The news is by your side.

Advertisement

مختلف اشیا کو پھینکنے کے بجائے مرمت کروانے پر فائدہ

کیا آپ جانتے ہیں آپ اپنے گھر میں جو چیزیں استعمال کے بعد پھینک دیتے ہیں جیسے کپڑے، جوتے، اور گھر کا دیگر سامان جیسے فریج اور واشنگ مشین وغیرہ، انہیں تلف کرنا کس قدر مہنگا اور مشکل عمل ہے؟

یہ عمل ہر سال قومی معیشتوں کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچاتا ہے۔ سوئیڈن میں اس سے بچنے کے لیے حکومت نے انوکھا حل تجویز کیا ہے۔

اپنے شہریوں کو استعمال شدہ چیزوں کو پھینکنے کے بجائے انہیں مرمت کروا کے پھر سے استعمال کی طرف راغب کرنے کے لیے سوئیڈن نے تمام مرمتی اخراجات میں نصف کے قریب کمی کردی ہے۔

مزید پڑھیں: تائیوان میں ’کچرا دن‘ کا انعقاد

سوئیڈش حکومت کو امید ہے کہ اس اقدام سے عوام اپنی خریداریوں میں تو کمی نہیں کرے گی، تاہم یہ انہیں ایسی چیزیں خریدنے کی طرف راغب کرے گا جن کی کارکردگی کی معیاد زیادہ ہو۔

اس طرح مختلف مصنوعات بنانے والی کمپنیاں بھی مجبور ہوں گی کہ وہ اپنی مصنوعات کو تادیر چلنے والی اور مزید معیاری بنا سکیں۔

sweden-2

اس اقدام کا ایک اور فائدہ عام لوگوں کو روزگار کی فراہمی کی صورت میں نکلے گا۔ چونکہ مرمتی کام عموماً مقامی سطح پر کیے جاتے ہیں لہٰذا مرمت کے کاموں میں اضافے سے اس روزگار سے وابستہ افراد کی تعداد اور ان کی خوشحالی میں اضافہ ہوگا۔

اس خیال کے پیچھے سوئیڈن کے ڈپٹی وزیر خزانہ پر بولنڈ ہیں جو درحقیقت ایک ماہر حیاتیات بھی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سوئیڈن اپنے کاربن اخراج کو کم کرنا چاہتا ہے لیکن صارفین کی تعداد اور ضروریات میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس اقدام کو اٹھانے کا مقصد یہی ہے کہ فیکٹریوں پر مختلف اشیا بنانے کا بوجھ کم ہو تاکہ وہ کم سے کم زہریلے دھویں کا اخراج کریں۔

واضح رہے کہ سوئیڈن پہلے ہی ایک ماحول دوست ملک کے طور پر جانا جاتا ہے۔

ماحولیاتی کارکردگی کی فہرست مرتب کرنے والے ادارے ای پی آئی اے کے مطابق سوئیڈن میں پینے کے پانی کو محفوظ کرنے اور استعمال شدہ پانی کو ٹھکانے لگانے کی بہترین حکمت عملیوں پر عمل ہورہا ہے جس کے باعث اسے دنیا کا تیسرا ماحول دوست ملک قرار دیا جا چکا ہے۔

یہی نہیں سوئیڈن قابل تجدید توانائی یعنی ری نیو ایبل انرجی کے منصوبوں پر 546 ملین ڈالر کی سرمایہ کر رہا ہے اور بہت جلد وہ فوسل فیول سے پاک دنیا کا پہلا ملک بن جائے گا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں