The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ نے آ ئینی ترامیم کا تفصیلی فیصلہ سنا دیا

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے اٹھارہویں اور اکیسویں آ ئینی ترامیم کا تفصیلی فیصلہ سنا دیا ہے جس کے تحت عدالت نے کثرت رائے سے تمام درخواستیں مسترد کر دی ہیں جبکہ چیف جسٹس اور جسٹس حمود الرحمان کے نوٹ کے مطابق سپریم کورٹ کو فوجی عدالتوں پر نظر ثانی کا اختیار بھی حاصل ہے۔

حکومت کا موقف تھا کہ آئینی ترامیم کے تحت دائر کی گئی درخواستیں قابل سماعت ہی نہیں ہیں لیکن حکومت کو یہ موقف سپریم کورٹ نے تین کے مقابلے میں چودہ ججوں کی اکثریت سے مسترد کر کے درخواستوں کو قابل سماعت تو قرار دیا لیکن ساتھ ہی دونوں آئینی ترمیم بھی کثرت رائے سے درست قرار دے دیں جس کے نتیجے میں فوجی عدالتوں کے قیام کو دوام حاصل ہو گیا اورفوجی عدالتوں کی سزائوں کیخلاف جاری شدہ حکم امتناء بھی ختم ہوگیا۔

چار کے مقابلے میں تیرہ ججوں کی اکثریت سے اٹھارہویں آئینی ترمیم درست قرار دی گئی جس کے تحت پارلیمانی کمیٹی کو جوڈیشل کمیٹی کے نامزد کردہ فرد کا نام مسترد کرنے کا اختیار حاصل تھا لیکن ساتھ ہی انیسویں ترمیم کو بھی نہیں چھیڑا گیا جو پارلیمانی کمیٹی کے اس اختیار کو محدود کر تی ہے۔

جبکہ عدالت نے چھ کے مقابلے میں گیارہ ججوں کی اکثریت سے اکیسویں آئینی ترمیم بھی برقرار رکھی اور اس ضمن میں چیف جسٹس اور جسٹس حمود الرحمان نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ پارلیمینٹ کو ہر قسم کی ترمیم کا اختیار حاصل ہے جس کے اختیار پر آئین نے کسی قسم کی کوئی )پابندی بھی عائد نہیں کی اس لئے پارلیمینٹ کو کسی بھی قسم کی آئینی ترمیم کرنے سے نہ تو روکا جا سکتا ہے اور نہ ہی عدالت اس کی کی ہوئی ترمیم کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔

تاہم آئین کا آرٹیکل دو سو انتالیس سپریم کورٹ جائزے کے اختیار پر پابندی عائد نہیں کرتا اور انسانی حقوق سے متعلق کوئی درخواست عدالت آئین کے آر ٹیکل ایک سو چوراسی تین کے تحت بھی کر سکتی ہے اس طرح سپریم کور یم کورٹ کو انتظامیہ  کی جانب سے ملٹری کورٹ کو بھیجے جانے والے کیس کے انتخاب کا جائزہ لینے کا اختیار حاصل ہے اور ساتھ ہی فوجی عدالت کی سزاپر نظر ثانی کا اختیار بھی حاصل ہو گا کہ آیا یہ فیصلے بدنیتی یا ذاتی عناد کی بنیاد پر تو نہیں ہوئے۔

اس نوٹ پر چیف جسٹس ناصر المک اور جسٹس حمود الرحمان کے دستخط ہیں جبکہ اختلاف کرنے والوں کی جانب سے نوٹ تحریر کرتے ہوئے جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے نوٹ میں لکھا ہے کہ پارلیمینٹ کو ترمیم کا لا محدود اختیار حاصل نہیں ہے اور نہ ہی پارلیمینٹ کوئی ایسی ترمیم کر سکتی ہے جو آئینی کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم ہو۔

آئین میں اگر دو ایک جیسی شقیں شامل ہوں تو فوقیت خصوصی شق کو حاصل ہو گی اسی طرح دومتضاد شقوں کی صورت میں فوقیت اس شق کو حاصل ہو گی جو آئین کی معطلی سے پہلے شامل کی گئی ہو ۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں