site
stats
پاکستان

سپریم کورٹ کا اردو کو سرکاری زبان کے طور پر نافذ کرنے کا حکم

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے اردو کو سرکاری زبان کے طور پر نافذ کرنے کا حکم دیدیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں اردو کو سرکاری زبان قرار دینے کے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس نے اردو کو فوری طور پر سرکاری زبان کے طور پر نافذ کرنے کا حکم دیا۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے حکم جاری  کرتے ہوئے کہا کہ اردو ہماری قومی زبان ہے، اس حکم نامے کو فوری طور پر نافذ کیا جائے، جسٹس جواد ایس خواجہ نے فیصلہ بھی اردو میں پڑھ کر سنایا۔

انہوں نے اردو کو قومی زبان نافذ کرنے کے لئے نو نکاتی ہدایت نامہ جاری کر دیا، سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ اردو کو آرٹیکل 251 کے تحت فوری طور پر سرکاری زبان کے طور پر نافذ کیا جائے۔

 یاد رہے کہ چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے گزشتہ سماعت پر کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، جسٹس جواد ایس خواجہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے پہلے چیف جسٹس ہیں، جنہوں نے اپنے عہدے کا حلف اردو زبان میں اٹھایا تھا۔

اردو زبان کیس کا تفصیلی فیصلہ

سپریم کورٹ نے اردو زبان کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔

  آرٹیکل 251 کے احکامات کو بلا تاخیر فوراََ نافذ کیا جائے۔

جو میعاد ( مذکورہ بالا مراسلہ مورخہ 6 جولائی 2015 مقرر کی گئی تھی جو خود حکومت نے مقرر کی ہے، اسکی ہر حال میں پابندی کی جائے، جیسا کہ اس عدالت کے روبرو عہد کیا گیا ہے۔

 قومی زبان کے رسم الخط میں یکسانیت پیدا کرنے کے لیے وفاقی اورصوبائی حکومتیں باہمی ہم آہنگی پیدا کریں۔

 تین ماہ کے اندر اندر وفاقی اور صوبائی قوانین کا ترجمہ کر لیا جائے۔

بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے نگرانی کرنے والے اور باہمی ربط قائم رکھنے والے ادارے آرٹیکل 251 کو نافذ کریں اور تمام متعلقہ اداروں میں اس دفعہ کا نفاذ یقینی بنائیں۔

  وفاقی سطح پہ مقابلے کے امتحانات میں قومی زبان کے استعمال کے بارے میں حکومتی ادارے مندرجہ بالا سفارشات پر عمل کیا جائے۔

  ان عدالتی فیصلوں کا جو عوامی مفاد سے تعلق رکھتے ہوں جو آرٹیکل 189 کے تحت اصولِ قانون کے کی وضاحت کرتے ہوں لازماََ اردو میں ترجمہ کروایا جائے۔

عدالتی مقدمات میں سرکاری محکمے اپنے جوابات حتیٰ الامکان اردو میں پیش کریں تاکہ شہری اس قابل ہو سکیں کہ اپنے قانونی حقوق نافذ کروا سکیں۔

اس فیصلے کے اجراء کے بعد اگر کوئی سرکاری ادارہ یا اہلکار آرٹیکل 251 کے احکامات کی خلاف ورزی جاری رکھے گا تو جس شہری کو بھی اس کی خلاف ورزی کے نتیجے میں نقصان یا ضرر پہنچے گا اسے قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہوگا۔

دوسری جانب سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے اردو کو فوری طور پر دفتری و سرکاری زبان رائج کرنے کے تاریخی فیصلے کو کراچی کے شہریوں نے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں اب ترقی کا عمل تیزی سے آگے بڑھے گا، طلبہ و طالبات اور شہریوں کا کہنا ہے کہ ملکوں کی ترقی میں ان کی قومی و مادری زبان اہم کردار ادا کرتی ہیں، پاکستان میں قومی زبان کو دفتری اور سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے کے احکامات انتہائی تاخیر سے سامنے آئے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top