رپورٹ اورشواہد کےبعد فیصلہ کریں گے معاملہ نیب کوبھیجیں یانااہلی کافیصلہ کریں‘ سپریم کورٹ -
The news is by your side.

Advertisement

رپورٹ اورشواہد کےبعد فیصلہ کریں گے معاملہ نیب کوبھیجیں یانااہلی کافیصلہ کریں‘ سپریم کورٹ

اسلام آباد : سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاناما کیس کی جے آئی ٹی رپورٹ پرسماعت کل تک ملتوی ہوگئی۔

تفصیلات کےمطابق جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ اورجسٹس اعجازالاحسن پرمشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی عمل درآمد بینچ نے پاناما کیس کی جے آئی ٹی رپورٹ پرسماعت کی۔

پاناما کیس کی جے آئی ٹی رپورٹ پر سماعت کےآغازپروزیراعظم میاں محمدنوازشریف کےوکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل دیے۔

وزیراعظم کےوکیل خواجہ حارث نے20اپریل کاسپریم کورٹ کا حکم پڑھ کرسنایا کہ عدالت نےجےآئی ٹی کو کیامینڈیٹ دیاتھا۔انہوں نےکہاکہ بتاؤں گاعدالت نےکس قسم کی تحقیقات جےآئی ٹی کوسونپی تھیں۔

انہوں نےکہاکہ جےآئی ٹی نےسرمایہ بیرون ملک جانے کی تحقیقات کیں جبکہ 20 اپریل کےفیصلےمیں تحقیقات کی سمت کا تعین کیا گیا تھا۔

وزیراعظم کے وکیل نےدلائل کےدوران کہاکہ عدالت کےفیصلےمیں 13سوالات کیےگئے تھے،سوالات گلف اسٹیل، جدہ اسٹیل،لندن فلیٹس اورقطری خط سےمتعلق تھے۔

خواجہ حارث نےکہاکہ قطری خط کے درست یاغلط ہونے پرسوال کیاگیاتھا،بیئریرسرٹیفکیٹ کےبارےمیں پوچھا گیا۔انہوں نےکہاکہ فلیٹ کی خریداری کےطریقےکارکےبارےمیں پوچھاگیاتھا۔

وزیراعظم کےوکیل نےکہاکہ بیٹوں نےوزیراعظم کوتحائف کیسے دیےیہ سوالات کیےگئےتھے۔ انہوں نےکہاکہ نیب اورایف آئی اے میں مختلف نوعیت کےمقدمات زیرالتواء تھے۔

انہوں نےکہاکہ جے آئی ٹی نے13 سوالات کےبجائے 15کردیے،جےآئی ٹی نےآمدن سےزائد اثاثوں کابھی سوال بنا دیا۔ جس پرجسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ مزیدجائیداد کی نشاندہی کرناکیاجےآئی ٹی کامینڈیٹ نہیں تھا؟ ۔

خواجہ حارث نےکہاکہ جومقدمات ختم ہوچکےتھےان کی جانچ پڑتال بھی کی گئی،انہوں نےکہاکہ ایک کیس جس کا فیصلہ ہوچکا، اس کودوبارہ کھولنےکا نہیں کیا گیا۔

جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ حدیبہ پیپرملزکی اپیل دائر کرنے کی کیا استدعا کی گئی تھی، جس پروزیراعظم کےوکیل نےکہاکہ 13سوالات کی روشنی حدیبیہ پیپرملزدوبارہ نہیں کھولاجاسکتا۔

جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ میری یادداشت کےمطابق لندن فلیٹ پہلےبھی مقدمات کا حصہ رہےجس پرخواجہ حارث نےکہاکہ ختم مقدمات کو دوبارہ نہیں کھولا جاسکتا۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ تمام مقدمات کا ایک دوسرے سے تعلق تھا،انہوں نےکہاکہ ان معاملا ت کاتعلق لندن فلیٹ سےہوتوکیا کیا جائے۔جس پرخواجہ حارث نےکہاکہ جائزہ لیناالگ بات اورازسرنوتفتیش کرنا الگ بات ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ التوفیق کیس پر عدالت کا فیصلہ موجود ہے،انہوں نےکہاکہ اسحاق ڈار کا بیان التوفیق کمپنی سےمنسلک ہے۔

جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ جےآئی ٹی اپنی تجاویز اورسفارشات دے سکتی تھی،انہوں نےکہاکہ جےآئی ٹی نےجو بہترسمجھا اس کی سفارش کردی۔

انہوں نےکہاکہ سفارش پرعمل کرنا ہےیانہیں، فیصلہ عدالت نےکرناہے،عدالت نےاپنےمرتب سوالوں کےجواب دیکھنا ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نےکہاکہ تمام مواد کا جائزہ لیے بغیرتحقیقات آگےنہیں بڑھ سکتی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نےکہاکہ منی ٹریل آج تک ایک راز ہے،لندن فلیٹ کی منی ٹریل کا جائزہ لینا ہوگا،جس پروزیراعظم کےوکیل نےکہاکہ رپورٹ پرفیصلہ ٹرائل کورٹ کرسکتی ہے سپریم کورٹ نہیں۔

خواجہ حارث نےکہاکہ سپریم کورٹ تب فیصلہ کرےگی جن ٹرائل کورٹ کےفیصلےپراعتراض ہو۔ جسٹس عظمت نےکہاکہ 17سال پہلےکیس کاجائزہ لیاجاتاتوچیئرمین نیب یہاں نہ ہوتے۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نےکہاکہ کیا چیئرمین نیب ٹی وی نہیں دیکھتے؟اخبار نہیں پڑھتے۔ جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ جےآئی ٹی نےکسی قسم کا فیصلہ جاری نہیں کیا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نےکہاکہ جےآئی ٹی نےسفارشات دیں فیصلہ عدالت کرےگی ،جس پرخواجہ حارث نےکہاکہ جےآئی ٹی کا مینڈیٹ یہ نہیں تھا کہ وہ سفارشات دے۔

وزیراعظم کےوکیل نےکہاکہ یک طرفہ طورپرنہیں ہوسکتیں،تحقیقات خفیہ طورپرنہیں ہوسکتیں،انہوں نےکہاکہ تحقیقات قانون اورعدالت کےحکم کےمطابق ہی ہوسکتی ہیں۔

جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ رپورٹ کےکسی ایک حصےکو درست یا غلط کیسےقرار دے دیں،جس پرخواجہ حارث نےکہاکہ جےآئی ٹی کوحدیبیہ پیپرملز کھولنے کی سفارش کا اختیار نہیں تھا۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ آپ کی بات ہم نےسن لی اورنوٹ بھی کرلی،جس پروزیراعظم کےوکیل نےکہاکہ شریف خاندان کےخلاف مقدمات کی تمام تفصیلات طلب کی گئیں۔

وزیراعظم کےوکیل نےکہاکہ چیئرمین نیب کوکہاگیامقدمات پراپنی رائے دیں، جسٹس شیخ عظمت سعید نےکہاکہ جے آئی ٹی نےسفارش کردی تو کیا برا کیا۔

جسٹس اعجاز الاحسن جےآئی ٹی نےصرف سفارش کی ہےحکم نہیں دیا،جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ جےآئی ٹی سفارش سے زیادہ عدالت کا حکم اہم ہوگا۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ آپ کہتے ہیں ہم کو پوچھا نہیں گیا ،سوالات کےجوابات میں کہا گیا کہ میں نہیں جانتا۔ انہوں نےکہاکہ تمام افراد کوجواب، دستاویز،منی ٹریل کےلیےواضح موقع دیاگیا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نےکہاکہ جےآئی ٹی سےحقائق چھپائے گئے،انہوں نےکہاکہ جےآئی ٹی سوالات کےجواب میں کہا گیا ہمیں معلوم نہیں ہے۔ جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ آپ نےاپنےجواب میں دستاویزات کی تردید نہیں کی۔

خواجہ حارث نےکہاکہ ہماری درخواست قانونی نکات پرہے،جے آئی ٹی کی رائےکی قانون میں کوئی نظیرنہیں۔ جسٹس اعجاز افضل نےکہاکہ ہم نے جے آئی ٹی کی رائے نہیں میٹیریل دیکھنا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نےکہاکہ وزیراعظم سے لندن فلیٹ سےمتعلق پوچھا گیا،انہوں نےکہاکہ لندن فلیٹ شاید حسین نواز کا ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ ہم آپ کو وہ بتارہےجووزیراعظم اوربچوں نےجےآئی ٹی میں کہا۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ جب ہربات کی تردید ہوتوجےآئی ٹی کوکیاکرناچاہیےتھا،وزیراعظم سے پوچھا توکہا یاد نہیں شاید ریکارڈ اسپیکرکو دیا ہو۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ وزیراعظم نےخط قطری نہ دیکھنے کا موقف اپنایا،جس پروزیراعظم کےوکیل نےکہاکہ ہمیں کوئی دستایزات نہیں دکھائی گئیں۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہاکہ وزیراعظم توکہتے رہےہمیں معلوم ہی کچھ نہیں،جس پر خواجہ حارث نےکہاکہ 1995سے وزیراعظم کاروبار سے لاتعلق ہوگئےتھے۔

وزیراعظم کےوکیل نےکہاکہ وزیراعظم کی تنخواہ والےمعاملے پرابھی بات نہیں کروں گا،انہوں نے کہا میرے ذرائع آمدن گوشواروں میں موجود ہیں۔

خواجہ حارث نےکہاکہ وزیراعظم نےکہا ان کےاوراثاثے ہیں توسامنےلائیں،وزیراعظم سے ایف زیڈکمپنی سے متعلق سوال نہیں کیاگیا۔جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ کہا جاتا ہے کہ گھر میں ہر بات ہوتی ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نےکہاکہ صرف کہا گیا لندن فلیٹس کس کی ملکیت ہےعلم نہیں،وزیراعظم نےکہا فلیٹس حسن یاحسین کی ملکیت ہیں۔ خواجہ حارث نےکہاکہ جے آئی ٹی کی تحقیقات شفاف نہیں،وزیراعظم سے دستاویزات پر موقف نہیں لیا گیا۔

وزیراعظم کےوکیل نےکہاکہ عدالت ایسی رپورٹ پر حکم ہی نہیں جاری کرسکتی،انہوں نےکہاکہ جے آئی ٹی نے کہا 27 ملین وزیراعظم کو پارٹی سے واپس ملے۔

خواجہ حارث نےکہاکہ وزیراعظم سے یہ سوال پوچھا ہی نہیں گیا، انہوں نےکہاکہ ریکارڈ کے مطابق 100 ملین نہیں،145ملین پارٹی کودیاگیا۔

وزیراعظم کے وکیل نےکہاکہ 45ملین روپےقرضہ تھا،100 ملین چندہ دیا گیا،انہوں نےکہاکہ عدالت جب چاہےتمام دستاویزات کاجائزہ لےسکتی ہے۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ ہیل میٹل سے پیسے پاکستان کیسے آئے،انہوں نےکہاکہ یہ بات آپ نےخود عدالت میں بتائی تھی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نےکہاکہ وزیراعظم نےآمدن سیاسی مقاصد کےلیےاستعمال کرنےکی تردید کی۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ حسن نواز کا وزیراعظم سے کیا تعلق ہے؟ انہوں نےکہاکہ کیا وزیراعظم حسن کےوالد اورایف زیڈ ای کےچیئرمین نہیں؟۔

جسٹس اعجاز الاحسن نےکہاکہ کیا وزیراعظم نے اقامہ نہیں لیا تھا؟جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ اقامہ ان دستاویزات پرلیا گیا جس میں املاکی بھی غلطی تھی۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ جو باتیں جےآئی ٹی نے نہیں پوچھی تھیں آج ہم نے پوچھ لیں،انہوں نےکہاکہ کیاوزیراعظم کا ال راجھی بینک میں اکاؤنٹ تھا۔

خواجہ حارث نےکہاکہ جی وزیراعظم کاال راجھی بینک میں اکاؤنٹ تھا،جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ والیم 10میں لکھاہےکتنی قانونی معاونت آتی ہےکتنی نہیں۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نےکہاکہ والیم 10خفیہ کیوں ہے معلوم نہیں،جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ والیم 10میں شواہد نہیں ہیں شاید اسی لیےبندہے۔

جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ والیم10کاہمیں نہیں معلوم سربمہر کیوں ہے،انہوں نےکہاکہ اصرار کریں تو والیم 10بھی کھولا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم کےوکیل نےکہاکہ وزیراعظم نےایف زیڈای کی بنیاد پراقامہ2012میں لیاتھا،انہوں نےکہاکہ وزیراعظم ایف زیڈای سے تنخواہ نہیں لیتے۔

خواجہ حارث نےکہاکہ اثاثےآمدن سےزائدہوں توبھی صفائی کاموقع ملتاہے،جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ یہی بات توہم ایک سال سےکررہےہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ ہمیں تومنی ٹریل اورآمدنی کےذرائع کاپہلےدن سےانتظارہے،جس پرخواجہ حارث نےکہاکہ جےآئی ٹی نےکسی فریق سےدستاویزات پروضاحت ہی نہیں مانگی۔

جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ آپ اپنا جواب ہمارےپاس دےدیں،انہوں نےکہاکہ آپ نےاپنےجواب میں کسی دستاویزکی تردیدنہیں کی۔

انہوں نےکہاکہ آپ چاہیں تومتفرق درخواست میں دستاویزات چیلنج کرسکتےہیں،جس پر خواجہ حارث نےکہاکہ وزیراعظم نہ توکسی آف شورکمپنی کےمالک ہیں نہ تنخواہ وصول کی۔

جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ جوباتیں جےآئی ٹی نےنہیں پوچھی وہ ہم نےپوچھ لیں بات ختم،وزیراعظم کےوکیل نےکہاکہ عدالت ایسی رپورٹ پرحکم جاری نہیں کرسکتی۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ وزیراعظم نےجےآئی ٹی کوکہاقطری خطوط نہیں دیکھے،انہوں نےکہاکہ کوئی چیزخفیہ نہیں ضرورت پڑنےپروالیم10کھول دیں گے۔

جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ کہہ چکےہیں کچھ بھی رازمیں نہیں رکھاجائےگا،جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ والیم10کوخفیہ جےآئی ٹی نےکیا ہم نےنہیں۔

جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ جےآئی ٹی کی تحقیقات جاری نہیں دفترخالی کرنےکاکہہ دیاہے،انہوں نے کہاکہ بیرون ملک جواب تاخیرسےآیاتویقیناً اس کوآپ سےشیئرکیاجائےگا۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ جےآئی ٹی نےسوئٹزرلینڈسےجواب مانگاہےجونہیں آیا،انہوں نےکہاکہ آپ کےحق میں بعدمیں کوئی چیزآتی ہےتوکیاہم چھپالیں گے۔

خواجہ حارث نےکہاکہ عدالت نےطےکرناتھاگلف اسٹیل مل کیسےبنی اورکیسےفروخت ہوئی،انہوں نےکہاکہ عدالت نےطےکرناتھا پیسہ جدہ،لندن اورقطرکیسےگیا۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ جب تک مکمل تحقیقات نہ ہوں معاملےکودیکھناہوگا،انہوں نےکہاکہ دیکھناتھاکہ رقم کہاں سےآئی۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ اصل چیزمنی ٹریل کا سراغ لگانا تھا۔ عدالت عظمیٰ نےکہاکہ آپ کہناچاہ رہےہیں جے آئی ٹی کاکسی جائیدادکی تحقیقات کرنامینڈیٹ نہیں تھا۔

عدالت عظمیٰ نےکہاکہ فیصلےمیں لکھاہےایف آئی اےکےپاس ثبوت ہوں تواس کاجائزہ لیاجاسکتاہے،جس پرخواجہ حارث نےکہاکہ جے آئی ٹی نےآمدن سےزائداثاثوں کوبھی سوال بنالیا۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ بہت سارےمعاملات کیس میں 13سوالوں سےمطابقت رکھتے ہیں،انہوں نےکہاکہ 13سوالوں کےبغیرتفتیش مکمل نہیں ہو سکتی۔

جسٹس اعجازالااحسن نےکہاکہ وزیراعظم فلیٹس میں جاتے رہے اورملکیت کاعلم نہیں، انہوں نےکہاکہ یہی بات توہم ایک سال سےکررہےہیں۔جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ آپ اپناجواب دےدیں۔

جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ آپ چاہیں تومتفرق درخواست میں دستاویزات چیلنج کرسکتےہیں،انہوں نےکہاکہ آپ کےلیےدروازےبندنہیں کررہے۔

جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ آپ نےاپنےجواب میں کسی دستاویزکی تردیدنہیں کی،انہوں نےکہاکہ کیا آپ کہتےہیں شریف خاندان پرالزامات غلط ہیں۔

وزیراعظم کےوکیل خواجہ حارث نےکہاکہ جی ہاں الزامات غلط ہیں کاغذات بھی یہی کہتےہیں۔ جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ قانونی معاونت کےمعاہدےکاجائزہ لیاجاسکتاہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ دستاویزات اصل ہوں توسفارت خانے کی تصدیق ضروری نہیں،جس پروزیراعظم کےوکیل نےکہاکہ سفارت خانےکی تصدیق کےبغیردستاویزات کودرست نہیں ماناجاتا۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ سری لنکاکےایک ریسٹورنٹ کانام منسٹری آف کریب ہے۔ انہوں نےکہاکہ کیکڑوں کی وزارت کےخطوط کاجواب یہاں کونسی وزارت دےسکتی ہے؟۔

خواجہ حارث نےکہاکہ نجی فرم سےحاصل دستاویزات مصدقہ نہیں،انہوں نےکہاکہ برطانیہ کےتحقیقاتی ادارےکی خدمات جےآئی ٹی نےحاصل کیں۔

عدالت کی جانب سے کہاگیاکہ کیاآپ کامطلب ہےدستاویزباہمی قانونی تعاون سےحاصل نہیں کی گئیں،جس پروزیراعظم کےوکیل نےکہاکہ قانون سورس دستاویزکی اجازت نہیں دیتا۔

جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ کیاصرف ذرائع سےحاصل دستاویزپرشک کرسکتےہیں،جس پر خواجہ حارث نےکہاکہ دستاویزوزارت خارجہ کےذریعےآتی تومصدقہ ہوتیں۔

جسٹس عظمت سعید نے خواجہ حارث سےاستفسارکیاکہ دستاویزات کےلیےملکہ برطانیہ کوتوخط نہیں لکھیں گےنا۔ عدالت نےکہاکہ نجی فرم ملکی قانون کےمطابق دستاویزبھجوائےتب بھی مستردکی جاسکتی ہے۔

خواجہ حارث نےجواب دیاکہ دستاویزات کامتعلقہ حکومت کےذریعےہی ارسال کیاجاناضروری ہے،انہوں نےکہاکہ متعلقہ حکومت نجی فرم سےدستاویزات لےتوتسلیم ہوسکتی ہیں۔

وزیراعظم کےوکیل نےکہاکہ جےآئی ٹی نےکسی غیرملکی حکومت سےبراہ راست قانونی مددنہیں لی۔

جسٹس اعجاز نےکہاکہ اثاثوں کوتسلیم کیاگیااب2ہی معاملات ہیں،ہم دیکھیں یااحتساب انہوں نےکہاکہ جےآئی ٹی کامقصد تھاوزیراعظم اورفریقین کوصفائی کاموقع دیاجائے۔

جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ جےآئی ٹی کا مقصدتھا فریقین مؤقف پیش کریں اورثبوت دےسکیں۔ انہوں نےکہاکہ اثاثےتسلیم،رپورٹ کےکسی حصےکی تردیدنہیں کی گئی۔

جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ اثاثوں کوتسلیم ہی نہیں کیاگیا،دستاویزات کےہونےکابھی کہاگیا،جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ وزیراعظم،مریم،حسن اورحسین نےملکیت تسلیم کی۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ آپ نےخودشواہدکابوجھ اپنےسراٹھایا،انہوں نےکہاکہ آپ کومزیدایک موقع دیاگیاتاکہ دستاویزات جمع کرا سکیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ اپنی حدتک کہہ رہاہوں تاکہ سب دفاع کاموقع حاصل کریں،انہوں نےکہاکہ خیال یہی تھاکہ سب اپنےمؤقف کھل کرپیش کریں گے۔

جسٹس اعجاز نےکہاکہ وزیراعظم نےخطاب میں دعویٰ کیاجائیدادآمدن کاریکارڈموجودہے،انہوں نےکہاکہ اسپیکرکودستاویزات دی گئیں توپھرہمیں اورجےآئی ٹی کوکیوں نہیں دی گئیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ کہاگیامنی ٹریل موجودہےپھروہ کیوں نہیں دی گئی، عدالت نےکہاکہ کیاآپ امیدکرتےہیں وزیراعظم خطاب میں کچھ کہےاورثبوت نہ ہوں۔

جسٹس اعجاز افضل نےکہاکہ کیاکوئی دستاویزاس لئےردکی جائےکہ اسےایک فردلےکرآیا،جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ 17سال سےنیب بیٹھاہواہےاس کوکچھ پتہ نہیں؟۔

جسٹس عظمت سعیدشیخ نےکہاکہ بتائیں کیاکریں ہمیں بھی کچھ نہیں بتایا گیا،انہوں نےکہاکہ فلیٹس کامعاہدہ پیش کردیاجاتاتوبات ختم ہوجاتی۔

جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ فلیٹس خریدنےکےذرائع ہمیں اورجےآئی ٹی کونہیں دیےگئے،جسٹس اعجاز الاحسن نےکہاکہ وزیراعظم مریم اورحسن نےکہادستاویزات پیش کریں گے۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ بارثبوت خودشریف خاندان نےاپنےسرلیاتھا،انہوں نےکہاکہ شریف خاندان نےمنی ٹریل اورذرائع آمدن بتانےکاذمہ لیا۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ جےآئی ٹی کامقصدشریف خاندان کوموقع دیناتھا،انہوں نےکہاکہ تمام دستاویزات دینےکاموقع فراہم کیاگیا۔ جس پر خواجہ حارث نےکہاکہ جےآئی ٹی نےایساموقع نہیں دیاکسی دستاویزکی وضاحت نہیں مانگی۔

جسٹس عظمت سعیدشیخ نےکہاکہ اصل معاملہ4فلیٹس کےگردگھومتاہے،انہوں نےکہاکہ سروسزفراہم کرنےکامعاہدہ پیش نہیں ہوا۔

جسٹس عظمت سعید سےکہاکہ یہاں سےہی مسائل شروع ہوئے،انہوں نےکہاکہ حسین نوازکےمالک ہونےکی ایک بھی دستاویزنہیں دی گئی۔

جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ عدالت میں صرف ٹرسٹ ڈیڈپیش کی گئی،انہوں نےکہاکہ ملکیت کےبغیرٹرسٹ ڈیڈکی کوئی اہمیت نہیں۔

جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ نیب کیس پرسےہلنےکابھی نام نہیں لےرہا،جس پر خواجہ حارث نےکہاکہ یہ جائیدادیں اورملزوزیراعظم کی ملکیت نہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ ثبوت عدالت کونہیں توجےآئی ٹی کوہی فراہم کردیتے،انہوں نےکہاکہ وزیراعظم نےتمام دستاویزات دینےسےانکارکیا۔

وزیراعظم کےوکیل نےکہاکہ عدالت تقریر میں تضاد پرکوئی حکم جاری نہیں کرسکتی،انہوں نےکہاکہ عدالت اپنےہی حکم پرنظر ثانی نہیں کرسکتی۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ مزیداطمینان کےلیےآپ کوموقع فراہم کیاتھا،انہوں نےکہاکہ آپ دستاویزات نہیں دیں گےتوکوئی نکال لےگا۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ وزیراعظم نےپہلےکہا دستاویزات ہیں اورپھرکہانہیں ہیں،جس پر خواجہ حارث نےکہاکہ عدالت کاحکم وزیراعظم کی تقریرکی بنیادپرنہیں تھا۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ وزیراعظم کی تقریرریکارڈکاحصہ ہے،انہوں نےکہاکہ ملک کےوزیراعظم نےقومی اسمبلی میں واضح بیان دیاتھا۔

عدالت عظمیٰ نےکہاکہ رپورٹ اورشواہد کےبعد فیصلہ کریں معاملہ نیب کوبھیجیں یانااہلی کافیصلہ کریں۔ جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ عدالت مطمئن نہیں تھی اس لیےدرخواستوں کوخارج نہیں کیا۔

وزیراعظم کےوکیل نےکہاکہ دستاویزات وزیراعظم کوکیوں نہیں دکھائی گئے،جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ وزیراعظم دستاویزات دینےکےبیان سےبری الذمہ نہیں ہوسکتے۔

خواجہ حارث نےکہاکہ عدالتی احکامات میں ایسا کچھ نہیں تھا،انہوں نےکہاکہ وزیراعظم کےاثاثےآمدن سےزیادہ تھےتوجے آئی ٹی بتاتی۔

جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ ویزاعظم کاکام تھالندن فلیٹس کی خریداری کےذرائع بتاتے،انہوں نےکہاکہ گلف اسٹیل ملزکےمالک کےسوال پرکہاگیاکہ شاید حسن ہیں۔

جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ لندن فلیٹس کی خریداری کےوقت بچوں کی آمدنی نہیں تھی، انہوں نےکہاکہ وزیراعظم نےتقریرمیں کہا تھاذرائع اوروسائل کاریکارڈ موجودہے۔

جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ سوال یہ ہےمعاملہ احتساب عدالت بھیجناہےیاخودفیصلہ کرناہے،انہوں نےکہاکہ آپ یہاں پردستاویزات سےثابت کریں یاٹرائل کورٹ میں کریں گے۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ جےآئی ٹی فائنڈنگزنہیں سامنےآنےوالامواداہمیت کاحامل ہے، انہوں نےکہاکہ شریف خاندان کےوکلاکےدلائل بھی جےآئی ٹی کی وجہ بنے۔

خواجہ حارث نےکہاکہ دستاویزات پرجےآئی ٹی نےجرح نہیں کی،انہوں نےکہاکہ جرح کےبغیرتمام رپورٹ یکطرفہ ہے۔

وزیراعظم کےوکیل نےکہاکہ رپورٹ کی بنیادپرٹرائل شفاف نہیں ہوسکتا،جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ لندن فلیٹس کی خریداری کےوقت بچوں کی آمدنی نہیں تھی۔

جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ ایک جواب سےسب مسئلہ حل ہوسکتاہے،بتادیں یہ اثاثےہیں اوریہ وسائل ہیں۔ جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ سارےثبوت شریف خاندان پرہی ہیں۔

خواجہ حارث نےکہاکہ جےآئی ٹی نےنوازشریف سےیہ نہیں پوچھا،جس پرجسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ سپریم کورٹ ایک سال سےپوچھ رہی ہےاب بتادیں۔

وزیراعظم کےوکیل نےکہاکہ عدالت موقع دےگی توضروربتاؤں گا،انہوں نےکہاکہ حکم جاری کرنےسےپہلےکسی فورم نےتوہمیں سنناہے۔

خواجہ حارث نےکہاکہ جرح کےبغیردستاویزات تسلیم ہوسکتےہیں نہ حکم جاری ہوسکتاہے،جس پر جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ آپ کےمطابق جےآئی ٹی نےمینڈیٹ سےتجاوزکیا؟۔

خیال رہےکہ گزشتہ روز جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ پرسپریم کورٹ میں پہلی سماعت ہوئی تھی،سماعت سے قبل وزیراعظم اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جےآئی ٹی رپورٹ پر اپنے اعتراضات جمع کروائےتھے۔


وزیراعظم کے اعتراضات


سماعت سے قبل وزیراعظم نواز شریف نے جے آئی ٹی رپورٹ پر اپنے اعتراضات جمع کروائے، جس میں موقف اختیار کیا گیا تھاکہ جے آئی ٹی کو عدالت نے 13 سوالات کی تحقیقات کا حکم دیا تھا لیکن ٹیم نے مینڈیٹ سے تجاوز کیا اور باہمی قانونی معاونت کے لیے برطانیہ میں جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء کے کزن کی خدمات لی گئیں۔


اسحٰاق ڈار کے اعتراضات


دوسری جانب وزیرخزانہ اسحٰق ڈار نے تحریری اعتراض میں موقف اختیار کیاتھا کہ جے آئی ٹی نے حقائق کو جھٹلا کر غلط بیانی سے کام لیا کہ میں نے ریٹرن فائل نہیں کیے۔

ان کا مزید کہناتھاکہ جے آئی ٹی کے الزامات غلط اور بے بنیاد ہیں، میرے اور میری اہلیہ سے متعلق ٹیکس ریکارڈ کی تفتیش نیب کرچکا ہے، میرے تمام اثاثے جائز اور ریٹرن میں ظاہر ہیں۔


پاناما عمل درآمد کیس : پی ٹی آئی کے وکیل کی عدالت سے نوازشریف کو طلب کرنے کی استدعا


واضح رہےکہ گزشتہ سماعت پرجسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی عمل درآمد بینچ نے مذکورہ کیس کی سماعت کی تھی۔

سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری، جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف اور عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید نے دلائل دیےتھے۔

اپنے دلائل کے دوران پی ٹی آئی وکیل نعیم بخاری نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ وزیراعظم نواز شریف کو عدالت طلب کیا جائے تاکہ ان سے جرح کی جاسکے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں