The news is by your side.

Advertisement

کون جھوٹی خبروں پر زیادہ یقین رکھتے ہیں، تحقیق میں حیرت انگیز انکشاف

خبریں جھوٹی اور سچی دونوں قسم کی ہوتی ہیں لیکن نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ نوجوانوں کے مقابلے میں بوڑھے افراد جھوٹی خبروں پر زیادہ یقین رکھتے ہیں۔

آج دنیا ڈیجیٹل ہوکر انسان کے ہاتھ میں آگئی ہے بالخصوص سوشل میڈیا کی مادر پدر آزادی ہر خبر کو بلاتصدیق دنیا بھر میں پھیلانے کا موثر ذریعہ بن چکی ہے چاہے وہ خبر سراسر من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی ہی کیوں نہ ہو۔

بزرگ ہر دور میں زیرک کہلاتے ہیں کیونکہ انہوں نے وہ ایک زندگی گزار چکے ہوتے ہیں اور زمانے کے سرد وگرم دیکھ کر فہم ادراک زیادہ رکھتے ہیں پھر یہ بزرگوں کے حوالے سے یہ بھی مقولہ مشہور ہے کہ "ہم نے یہ بال دھوپ میں سفید نہیں کیے ہیں” جس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ نوجوانوں کے مقابلے میں زیادہ تجربہ کار اور ذہین ہیں لیکن بات کی جائے آج کل ہر طرف معاشرے میں پھیلی جھوٹی خبروں اور اس کے حوالے سے یقین کی تو ایک نئی تحقیق میں دلچسپ انکشاف سامنے آیا ہے۔

اس حوالے سے امریکا کی ایک یونیورسٹی میں تحقیق ہوئی جس میں یہ جانچنا تھا کہ سچی اور جھوٹی خبروں پر کون زیادہ یقین کرتا ہے۔

تحقیق کرنے والی یویورسٹی آف فلوریڈا میں پوسٹ ڈاکٹریٹ نفسیاتی ماہر اور تحقیق کی سرکردہ مصنف ڈیڈم پیلیوینگلو نے اس حوالے سے پریس ریلیز جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جھوٹی خبروں کا شکار ہونے والے زیادہ افراد عمر رسیدہ ہوتے ہیں جھوٹی خبروں کا شکار ہونے کے جسمانی، جذباتی اور مالی نتائج بھی ہوتے ہیں بالخصوص ان عمر رسیدہ افراد کیلیے جن کے پاس زندگی بھر کی جمع پونجی ہو اور انہیں صحت سے متعلق سنگین مسائل کا سامنا بھی ہو۔
جاری کردہ پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ عمر بڑھنے کے ساتھ زیادہ تر لوگ اپنی علمی صلاحیتوں میں کچھ کمی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

یہ تحقیق سال 2020 میں مئی اور اکتوبر کے درمیان کی گئی تھی جس میں 61 سے 87 برس کے افراد کو شامل کیا گیا تھا اور اس کے نتائج ایکسپریمنٹل سائیکالوجی جنرل میں شائع ہوئے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں