The news is by your side.

Advertisement

گرجا گھر میں دھماکہ کرنے والے خودکش آور ایک ہی خاندان کے افراد ہیں

پولیس کا دعویٰ ہے کہ خودکش حملہ آور کا خاندان چند ماہ قبل شام سے واپس آیا تھا، جہاں وہ داعش کے ہمراہ شامی فوج کے خلاف بھی کارروائیوں میں شامل رہے ہیں۔

جکارتہ : انڈونیشیا کے شہر سورابایا کے 3 گرجا گھروں میں دھماکہ کرنے والے خودکش حملہ آور چند ماہ قبل شام سے واپس آئے تھے۔

تفصیلات کے مطابق انڈونیشیا کے شہرسورابایا میں تین گرجا گھروں کو نشانہ بنانے والے خودکش حملہ آور ایک ہی خاندان کے افراد ہیں، جو جنگ زدہ ملک شام میں عالمی دہشت گرد تنظیم داعش کے رکن تھے اورمختلف کارروائیوں میں بھی حصّہ لیتے رہے ہیں۔ حملے کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک اور درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔

انڈونیشین پولیس حکام کا کہنا ہے گرجا گھروں پردھماکے منصوبہ بندی کے ساتھ کیے گئے اور تینوں دھماکوں میں 10 منٹ کا وقفہ تھا۔ حملہ کرنے والوں میں ایک ہی خاندان ملوث ہے، حملہ آور خاتون نے اپنے دو بچوں کے ہمراہ خود کو چرچ کے اندر دھماکے سے اڑیا تھا جبکہ والد اور تین بیٹوں نے باقی جہگوں پردھماکے کیے تھے۔

انڈونیشیا کی نیشنل پولیس کے چیف کا کہنا ہے کہ گرجا گھروں پر خودکش حملہ کرنے والا خاندان مقامی شر پسند تنظیم جامع انشورت دولہ سے تعلق رکھتا تھا جو عالمی دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ کے نظریات اور افکار سے متاثر ہے۔

پولیس چیف کا کہنا تھا کہ انڈونیشیا کے متعدد متعدد ایسے خاندان ہیں جو شام سے واپس انڈیونیشیا آئے ہیں۔ مذکورہ خاندان شام میں داعش کے ہمراہ شام کی حکومتی افواج کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔ لیکن سیکیورٹی اہلکاروں کے پاس ان خاندانوں کے حالیہ واقعے میں ملوث ہونے کی کوئی معلومات نہیں ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تینوں چرچ پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کرلی ہے۔

پولیس حکام کا خیال ہے کہ اتوار کی صبح چرچ میں ہونے والے خودکش دھماکے رواں ماہ پولیس حراست میں ہلاک ہونے والے پانچ دہشت گردوں کی موت کا رد عمل ہے۔

ایسٹ جاوا پولیس کے ترجمان فرانس برنگ منگیرا کا کہنا ہے کہ تینوں حملوں میں مجموعی طور پر40 سے زائد افراد کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

انڈونیشیا کے صدر جوکو ویڈوڈو نے جائے حادثہ کا دورہ کرتے ہوئے میڈیا سے کہنا تھا کہ گرجا گھروں پر خودکش حملہ انتہائی وحیشانہ ہے، انہوں نے پولیس کو حکم دیا کہ دہشت گرد تنظیم کا نیٹ ورک ملک سے ختم کیا جائے اور حملے کے قصوواروں کے فوری کارروائی کی جائے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ پولیس نے خودکش حملہ کرنے والے والد کی شناخت دیٹا اوپریآرٹو کے نام سے ہوئی ہے، جو جامع انشورت دولہ کے علاقائی رہنما تھا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ مذکورہ خودکش حملہ آور نے اپنے بیوی پوجی کوسواتی اور 9 اور 12 سالہ دو بیٹیوں کو ڈیپونیگورو چرچ اتارا تھا جہاں حملہ آور خاتون خود کو دھماکے سے اڑیا تھا۔ جبکہ خود کو پین ٹیکوسٹل چرچ کے باہر دھماکے سے اڑالیا۔

دوسری جانب پولیس ترجمان بتایا کہ حملہ آور شخص کے 16 اور 18 سالہ دو بیٹوں نے سینٹا ماریا کتیھولک چرچ کی پارکنگ میں دھماکے کیے۔


انڈونیشیا: 3 گرجا گھروں پرخودکش حملے، 14 افراد ہلاک، 40 سے زائد زخمی


یاد رہے کہ یہ انڈونیشیا میں دوسرا بڑا خودکش حملہ ہے اس سے قبل سنہ 2005 میں انڈونیشیا کے شہر بالی میں خودکش حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں 20 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال 28 اگست کو انڈونیشیا میں مبینہ خودکش خاتون حملہ آور کو ساڑھے7سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ خاتون داعش سے متاثر اور صدارتی محل کو نشانہ بنانا چاہتی تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں