نانگا پربت حملے کا مرکزی مجرم پولیس کا محاصرہ توڑ کرفرار -
The news is by your side.

Advertisement

نانگا پربت حملے کا مرکزی مجرم پولیس کا محاصرہ توڑ کرفرار

اسلام آباد: نانگا پربت بیس کیمپ پر 2013 میں ہونے والے حملے کا مرکزی مبینہ ملزم ایک پولیس چھاپے کے دوران افسران پر گرنیڈ پھینک کرفرارہوگیا، واقعے میں 10 پولیس افسران زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق مذکورہ ملزم کا نام رحیم اللہ ہے اوراس کے سرپر10 ہزار امریکی ڈالر کا انعام بھی ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص نانگا پربت حملے میں ملوث تھا۔

پاکستان کے دوسرے بلند ترین پہاڑ نانگا پربت پر 2013 میں پولیس یونی فارم میں ملبوس مسلح دہشت گردوں نے بیس کیمپ پرحملہ کیا جس کے نتیجے میں 10 غیر ملکی سیاح اور ان کا گائیڈ ہلاک ہوگیا تھا۔

پولیس نے ایک اطلاع پر شمالی گلگت بلتستان کے علاقے تنگیر میں رحیم اللہ کے گھر کا محاصرہ کیا اور اسے ہتھیار ڈال کر خود کو پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا، تاہم اس کی جانب سے پولیس پر دستی بم پھینکے گئے۔

پولیس جب فائرنگ کرتی ہوئی مکان میں داخل ہوئی تو معلوم ہوا کہ مذکورہ ملزم فرار ہوچکا ہے، تاہم مکان میں موجود ایک مرد اور خاتون کو حراست میں لے لیا گیا ہے، دونوں کو رحیم اللہ کا قریبی رشتے دار بتایا جارہاہے۔

رحیم اللہ کی جانب سے پھینکے گئے دستی بم دھماکوں کے نتیجے میں پولیس کے 10 افسران زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس ترجمان محمد وکیل نے بین الاقوامی خبررساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ رحیم اللہ اس حملے کے ساتھ ہائی پروفائل مجرمان میں سے ایک ہے، جبکہ اس حملے کے پانچ مجرمان پہلے ہی حراست میں ہیں۔

نانگا پربت پر ہونے والے حملے میں ایک چینی شہریت کا حامل امریکی، دو چینی، تین یوکرائنیم ، دو سلاواکین، ایک لوتھینین اورایک نیپالی شہری اپنے پاکستانی گائیڈ کے ہمراہ مارے گئے تھے۔

اے ایف پی

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں