اسلام آباد(7 مئی 2026): سپریم کورٹ آف پاکستان نے منشیات کے مقدمے میں عمر قید کی سزا پانے والے دو ملزمان کو بری کرتے ہوئے تفتیشی نظام اور شفافیت کے حوالے سے اہم تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے قرار دیا ہے کہ پولیس افسر کا خود ہی مدعی بننا اور پھر خود ہی تفتیش کرنا انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
عدالت نے فیصلے میں واضح کیا کہ منشیات کے مقدمات میں مدعی پولیس افسر کا بطور تفتیشی افسر دوہرا کردار ناقابل قبول ہے۔ مدعی ہمیشہ ملزم کو سزا دلوانے کی کوشش کرتا ہے، جس کی وجہ سے غیر جانبدارانہ تفتیش ممکن نہیں رہتی۔ اپنی ہی درج کردہ ایف آئی آر کی کھلے ذہن سے تفتیش کرنا تقریباً ناممکن ہے۔
سپریم کورٹ کے مطابق اگر مدعی ہی تفتیش کار بن جائے تو وہ صرف اپنے الزامات کو سچ ثابت کرنے والے شواہد تلاش کرتا ہے، جو کہ انصاف کی فراہمی کے لیے نقصان دہ ہے۔ اگر کسی خاص صورتحال میں مدعی کو آئی او مقرر کیا جائے تو اس کی ٹھوس وجوہات دینا لازمی ہیں، ورنہ استغاثہ کا کیس کمزور ہو جاتا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 10-اے کے تحت منصفانہ ٹرائل ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ تفتیش کا شفاف، غیر جانبدار اور قانون کے مطابق ہونا ایک آئینی تقاضا ہے۔
عدالت نے ریکوری اور فرانزک کے طریقہ کار پر بھی سنگین سوالات اٹھائے۔ فیصلے کے مطابق، عدالت میں پیش کیے گئے پارسلز پر گواہ کے دستخط واضح نہیں تھے اور پراسیکیوشن یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ لیبارٹری بھیجا گیا مواد وہی تھا جو برآمدگی کے وقت قبضے میں لیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ فوجداری قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ معمولی شک کا فائدہ بھی ملزم کو ملنا چاہیے۔ نچلی عدالتوں نے شواہد کا درست جائزہ نہیں لیا۔
عدالت عظمیٰ نے ان مشاہدات کی روشنی میں ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے دونوں ملزمان کی بریت کا حکم جاری کر دیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


