The news is by your side.

Advertisement

یہ عادتیں ڈپریشن کی علامات ہوسکتی ہیں

ڈپریشن ایک عام مرض بن چکا ہے جس کے بارے میں آگاہی تاحال نہ ہونے کے برابر ہے، اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ہر 3 میں سے ایک شخص ڈپریشن کا شکار ہے۔

ویسے تو ڈپریشن کی چند مخصوص علامات ہوتی ہیں جو اکثر افراد پہچاننے سے قاصر رہتے ہیں اور زیادہ سنگین نوعیت کے عوارض کا شکار ہوجاتے ہیں۔

مگر کچھ ایسی علامات بھی ہوتی ہیں جن کے عام ہونے کے باوجود لوگ انہیں نظرانداز کردیتے ہیں، ان علامات کو جاننا یقیناً آپ کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔

خریداری کا جنون

اگر چیزوں کی خریداری آپ کے کنٹرول میں نہ رہے اور آپ ضرورت سے زیادہ خرچہ کرنے لگیں تو یہ جان لیں کہ ڈپریشن کے شکار کچھ افراد میں یہ غیرمعمولی نہیں۔

بھولنا

ڈپریشن بھی بھولنے کی ایک وجہ ہوسکتا ہے، تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ ڈپریشن یا تناؤ کا تسلسل جسم میں ایک ہارمون کورٹیسول کی سطح میں اضافہ کرتا ہے۔ ایسا ہونے
سے دماغ کا وہ حصہ سکڑتا یا کمزور ہوجاتا ہے جو یادداشت اور سیکھنے سے منسلک ہوتا ہے۔

انٹرنیٹ کا بے تحاشہ استعمال

انٹرنیٹ کا بہت زیادہ استعمال بھی ڈپریشن کی علامت ہوسکتی ہے، تحقیقی رپورٹس کے مطابق بہت زیادہ ڈپریشن اور انٹرنیٹ کے بہت زیادہ استعمال کے درمیان تعلق موجود ہے۔

چیزیں چرانا

ڈپریشن کے شکار افراد بلاوجہ خریداری کے دوران چیزیں اٹھا کر جیب یا بیگ میں ڈال لیتے ہیں۔ ایسا کرنے سے انہیں طاقت اور اپنی اہمیت کا احاس ہوتا ہے اور وہ ایسا سوچے سمجھے بغیر کرتے ہیں۔

کمر درد

تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا ہے کہ ڈپریشن سے زیریں کمر کے دائمی درد کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دائمی کمر درد کے شکار 42 فیصد افراد کو اس تکلیف کے آغاز سے قبل ڈپریشن کا سامنا تھا۔

جذبات کا غلبہ

ڈپریشن کے شکار افراد اکثر بہت کم جذبات کا مظاہرہ کرتے ہیں، مگر جب کرتے ہیں تو وہ حد سے زیادہ ہوتے ہیں، وہ اچانک چڑچڑے یا مشتعل ہوجاتے ہیں، ان کی جانب سے اداسی، ناامیدی، فکر یا ڈر جیسے جذبات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔

اپنے بارے میں لاپرواہ ہوجانا

ایسے افراد جو اپنے بارے میں لاپرواہ ہوجاتے ہیں، یہ بھی ڈپریشن اور خود اعتمادی کی کمی کی نشانی ہوسکتی ہے۔ ایسے افراد میں مختلف نشانیاں جیسے دانتوں کو برش نہ کرنا، امتحانات کو چھوڑ دینا یا کسی بیماری کا علاج نہ کروانا شامل ہے۔

ڈپریشن کے علاج کے بعد لوگ پھر سے خود پر توجہ دینے لگتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں