ہفتہ, اپریل 11, 2026
اشتہار

سعودیہ فرار قتل ملزمان عمر باچا اور حاکم خان سے متعلق عدالت کا حیرانی بھرا استفسار، آخر یہ کون لوگ ہیں؟

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (03 مارچ 2026): سوات میں ہونے والے ایک قتل کیس کے ملزمان کو 8 سال میں بھی سعودی عرب سے واپس لانے میں حکومت ناکام ہے، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے اہم ریمارکس دیے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا اب تو خیر جنگ لگی ہوئی ہے، لیکن حکومت تو نارمل حالات میں بھی انٹرپول کے ذریعے بندے سعودی عرب سے نہیں لا پا رہی تھی۔

عدالتی دستاویز کے مطابق 2018 میں قتل ہوا اور دونوں ملزمان سعودی عرب چلے گئے، دونوں اشتہاری قرار دیے گئے ہیں، ان ملزمان کو واپس لانے کے لیے 2023 میں یہاں پٹیشن آئی تھی، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا دو آدمی سعودی عرب سے ہم نہیں لا پا رہے اور ہم کیا کریں گے، کیا ان دو آدمیوں کا کوئی خاص اسٹیٹس ہے؟

انھوں نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا یہ کون لوگ ہیں؟ عمر باچا اور حاکم خان؟ کوئی سیاسی آدمی ہیں کوئی شاہی خاندان کا ہے؟ استفسار پر اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ڈیلی ویجز پر کام کرتے ہیں۔ اس پر جسٹس محسن اختر نے کہا جس کا قتل ہوا ہے وہ بے چارہ کیا کرے۔

ٹک ٹاکر جاوید مہانڈری کا افطار کے دوران قتل ، ویڈیو منظر عام پر آگئی

انھوں نے کہا یہ وزارت داخلہ کی بے بسی ہے، کون سا کفیل ہوگا جو مستقل ہی ان کو اقامت وہاں دے دے، یہی وہ حالات ہیں جن کی وجہ سے کرائم بڑھتا ہے، لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لینا شروع کر دیتے ہیں۔

وزارت خارجہ کے حکام نے کہا کہ کے پی حکومت نے ابھی تک متعلقہ ریکارڈ نہیں دیا ہے۔ جس پر عدالت نے سیکریٹری محکمہ داخلہ خیبرپختونخواہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ریکارڈ فراہم کرنے کا حکم دے دیا، اور کہا سعودی عرب سے ملزمان کو واپس لانے کے متعلقہ کے پی حکام ریکارڈ اتھارٹیز کو فراہم کریں۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت مئی تک کے لیے ملتوی کر دی۔

+ posts

اہم ترین

مزید خبریں