برن(9 مارچ 2026): اسپین اور جرمنی کے بعد سوئٹزرلینڈ نے بھی ایران پر امریکی اسرائیلی حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دے دیا۔
سویٹزرلینڈ کے وزیرِ دفاع مارٹن فِسٹر نے ایران کے خلاف فضائی حملوں پر امریکا اور اسرائیل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے اقدامات بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق وزیرِ دفاع مارٹن فِسٹر نے کہا کہ امریکیوں اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے کیے ہیں۔ ایسا کر کے انہوں نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے جنگی فریقین پر زور دیا کہ وہ تشدد بند کریں اور سویلین آبادی کا تحفظ یقینی بنائیں۔
سوئس وزیرِ دفاع نے متنبہ کیا کہ یورپ اس تنازع کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جو نہ صرف روایتی فوجی مداخلت بلکہ دہشت گرد حملوں جیسی غیر روایتی جنگ کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سویٹزرلینڈ میں دہشت گردانہ حملوں کا خطرہ موجود ہے، اس کے علاوہ یہ جنگ پناہ گزینوں کے ایک بڑے ریلے کا سبب بن سکتی ہے جو ہم تک پہنچ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑے پیمانے پر کیے گئے حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی انتہائی بلندیوں پر پہنچ چکی ہے۔
ان حملوں میں اب تک ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای، 150 سے زائد اسکول طالبات اور اعلیٰ فوجی حکام سمیت 1200 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔ جواب میں ایران نے خطے میں امریکی اڈوں، سفارتی تنصیبات اور متعدد اسرائیلی شہروں پر جوابی حملے کیے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


