بھارت کے سابق کپتان سورو گنگولی نے پاکستان کے میگاایونٹ میں روایتی حریف بھارت سے میچ نہ کھیلنے کے فیصلے پر حیرانی کا اظہار کیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں سورو گنگولی نے کہا کہ وہ 15 فروری کو کولمبو میں بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے پاکستان کے فیصلے سے حیران ہیں۔
گنگولی نے کہا کہ ورلڈ کپ سے پیچھے ہٹنا کس لیے؟ وہ سری لنکا میں کسی بھی صورت میں کھیل رہے ہیں۔۔ میں پاکستان کے پیچھے ہٹنے پر حیران ہوں ورلڈ کپ میں ہر پوائنٹ اہم ہوتا ہے۔
آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ کا آغاز ہو چکا ہے اور پاکستان نے بنگلہ دیش کو میگا ایونٹ سے باہر کیے جانے پر برادر ملک سے اظہار یکجہتی کے لیے 15 فروری کو شیڈول پاک بھارت ٹاکرے کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔
آئی سی سی کا کوئی بھی ٹورنامنٹ ہو، روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کا مقابلہ سب سے ہائی لائٹ میچ ہوتا ہے اور سب سے زیادہ کمائی والا میچ ہوتا ہے۔
تاہم اس بار پاکستان نے جب سے بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے، تب سے آئی سی سی پریشان ہے اور براڈ کاسٹرز کی نیندیں اڑ چکی ہیں۔
یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کسی بھی ایونٹ کی 60 فیصد سے زائد کمائی کرنے والا پاک بھارت میچ نہ ہوا تو کیا کرکٹ کی گورننگ باڈی (آئی سی سی) ورلڈ کپ کا خرچہ بھی نکال پائے گی یا نہیں؟
رپورٹ کے مطابق آئی سی سی کی سالانہ آمدنی تقریباً 408 ملین ڈالر ہے۔ جس کا 65 فیصد حصہ صرف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے حاصل ہوتا ہے۔
پاکستان کی منتیں، ترلیں ایسے ہی نہیں کی جا رہیں۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ آئی سی سی کی چار سال کی ریونیو سائیکل کا 32.5 فیصد بنتا ہے۔ اگر ایونٹ کا سب سے بڑا میچ ہی نہیں ہوا تو پورے ٹورنامنٹ کی کمرشل ویلیو ہل جائے گی۔
اس کے ساتھ ہی موجودہ ریونیو ماڈل کے تحت بھارت کو 230 ملین اور پاکستان کو 34.5 ملین ڈالرز ملتے ہیں۔ پاکستان کے فیصلے سے آئی سی سی کے ساتھ بھارت کا بھی سب سے زیادہ ریونیو بٹورنے کا دھندہ ٹھپ ہو جائے گا۔
پاکستان نے بھارتی کرکٹ بورڈ کے غرور کے غبارے سے پاکستان نے ہوا نکال دی ہے، اور کرکٹ کے ٹھیکیداروں کو بتا دیا ہے کہ اب چوہدارہٹ نہیں چلے گی۔ بلکہ فیصلہ برابری کی بنیاد پر ہوگا۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے سابق پاکستانی بیٹر باسط علی نے بھارتی کرکٹرز کی دوغلی پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، انھوں نے کہا کہ انگلینڈ میں ہونے والی لیجنڈز لیگ میں جن پلیئرز نے منع کیا تھا کہ ہم پاکستان سے نہیں کھیلیں گے، آج وہ ٹی وی پر بیٹھ کر بول رہے ہیں کہ پاکستان کیوں نہیں کھیل رہا ہے۔
باسط علی نے کہا کہ دنیا بہت چھوٹی ہے نہ گھوم کر آگیا، میرا یہ سوال ہے کہ کیا وہ والے لوگ صحیح تھے یا آج والے لوگ صحیح ہیں، جو آج بول رہے ہیں کہ پاکستان کو کھیلنا چاہیے وہ اس وقت کچھ اور کیوں کہہ رہے تھے میرا یہ معصومانہ سوال ہے۔
انھوں نے کہا کہ بھارت صحافی جس کی آپ نے کلپ دکھائی ہو بالکل صحیح بات کررہا تھا، جو ناصر حسین اور مارک بچر نے بات کی ہے یہ اپنے بورڈ کو کیوں نہیں بول رہے ہیں کہ انھوں نے بنگلہ دیش کےخلاف کیسے ووٹ دےدیا۔
سابق کرکٹر کا کہنا تھا کہ ہمارے فیور میں یہ بول رہے ہیں بھاشن دے رہے ہیں مگر پہلے اپنے بورڈ کو بولیں نہ کہ آپ کو بنگلہ دیش کے حق میں ووٹ دینا چاہیے تھا سب سے بڑا قصور ان کا ہے۔
باسط علی کا مزید کہنا تھا کہ یہ چاہتے ہیں کہ آئی پی ایل میں جائیں کمنٹری کریں اور انھیں پیسہ ملے سچ یہ ہے، اس بیان کے بعد بھی آئی پی ایل مل جاتا ہے کیوں کی رکی پونٹنگ وہاں کوچنگ کررہا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


