ہاتھ نہ ملانے پر انٹرویو منسوخ، مسلم خاتون نے مقدمہ جیت لیا Sweden Muslim woman
The news is by your side.

Advertisement

ہاتھ نہ ملانے پر انٹرویو منسوخ، مسلم خاتون نے مقدمہ جیت لیا

اسٹاک ہوم : سوئیڈن کی عدالت نے ہاتھ ملانے سے انکار کرنے والی مسلم خاتون کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کمپنی کو 40 ہزار کراؤن معاوضہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق یورپی ملک سوئیڈن کی لیبر کورٹ نے ہاتھ ملانے سے انکار کرنے والی مسلمان خاتون کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے مذکورہ کمپنی کو بھاری جرمانے کی ادائیگی کا حکم دیا ہے جس میں ملازمت کے لیے انٹرویو لینے والے شخص نے ہاتھ نہ ملانے پر انٹرویو ختم کردیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ مسلمان خاتون فرح الحاجہ سوئیڈن کے ایک نجی ادارے میں مترجم کی ملازمت کے لیے گئی تھی جہاں انہوں نے انٹرویو لینے والے مرد سے ہاتھ ملانے سے انکار کردیا تھا۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ فرح الحاجہ نے اسلامی اصولوں پر عمل کرتے ہوئے کہ نامحرم سے ہاتھ ملانے کے بجائے  سینے پر ہاتھ رکھ کر سلام کردیا تھا۔

میڈیا کا کہنا تھا کہ مسلم خاتون کا اس طرح سلام کرنا انٹرویو لینے والے کو ناگزیر گزرا اور مذکورہ شخص نے انٹرویو منسوخ کردیا تھا جس کے باعث فرح الحاجہ کو اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ فرح الحاجہ نے انٹرویو لینے والے شخص کے رویے کو امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا اور کمپنی کے خلاف لیبر کورٹ میں مقدمہ درج کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ فرح الحاجہ کے وکیل نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ مسلم خاتون کا مرد و خواتین دونوں کے ساتھ یکساں رویہ ہے اور وہ نامحرم سے ہاتھ ملانے کے بجائے سینے پر ہاتھ رکھ کر سلام کرتی ہیں۔

مسلم خاتون کے وکیل کا عدالت میں کہنا تھا کہ ریاست کے لیے ضروری ہے کہ تمام مذاہب کے افراد کی مذہبی آزادی کا تحفظ یقنی بنائے۔

سوئیڈن کی لیبر کورٹ نے دونوں فریقین کا مؤقف سننے کے بعد 24 سالہ مسلم خاتون فرح الحاجہ کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کمپنی کے اقدام کو امتیازی قرار دیا اور فرح الحاجہ کو 40 ہزار کراؤن معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں