ہفتہ, مارچ 14, 2026
اشتہار

رمضان: توانائی کا بحران اور خاتونِ خانہ کی مشکلات (سروے رپورٹ)

اشتہار

حیرت انگیز

تحریر و گفتگو:‌ شائستہ زریں

پانی انسان کی بنیادی ضرورت ہے جب کہ ترقی یافتہ دور میں بجلی اور گیس اس سارے نظام کو چلانے اور معمولاتِ‌ زندگی کو جاری و ساری رکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں اور ہماری سب سے بڑی کمزوری بھی بن چکے ہیں۔ بالخصوص اُن ممالک میں جہاں توانائی کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ جہاں گیس کی قلت سے بجلی کی پیداوار متاثر ہوتی ہے وہاں وہاں پانی کی کمی بجلی پر اثر انداز ہورہی ہے۔

توانائی کے بحران سے نہ صرف ملکی صنعتی پیداوار متاثر ہو رہی ہے بلکہ اس کی وجہ سے معاشی خوش حالی جو توانائی کے شعبوں کی مرہونِ منت ہے، وہ بھی خطرے میں ہے۔ گھریلو صارفین بالخصوص خواتین کے لیے بجلی، پانی اور گیس کی عدم دستیابی کسی آزمائش سے کم نہیں۔ خاص طور پر جب گیس اور بجلی کی غیرعلانیہ لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ علانیہ لوڈ شیڈنگ بھی ہوتی تو اپنے وقت پر ہے لیکن اس کے بحال ہونے میں تاخیر ہو جاتی ہے۔ گیس، بجلی اور پانی کی قلّت کا یہ عالم؟ اور ایسے میں بھاری بلوں نے عوام النّاس کو نڈھال کر دیا ہے۔ خاتونِ خانہ کی کتنی ہی خواہشات اور اُن سے وابستہ خوشیاں خاک میں مل گئی ہیں۔ جب رمضان المبارک میں ان حالات سے گزرنا پڑتا ہے تو ان کا درد سوا ہو جاتا ہے۔ بالخصوص سحری و افطاری یا اس کے قریب ترین اوقات میں تو گیس کی عدم دستیابی سے خواتین کی پریشانی دوچند ہو جاتی ہے۔ متبادل ذرائع استعمال کرنا بھی محال کہ ان کے دام آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔ سو عوام کی اکثریت اس ”سعادت“ سے محروم ہے۔ کریں تو کیا کریں؟ بلاشبہ توانائی کا بحران ملک گیر مسئلہ بن چکا ہے۔ اسی خیال کے پیشِ نظر ہم نے پاکستان کے مختلف شہروں میں مقیم خواتین سے معلوم کیا کہ ماہِ رمضان میں گیس، بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور پانی کی قلّت کا مسئلہ درپیش ہو، بالخصوص سحر و افطار کے اوقات میں تو آپ کی نظر میں‌ اس کا حل کیا ہے؟

دلشاد نسیم (لاہور)

ویسے تو بجلی، پانی، گیس ہماری بنیادی ضروریات اور وہ سہولیات ہیں جن کے بغیر آج زندگی کا تصور ممکن ہی نہیں۔ انھیں کسی بھی طرح سے تعطل کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔بالخصوص ایسے مہینے میں جب اس کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ ماہِ رمضان میں جہاں مہنگائی سے پریشان ہوتے ہیں وہاں بجلی، پانی، گیس کے مسئلے بھی سامنے آتے ہیں اور چونکہ یہ آج کی بات نہیں کئی سالوں سے ایسا ہو رہا ہے تو ہمیں ان سے نمٹنے کے لیے پیش بندی کر لینی چاہیے۔ خاص طور پر گیس کے لیے۔ جیسے سیلنڈر لے کر رکھ لیں۔ پرانے وقتوں میں مٹی کے تیل کا چولھا ہوتا تھا، وہ اگر دست یاب ہے تو لے لیں۔ کیوں کہ یہ مسئلے تو اب ختم ہوتے نظر نہیں آرہے۔ یہ کسی موسم، اور کسی مہینے کے محتاج نہیں رہ گئے۔ پانی بھی اگر ہم ضرورت کے مطابق ذخیرہ کرسکتے ہیں تو کریں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ان تمام مسائل کا ٹھوس یا مستقل حل یا ان کا متبادل فراہم کرنا حکومت کا کام ہے، ہمارے پاس صرف اور صرف کچھ طریقے اور وہ تدابیر ہیں، جن کو اختیار کرکے ہم اس مشکل وقت کو آسان کر سکتے ہیں۔

شمیم فضلِ خالق (پشاور)

سحری تو کھانے پینے کے بغیر نہیں چل سکتی تو یہ یقین کرلیں‌ کہ سیلنڈر میں گیس ہے، یا بجلی کا کوئی چولھا ہونا چاہیے۔ اس طرح کی دو تین آپشن کیا ہوسکتے ہیں، یہ دیکھیے۔ افطار میں نرمی کی جاتی ہے اور اکثر علاقوں میں بجلی نہیں جاتی۔ گیس کا مسئلہ پچھلے سال اتنا نہیں تھا جتنا اب ہے تو کیا معلوم اس بار افطار میں بھی مشکل پیش آئے۔ میں نے یہ کیا ہے کہ ہمارے گھر کے باہر کچی جگہ ہے، وہاں میں نے اپنی پسند کی سبزیاں اگائی ہیں اور کچھ لکڑیاں جمع کر لی ہیں کہ جب گیس نہ ہو تو لکڑیوں پر کوئی چیز گرم کی جاسکے یا اگر ضرورت ہو تو کچھ پکایا بھی جاسکے۔ وہ پرانا وقت سمجھیے کہ پھر آگیا جب لکڑیوں پر ہی کھانا پکایا جاتا تھا۔ پہلے بجلی اور گیس کہاں ہوتی تھی؟ اب بھی کئی گاؤں ایسے ہیں جہاں بجلی اور گیس نہیں۔

نزہت اصغر( کورنگی، کراچی)

یہ مسائل تو اب کچھ بار نہیں لگتے کہ بقول شاعر

مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہو گئیں

بیشتر بیچارے پاکستانیوں کی یہی حالت ہے، سب کی نہیں۔ مگر خواتین کو تو کسی نہ کسی طرح مقررہ وقت پر کچن کے کام نمٹانا ہی پڑتے ہیں تاکہ اہلِ خانہ متاثر نہ ہوں۔ ان مسائل کی زد میں سب سے زیادہ آتی ہے خاتونِ خانہ۔ اس کے باوجود وہ اپنی ذہانت اور عمل سے خود کو ثابت کرتی ہے۔ عوام کو اختیار ہی کتنا ہے؟ تو بس اسی کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔

اقبال بانو (وہاڑی)

دیہات میں رہتے ہیں ہم لوگ۔ یہاں بہت لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔ اکثر سحری میں بجلی نہیں ہوتی اور نہ ہی افطار میں ہوتی ہے۔ سحر و افطار تو کسی نہ کسی طرح ہو ہی جاتی ہے لیکن افسوس کہ بجلی نہ ہونے کے سبب اذان کی آواز بھی سنائی نہیں دیتی۔ یہ مسئلہ چھ سات سال سے چل رہا ہے۔ یہ عذاب جھیلنے والے اربابِ اختیار کی شان میں ناقابلِ بیان قصیدے پڑھتے ہیں۔ میری نظر میں اس مسئلے کا کوئی حل نہیں۔

اختر شجاعت (ناظم آباد، کراچی)

ہم کراچی والوں کا سب سے اذیت ناک مسئلہ ہی گیس، بجلی اور پانی ہے اور ماہِ رمضان ہی کیا یہ تو پورے سال کا دکھ ہے۔ لیکن ہاں المیہ ہے کہ رمضان جیسے مبارک مہینے کا تقدس، اس کا احترام، اس کا استقبال سب کچھ مفقود ہو چکا ہے۔ اور یہ سب ہمارے صاحبِ اقتدار اور با اختیار حضرات کا اپنے عوام کو گویا تحفہ ہے۔ افسوس صد افسوس ہم اس قدر بے حس اور بے ضمیر ہو چکے ہیں کہ اداروں کو چلانے والوں کو احساس تک نہیں کہ روزے کے احترام میں اپنے لوگوں کو آسانیاں فراہم کریں۔ کم سے کم اس ماہِ مبارک میں۔ مگر ہم اپنے بدترین سسٹم میں اس بری طرح قید ہیں کہ اس سے رہائی ممکن نہیں اور حل تو یہی ہے کہ کراچی والے پانی نہ ہو تو ٹینکر، بجلی نہ ہو تو یو پی یس، جنریٹر اور گیس نہ ہونے کی صورت میں سیلنڈر کا انتظام کر لیں، مگر دکھ کی بات یہ ہے کہ لاکھوں لوگ ہیں‌ جو اس کا خرچ نہیں‌ اٹھا سکتے۔مگر کیا کریں؟ اس پر صرف کڑھا ہی جاسکتا ہے۔

فصیحہ آصف خان (ملتان)

گیس کا کچھ نہ پوچھیں، وہی گانا یاد آتا ہے جس کے بول ہیں، جانے سے اس کے جائے بہار… رمضان المبارک میں تھکن اور سستی لازم و ملزوم ہیں، پھر کاموں کو وقت پر انجام دینا بھی بے حد ضروری ہوتا ہے۔ ایسے میں گیس کی بندش یا پریشر کم ہونے سے بہت زیادہ ذہنی کوفت ہوتی ہے۔ افطاری سے گھنٹہ بھر پہلے گیس اتنی کم ہو جاتی ہے کہ کچھ بھی تیار نہیں ہو سکتا۔ یوں سموسے، پکوڑے اور دہی بھلے بیچنے والے کی چاندی ہو جاتی ہے۔ کبھی کبھار تو سحری میں بھی گیس سیر سپاٹے کو نکل جاتی ہے۔ سیلنڈر کا انتظام کر لیا جاتا ہے تاکہ کچھ بنا لیا جائے۔ آخر کو روزے دار ہیں۔ بجلی پانی کا اللہ کا شکر ہے ہمارے یہاں ابھی تک کوئی مسئلہ نہیں اور ہم بے بس عوام کو شاید اتنی خوشی عید کے چاند کی نہیں ہوتی جتنی کہ گیس کے آنے کی ہوتی ہے۔

ماہ نور ارسلان (اسلام آباد)

ماہِ رمضان میں بجلی، گیس اور پانی یہ تینوں چیزیں مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔ خصوصاً سحر و افطار کے وقت وضو سے لے کر پکوان کرنے تک تمام کام، پانی، بجلی اور گیس کے محتاج ہیں۔ ہمارا حق بھی ہے ان بنیادی چیزوں کی فراہمی مگر کیا کرسکتے ہیں۔ سحر و افطار کے اوقات میں گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہ کی جائے اور پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے تو ہر مسلمان کم از کم رمضان تو مذہبی جوش و جذبے سے گزارے۔

فرح بھٹو (حیدرآباد)

زندگی کی بنیادی ضرورتوں میں بجلی، پانی اور گیس کا شمار ہوتا ہے۔ ان کی عدم دستیابی نظامِ زندگی بری طرح متاثر کرتی ہے۔ کہنے کو سندھو دریا ہمارے بغل میں ہی بہتا ہے مگر پانی کی ٹنکی کو وہ بھی بھرنے سے قاصر ہے۔ گیس نے تو ہمیں سچ مچ کی سنڈریلا بنا دیا ہے۔ بھاگم بھاگ کچن میں پہنچ کر سارے کام نمٹانے ہوتے ہیں، ہاتھ کڑھائی میں چمچہ ہلاتے ہیں اور نظر گھڑی پر بھٹکتی رہتی ہے۔ رمضان میں ہر کام ایک خاص روٹین میں کرنا بے حد ضروری ہوتا ہے۔ کیا عجب کہ رمضان کے تقدس کے پیشِ نظر ہمارے حکمراں کم از کم بجلی اور گیس کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ دوسرئی صورت میں گیس سیلنڈر کا انتظام کر کے رکھنا پڑے گا کیونکہ سحر و افطار میں تو ہر حال میں مخصوص اوقات کے مطابق ہی چلنا پڑے گا۔

ارم خان (اسلام آباد)

حد ہو گئی ہے کہ ہم رمضان میں بھی بجلی، گیس، پانی کے مسئلوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ عبادت کیا کریں؟ حکومت کو چاہیے کہ ان مسائل کو سنجیدگی سے حل کرے۔ سحری کے وقت لوڈ شیڈنگ نہ کی جائے، دن میں اور کسی وقت کر لیں۔ گیس کے لیے سیلنڈر استعمال کریں یا مٹی کے تیل کا چولھا جلا لیں، اور پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے مختلف ڈرموں اور بالٹیوں میں پانی جمع کیا جا سکتا ہے۔ ان تدابیر اور طریقوں کو اپنا کر سحر و افطار میں لوگ اپنی ضرورت اچھی طرح پوری کر سکتے ہیں۔

نجمہ جبار (بہاولپور)

عموماً سحر و افطار میں یہ مسائل نہیں ہوتے، ایک آدھ بار ایسا ضرور ہوا کہ ٹرانسفارمر خراب ہونے سے دو سے تین دن تک بجلی نہیں آئی تو بڑی مشکل پیش آئی۔ بجلی نہیں تھی تو پانی کا بھی بہت مسئلہ ہوا۔ بہت احتیاط سے انتہائی ضرورت کے وقت پانی استعمال کیا گیا۔ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی دو گیس سیلنڈر گھر میں رکھتی ہوں۔ لیکن سیلنڈر کی گھر میں موجودگی سے کسی نقصان کا خدشہ بھی کھائے جاتا ہے اور دل ڈرا ڈرا رہتا ہے۔

ہادیہ ابراہیم (کوئٹہ)

حکومت سے نا اُمید ہو کر اپنی سہولت کے لیے انتظامات خود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آپ بھی گیس سیلنڈر اور الیکٹرک ہاٹ پلیٹ لے آئیں، سحری میں پراٹھے اور افطار میں پکوڑے نہ ملیں تو رمضان کا کیا مزہ لیا۔ جنریٹر استعمال کرنے کے لیے مناسب مقدار میں پیٹرول گھر میں‌ رکھیں۔ ہم نے سولر پینل لگوا لیا ہے تو کام چل جاتا ہے۔ پانی کے لیے تو ٹینکر ہی آخری حل ہے۔

قارئینِ کرام!

گھروں میں توانائی کی مختلف شکلوں کی عدم دست یابی یا قلّت کی بنا پر مہنگے متبادل ذرائع سے اگر گھر کے کفیل پر مالی بوجھ پڑ رہا ہے تو خاتون خانہ کی خواہشات اور خوشیاں بھی داؤ پر لگ رہی ہیں۔ خاص طور پر ماہ رمضان میں مسئلہ شدید ہوجاتا ہے۔ اس سروے میں خواتین نے ان مسائل سے نمٹنے کے چند طریقے بتاتے ہوئے توانائی کے متبادل ذرائع اپنانے پر زور دیا ہے۔ یقیناً باشعور اور ذہین خواتین کوئی نہ کوئی راہ نکال ہی لیتی ہیں۔ مگر اربابِ‌ اختیار کو چاہیے کہ وہ اس طرف توجہ دیں اور ان مسائل کا مستقل حل نکالیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں