The news is by your side.

Advertisement

56 ارب روپےقرضہ معافی کیس: رقم جمع نہ کرانے والوں کے لیے خصوصی بینچ بنےگا‘ سپریم کورٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں 56 ارب روپے قرضوں کی معافی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 12 اگست 2018 کے حکم کی کچھ نے تعمیل کی ہے کچھ نے نہیں کی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے 56 ارب روپے قرضوں کی معافی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 12 اگست 2018 کے حکم کی کچھ نےتعمیل کی ہے کچھ نے نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ 222 میں سے 39 نے رضا کارانہ رقم واپسی کا آپشن لیا، جن لوگوں نے رضا کارانہ واپسی کا آپشن لیا وہ خوش قسمت تھے۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ خصوصی بینچ بنا دیتے ہیں جو واجب الادا رقم کا تعین کرے، جنہوں نے پیسے دے دیے ان کی حد تک مقدمہ ختم کردیتے ہیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم نے ان کو مارک اپ اور دیگر فنڈ معاف کر دیے،ان سے کہا گیا جتنے پیسے بینک سے لیے صرف وہ واپس کریں بلکہ اس رقم کا بھی صرف 75 فیصد دیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ باقی لوگ بھی آپشن ایک لینا چاہتے ہیں، عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دیے کہ باقی لوگ 2 ماہ میں سپریم کورٹ رجسٹرار آفس میں پیسے جمع کراسکتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہپیسے جمع نہ کرانے والوں کے لیے خصوصی بینچ بنے گا، تمام رقم ڈیم فنڈ میں جمع کرائی جائے گی۔

عدالت عظمیٰ نے 56 ارب روپے قرضوں کی معافی سے متعلق کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں