سڈنی کاٹن کو پاکستان کے ایک خیرخواہ اور حکومت کے محسن کے طور پر بھی اکثر یاد کیا جاتا ہے۔ وہ ہندوستان کی تاریخ میں نام رقم کروانے والا ایک آسٹریلوی ہوا باز، ایک مہم جُو اور موجد کے طور پر بھی مشہور ہے۔ 1947ء میں سڈنی کاٹن کو مرفّہ الحال ریاست حیدرآباد دکن کے حکم راں میر عثمان علی خان نے اپنا خزانہ اور خطیر رقم دے کر پاکستان روانہ کیا تھا تاکہ نوزائیدہ اسلامی ریاست کو درپیش مالی مشکلات دور ہوسکیں۔
آسٹریلوی مہم جو سڈنی کاٹن کی کہانی دل چسپ بھی ہے اور حیرت انگیز بھی۔ کہتے ہیں کہ اسے زندگی میں صرف پانچ گھنٹے تنہا پرواز کا تجربہ کرنے کے بعد فائٹر پائلٹ کی حیثیت سے برطانوی فوج میں شامل کر لیا گیا تھا۔ وہ خطروں سے کھیلنے کا عادی تھا اور بعد میں بطور ماہر ہوا باز اس کی شہرت دور دور تک پھیلی۔ پروفیسر سہیل فاروقی اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں، سڈنی کاٹن 1947ء میں پاکستان آیا تو ضرور تھا، بلکہ ایک سے زائد بار آیا تھا مگر پاکستان میں اس کا قیام کبھی بھی چند گھنٹے سے زیاده نہیں رہا۔ دراصل خود میرے لیے بھی سڈنی کاٹن کے پیشے کا تعین کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ بہت سے لوگ اسے پائلٹ بتاتے ہیں، بہت سے لوگوں کے نزدیک وه ایک برطانوی جاسوس تھا، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وه اسلحے کا اسمگلر تھا۔ اور بعض اسے ایک شاطر لٹیرا کہتے تھے۔ اگر وه جاسوس، اسمگلر یا چور تھا بھی تو اس نے یہ تمام کارنامے اپنے ہوائی جہاز کی مدد سے سر انجام دیے تھے، یعنی بنیادی طور پر وه ایک ہوا باز یعنی پائلٹ تھا۔ وہ مزید لکھتے ہیں، دراصل اس شخص نے اپنی جان پر کھیل کر ایک ایسا دلیرانہ فعل انجام دیا کہ اگر وه نہ ہوتا "میرے منہ میں خاک” پاکستان کا وجود اپنے ابتدائی دور میں ہی خطرے میں پڑ جاتا۔
سڈنی کاٹن کی زندگی پر نظر ڈالیں تو سنہ 1894ء میں اس نے آسٹریلیا کے علاقے کوئنز لینڈ کے ایک گھر میں آنکھ کھولی۔ شروع ہی سے وہ اختراع و ایجاد میں دل چسپی لینے لگا تھا۔ اشیا کو توڑنے، جوڑنے اور ڈیزائن کرنے کا شوق ایسا تھا کہ سڈنی نے لڑکپن میں ہی ایک کار ڈیزائن کرلی جس پر اسے بہت سے لوگوں نے سراہا۔ جوانی کے ابتدائی زمانہ میں کاٹن ایک موجد اور انجینیئر کے روپ میں سامنے آیا۔ اسے پائلٹ بننے کا شوق ہوگیا تھا اور اس سے قبل اس نے باقاعدہ ایجادات پر توجہ دیتے ہوئے ہوا بازی کا مخصوص لباس اور ہوائی جہازوں کے لیے مختلف النوع اسلحہ تیار کرنے کی کوشش کی تھی۔ 1915ء میں سڈنی کاٹن برطانیہ چلا گیا۔ وہاں اس نے برطانوی فوج میں شمولیت اختیار کرلی۔ یہ وہ دور تھا جب برطانیہ کے اقتدار کا سورج آسٹریلیا، انڈیا اور کینیڈا جیسے ممالک میں بھی چمک رہا تھا۔ اس کی مضبوط بحریہ میں بہت سے "فائٹر” اور "بومبر” ہوائی جہاز بھی شامل ہوتے تھے۔ سڈنی بھی اسی دور میں دراصل بحریہ کا حصہ بنا تھا۔ وہ 16 سالہ نوجوان تھا جس نے بطور پائلٹ صرف 5 گھنٹے پرواز کی تھی اور اسے جنگ عظیم اوّل میں حصّہ لینے بھیج دیا گیا۔ وہ ذہین بھی تھا اور دلیر بھی جس نے جنگ میں اپنا کردار بخوبی نبھایا۔ جنگ عظیم اوّل کے خاتمے پر سڈنی کاٹن کینیڈا چلا گیا اور وہاں طیّارے کی مدد سے فضائی سروے کا کام کرنے لگا۔ 1938ء میں برطانیہ واپس آکر اس نے اپنی ذاتی کمپنی "ایرو فلمز” کے نام سے قائم کی جس کا بنیادی کام تو فضائی سروے ہی تھا مگر کہتے ہیں کہ وہ برطانوی سیکرٹ سروس 16-M سے وابستہ ہوگیا تھا۔ اس عرصہ میں کاٹن نے برطانیہ کے لیے جرمنی اور اٹلی میں جاسوسی کی اور کئی محیرالعقول کارنامے انجام دیے۔
سڈنی کاٹن کا شمار طیارے کے ذریعے تصویر کشی کا آغاز کرنے والوں میں ہوتا ہے۔ جنگ عظیم دوّم کے دوران اس کی تصویریں ہزار ہا لوگوں کی زندگیاں محفوظ بنانے کا ذریعہ بنیں۔ یہ کارنامے کاٹن نے لاک ہیڈ 12 طیارے کے ذریعے انجام دیے۔ دوسری جنگ عظیم کے موقع پر وہ برطانوی فضائیہ سے وابستہ ہوگیا تھا اور اسکواڈرن لیڈر اور ونگ کمانڈر کی حیثیت سے وفاداری نبھائی۔ کاٹن کی شہرت ایسی تھی کہ برطانوی وزیراعظم چرچل بھی اس کی بہادری اور برطانوی فوج کے لیے اس کی خدمات کا معترف تھا۔
اس زمانہ میں متحدہ ہندوستان میں برطانوی راج آخری سانسیں لے رہا تھا اور جب تقسیم کا اعلان ہوا تو پاکستان کو سب سے بڑا مسئلہ ملکی خزانے اور مالی مسائل کا درپیش تھا۔ متحده ہندوستان کے خزانے سے جو حصّہ معاہدے کے تحت ملنا تھا وه بھارتی سیاست دانوں نے قانونی پیچیدگیاں اور رکاوٹیں کھڑی کرکے روک لیا جس کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان کسی بھی قسم کی مالی ادائیگیاں نہ کر سکے اور دیوالیہ ہو جائے۔ ایسا شاید ہو ہی جاتا اگر اس موقع پر نظام حیدر آباد(دکن) پاکستان کی مدد کو نہ آتے۔ حیدرآباد دکّن کے حکمران میر عثمان علی (جنہیں نظام دکن کہا جاتا تھا) کا شمار دنیا کے امیر ترین افراد میں ہوتا تھا۔ نظام دکن اس آڑے وقت میں پاکستان کے کام آئے اور کثیر مقدار میں سونا اور خطیر رقم پاکستان کو تحفتاً پیش کی۔ مگر مسئلہ تھا اس سونے کو پاکستان پہنچانے کا۔ حیدر آباد دکن اگرچہ آزاد مملکت تھی مگر چاروں طرف سے ہندوستان کی سرزمین سے گھری ہوئی تھی۔ ہندوستان نے زمینی ناکہ بندی کے علاوہ اپنی فضائیہ کو بھی متحرک کر دیا تھا کہ ہندوستان کی حدود سے کوئی نقل و حرکت آسان نہ رہے۔ اس موقع پر نظام حیدرآباد نے سڈنی کاٹن کی مدد حاصل کی۔ یہ سڈنی کاٹن ہی تھا جس نے تن تنہا ہندستانی فوج اور فضائیہ کی آنکھوں میں دھول جھونک کر یہ خزانہ بحفاظت کراچی پہنچایا جو اُس وقت پاکستان کا دارالحکومت تھا۔ یقیناً سڈنی کاٹن نے اس کام کا بھرپور معاوضہ وصول کیا ہو گا لیکن یہ جان جوکھم کا کام تھا جسے کوئی بے حد دلیر بلکہ سر پھرا پائلٹ ہی سر انجام دے سکتا ہے۔ کاٹن کو کراچی اور حیدر آباد دکن درمیان کئی پھیرے لگانے پڑے تھے اور وہ یہ کام رات کی تاریکی میں کرتا رہا۔ اس دولت کے بل پر پاکستان اپنے معاشی نظام کو مستحکم کرنے میں کام یاب رہا اور قائد اعظم نے کچھ ہی عرصے بعد اسٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کیا۔ نظام دکن کو ایک اسلامی ممکت کی مالی اعانت پر کڑی سزا یہ دی گئی کہ بھارتی فوج نے دکن پر قبضہ کرلیا اور اس کی آزاد حیثیت ختم کرکے نظام کو بے بس کردیا گیا۔
13 فروری 1969ء کو سڈنی کاٹن برطانیہ میں چل بسا تھا۔


