The news is by your side.

سوات میں اسکول وین پر حملہ دہشت گردی نہیں ،ذاتی دشمنی کا شاخسانہ تھا،آئی جی خیبرپختونخوا

سوات : آئی جی خیبرپختونخوا معظم جاہ انصاری کا کہنا ہے کہ سوات میں اسکول وین پر حملہ دہشت گردی نہیں بلکہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ تھا۔

تفصیلات کے مطابق پولیس نے سوات کے علاقے گلی باغ میں اسکول وین پر حملے کا معاملہ حل کرلیا۔

پولیس نے بتایا کہ ڈرائیورحسین احمدکوغیرت کے نام پر قتل کیا گیا، اسکول وین ڈرائیور کا قتل دہشت گردی نہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ 2 ہفتے قبل نامعلوم افراد نے اسکول وین پر فائرنگ کی تھی، حملے میں ڈرائیور قتل اور ایک بچہ زخمی ہوا تھا۔

اس حوالے سے آئی جی خیبرپختونخوا معظم جاہ انصاری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہی دن گلی باغ سوات اورلوئردیرمیں اسکول وین پرحملہ ہوا،تاثر ملا کوئی دہشت گردی کے واقعات ہیں۔

انھوں نے کہا تھا کہ لوئردیرمیں دوگروپوں کا تنازع نکلا جبکہ سوات کا واقعہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ تھا، مقتول حسین احمد کو غیرت کے نام پرسالے نے قتل کیا۔

آئی جی خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ سکول وین پر حملہ دہشت گردی نہیں، واقعے میں حسین احمد کو مارنے کی وجہ سے 2 بچے زخمی بھی ہوئے، واقعے کے بعد عوام نے احتجاج بھی کیا۔

معظم جاہ انصاری نے کہا کہ واقعے سے سوات کے حالات خراب کرنے کی سازش کی گئی ، حملے میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کیا گیا جبکہ 2 فرار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ منصوبے میں ملوث ایک ملزم دبئی فرار ہوگیا ہے، ملزم کوانٹرپول کے ذریعے لانے کیلئے رابطے جاری ہیں جبکہ واقعے میں استعمال آلٰہ قتل اور موٹرسائیکل برآمد کرلی گئی ہے۔

آئی جی خیبرپختونخوا نے مزید کہا کہ سوات میں بدامنی کی فضاء موجود ہےمگرعوام کو یقین دلاتے ہیں تین مہینے میں سوات کی سیاحت مکمل طورپر بحال کردیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں