹ کسی اوردن ہوئے،جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ اپنی آنکھیں بندکیسےکرسکتےہیں نتائج اچھےنہیں ہوں گے۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ کیلیبری فونٹ کابیٹاورژن آئی ٹی ماہرین کودیاجاتاہے،جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ قطری شہزادےکوکہاآجائیں پرانہوں نےکہامیں نہیں آتا،انہیں پاکستانی سفارت خانےآنےکاکہاگیاپروہ اس پربھی نہیں مانے۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ کیاہم سارےاب دوحہ چلےجائیں،جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ خط میں حماد بن جاسم نےکہامیں پاکستانی عدالتوں کاپابند نہیں۔

وزیراعظم کےبچوں کےوکیل نےکہاکہ حماد بن جاسم کی فیملی کی جانب سے3ادائیگیاں کی گئیں،جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ کیایہ ادائیگیاں بھی نقدکی گئیں۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ یہ رقوم بینک کےذریعےمنتقل ہوئیں، انہوں نےکہاکہ پیسےکاسوال حماد بن جاسم سےہوسکتاہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ حمادبن جاسم نےخطوط میں رقوم بھیجنےکالفظ تک نہیں لکھا۔

جسٹس شیخ عظمt نےکہا کچھ لوگوں کوپاکستان کےویزےسےبھی استثنیٰ حاصل ہے،انہوں نےکہاکہ اخبارکےمطابق تلور کےشکار کے لیے آنے والوں کےلیےویزہ نہیں ہوتا۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ قطری توویڈیولنک پربھی آمادہ نہیں ہوا، انہوں نےکہاکہ قطری شاید زیادہ فوٹوجینک نہیں اس لیےآمادہ نہیں ہوئے۔جسٹس شیخ عظمت سعید نےکہاکہ لافرم کااکاؤنٹ دکھادیں رقم کافلوواضح ہوجاتاہے۔

جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ یہ افریقہ یاپانامانہیں انگلینڈہےتمام ریکارڈمل جاتا ہے،انہوں نےکہاکہ ریکارڈلادیں بات ختم ہوجاتی ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ حماد دبن جاسم بیان ریکارڈکراتاتوکہانی ختم ہوجاتی،انہوں نےکہاکہ قطری تواپنےمحل سےباہرآنےکوتیارہی نہیں تھا۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ جےآئی ٹی بیان ریکارڈکرنےکیلئےاورکیاکرتی،جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ قطری کوئی ریکارڈپیش کرتاتوشایدواقعی ضرورت نہ پڑتی۔ انہوں نےکہاکہ کیاقطری پاکستان آنےکیلئےتیارہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ قطری کوپیش کرناحسین نوازکی ذمہ داری تھی، انہوں نےکہاکہ قطری حسین نوازکاسب سےاہم ترین گواہ تھا۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ وزیراعظم اوران کےبچوں نےکوئی غلط کام نہیں کیا،انہوں نےکہاکہ ہماراموقف مستردکرناہےتوپہلےتحقیقات مکمل کی جائیں۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ دبئی میں حسن نوازکی کمپنی بھی ہے،کمپنی کیلئےفنڈکہاں سےآیا،انہوں نےکہاکہ کیانوازشریف کمپنی کےچیئرمین تھے۔

وزیراعظم کےبچوں کےوکیل نےکہاکہ نوازشریف کمپنی کےچیئرمین تھے لیکن تنخواہ نہیں لیتےتھےجسٹس اعجازافضل نےکہاکہ تنخواہ نہ بھی لیں تویہ ان کےاثاثوں میں شمارہوتاہے۔

جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ 6ہزارپاؤنڈکہاں سےآئیں جوفلیگ شپ کومنتقل ہوئے،جس پرسلمان اکرم راجہ نےکہاکہ جواب لےکرکل آگاہ کردوں گا۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ کیپٹن صفدرکی وکلالت کون کررہا ہے؟جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ کیاکوئی کیپٹن صفدرکی نمائندگی کےلیےموجودہے۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ کیپٹن صفدرکےوکیل شاہدحامدچھٹی پرہیں،جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ کل سےمتعلق کیپٹن صفدرکوپیغام پہنچادیں، کوئی آیاتوٹھیک ورنہ رہنےدیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top