اسلام آباد (20 فروری 2026): سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی جانب سے دائر ایک اپیل کو خارج کرتے ہوئے اس کو بڑا حکم جاری کر دیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی ایک اپیل کی سماعت کرتے ہوئے اس کو عام سائلین کی طرح قانون پر عملدرآمد کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کوئی انوکھا سائل نہیں۔
سپریم کورٹ کی جج جسٹس عائشہ ملک نے وفاقی حکومت کی اپیل زائد المعیاد قرار دیتے ہوئے خارج کر دی اور تاخیر معاف کرنے کی حکومتی استدعا بھی مسترد کرتے ہوئے 4 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ریاست شہریوں سے تو قانون منواتی ہے، لیکن خود بہانے بناتی ہے۔ وہ کوئی انوکھا سائل نہیں۔ اس کو بھی عدالت میں وہی پروٹوکول ملے گا، جو عام آدمی کو ملتا ہے اور حکومت کو بھی عام شہری کی طرح قانون ماننا پڑے گا۔
عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ دفاتر کے اندر رولز یا انتظامی مشکل وقت کی پابندی سے اوپر نہیں ہو سکتی۔ حکومت کے مطابق افسر کے تبادلے سے فائلیں دفتر رہیں، اپیل دائر کرنے میں دیر ہوئی۔
جج کے جاری کردہ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سرکاری افسران کی کمی یا کمیٹیوں کے اجلاس نہ ہونا حکومت کا اپنا قصور ہے۔ ریاست اپنی نا اہلی کا بوجھ عدالت پر نہیں ڈال سکتی اور نہ ہی بیورو کریسی کی سستی کی سزا دوسرے فریق کو دی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے سروس ٹریبونل فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر تھی۔ تاہم یہ اپیل مقررہ 60 دن کی مدت گزرنے کے بعد 20 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی تھی۔
راجہ محسن اعجاز اسلام آباد سے خارجہ اور سفارتی امور کی کوریج کرنے والے اے آر وائی نیوز کے خصوصی نمائندے ہیں


