آسٹریلیا (15 دسمبر 2025): سڈنی بونڈی ساحل پر دہشتگرد حملے میں اپنی جان کی پروا کیے بغیر ایک حملہ آور کو پکڑنے والے احمد ال احمد بھی زخمی ہوا۔
آسٹریلوی شہر سڈنی کے مشہور زمانہ بونڈی ساحل پر گزشتہ روز دہشتگردی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں یہودیوں کی جاری تقریب کے دوران دہشتگردوں نے فائرنگ کر کے متعدد افراد کو ہلاک اور زخمی کیا۔
تاہم اس واقعہ میں ایک مسلم نوجوان احمد ال احمد ہیرو بن کر ابھرا، جس نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک مسلح حملہ آور کو دبوچ لیا، تاہم اس کوشش میں خود وہ گولیاں لگنے سے زخمی ہو گیا تھا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق احمد ال احمد کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا تھا، اور اب بہادر نوجوان کے اہلخانہ نے تصدیق کر دی ہے کہ احمد کی حالت خطرے سے باہر ہے اور وہ سرجری کے بعد صحت یاب ہو رہا ہے۔
احمد کے کزن مصطفیٰ نے آسٹریلوی میڈیا کو بتایا کہ ڈاکٹروں نے اہل خانہ کوبتایا ہے کہ سرجری کے بعد احمد کی حالت مستحکم ہے۔ ’’وہ ایک ہیرو ہے، وہ سو فیصد ہیرو ہے۔‘‘
مصطفیٰ نے مزید کہا کہ احمد ابھی اسپتال میں ہے اور ہمیں بالکل معلوم نہیں کہ اندر کیا ہو رہا ہے، تاہم ہمیں امید ہے کہ وہ جلد ٹھیک ہو جائے گا۔
حملہ آور کو پکڑنے والا 43 سالہ احمد ال احمد سڈنی کی ایک فروٹ شاپ کا مالک ہے۔
واقعہ کی وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دہشتگرد حملے کے وقت احمد وہاں سے گزر رہا تھا کہ فائرنگ کے وقت وہ کاروں کے پیچھے چھپ گیا اور موقع ملتے ہی اپنی جان کی پروا کیے بغیر وہ حملہ آور پر جھپٹ پڑا اور اس کو دبوچ کر اسکی بندوق چھین کر اس پر ہی تان لی۔
نوجوان کی دنیا بھر میں ستائش ہو رہی ہے اور اس کو حقیقی ہیرو کہا جا رہا ہے۔ آسٹریلوی وزیراعظم، امریکی صدر سمیت دیگر رہنماؤں نے اس کی بہادری کو سراہا ہے۔
دوسری جانب احمد کے لیے GoFundMe کے نام سے سوشل میڈیا پر ایک مہم چلائی گئی اور صرف چند گھنٹوں میں ایک لاکھ 32 ہزار 900 امریکی ڈالر جمع ہو گئے۔
واضح رہے کہ سڈنی بونڈی بیچ پر فائرنگ کو دہشتگرد واقعہ قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ آسٹریلیا میں گزشتہ تیس سال میں ہونے والا دہشتگردی کا بدترین واقعہ قرار دیا گیا ہے، جس میں ہلاکتوں کی تعداد 16 تک پہنچ چکی ہے جب کہ 40 زخمی ہیں۔
آسٹریلوی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں باپ اور بیٹا ملوث ہیں اور مزید ملزمان کی تلاش روک دی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


