تحریکِ آزادیٔ ہند اور قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں سیّد شمسُ الحسن کا کردار اس سپاہی جیسا ہے جس نے ہر قسم کے حالات اور مصائب برداشت کیے، اور خلوص و ایثار کی لازوال داستان رقم کی۔ اس دور میں یوں تو کئی شخصیات کو بانی پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کی رفاقت نصیب ہوئی، مگر شمس الحسن کو یہ امتیاز اور اعزاز حاصل رہا کہ محمد علی جناح انھیں اپنا معتمد اور لائقِ بھروسا ساتھی مانتے تھے اور انھیں شان دار الفاظ میں خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔ آج شمس الحسن کی برسی ہے۔
سید شمس الحسن کے خلوص، نیک نیّتی، دیانت داری کو سراہتے ہوئے ان کے عزم و ارادے کو بانی پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح نے ان الفاظ میں بیان کیا: ’’مسلم لیگ کیا ہے، میں، شمسُ الحسن اور ان کا ٹائپ رائٹر۔‘‘ تاریخ گواہ ہے کہ سّید شمسُ الحسن نے برصغیر کے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت مسلم لیگ کو توانا، مضبوط اور فعال بنانے کے لیے دن رات کام کیا اور بے شمار قربانیاں دیں جو انھیں اس دور کے اکابرین کے درمیان ممتاز کرتی ہیں۔ قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں شمس الحسن پیش پیش رہے اور آزادی کے فوراً بعد ملک کے استحکام اور خوشحالی کے لیے بے لوث کاوشیں کیں۔
سیّد شمسُ الحسن متحدہ ہندوستان کے مشہور شہر بریلی کے رہنے والے تھے۔ ان کا سنہ پیدائش 1892ء ہے۔ ان کی تعلیم و تربیت کے مراحل بریلی اور آگرہ میں طے پائے۔ میٹرک کرنے کے بعد عملی زندگی میں قدم رکھا اور یہ وہ دور تھا جب ہندوستان میں انگریز راج کو سخت مخالفت اور سیاسی تحریکوں کا سامنا تھا۔ اس ماحول میں شمس الحسن نے مسلم لیگ کے سیاسی نظریے اور مطالبات کو قبول کیا اور اس جماعت کے قائدین کے پیچھے چلنے کا فیصلہ کیا۔ وہ مسلم لیگ کے جھنڈے تلے اپنا سیاسی سفر شروع کرچکے تھے جب 1909ء میں ان کو مسلم لیگ کے ادارۂ روزگار ایمپلائمنٹ میں اس وقت کے مسلم لیگی سیکرٹری وزیر حسن کے دفتر میں ذمہ داری سونپی گئی۔ وہ اپنے خلوص اور ذمہ دار رویّے کی وجہ سے تنظیم کے سینئر اراکین کی نظر میں آگئے اور جولائی 1914ء میں ان کو آفس سیکرٹری بنا دیا گیا۔ 1919ء میں قائدِ اعظم محمد علی جناح نے آل انڈیا مسلم لیگ کی صدارت سنبھالی تو شمسُ الحسن کو ان کی رفاقت نصیب ہوئی اور تنظیمی امور کے حوالے سے اپنے لیڈر سے ان کا رابطہ بڑھ گیا۔ شمس الحسن نے 1947ء تک مسلم لیگ کے آفس سیکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس طویل عرصہ میں کئی اتار چڑھاؤ اور مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے انھوں نے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائیں اور محمد علی جناح کے نہایت قریب ہوگئے۔ وہ ایک نظریاتی کارکن تھے جنھوں نے کئی اہم مواقع پر مشاورت کے دوران اپنا نقطۂ نظر کھل کر بیان کیا اور کئی فیصلوں میں ان کی رائے کو بھی اہمیت دی گئی۔ ان کی کاوشوں سے آل انڈیا مسلم لیگ کا 21 ویں سالانہ اجلاس نہایت کام یاب ہوا اور کئی جلسے جلوس ان کی حکمتِ عملی کی بدولت شان دار ثابت ہوئے۔ سید شمس الحسن اپنے خلوص و استقامت، دیانت داری اور تنظیمی خدمات کی وجہ سے 1930ء کے عشرہ تک قائد اعظم کے رفیق بن چکے تھے۔ چنانچہ جب پہلی گول میز کانفرنس کے بعد قائد اعظم نے لندن میں سکونت اختیار کر لی، اس وقت ان کے مابین خط کتابت جاری رہی اور شمس الحسن قائد اعظم سے سیاسی امور اور تنظیمی معاملات و مسائل پر ہدایات حاصل کرتے رہے۔
قیامِ پاکستان سے چند روز قبل قائدِ اعظم نے دہلی میں اپنی رہائش گاہ پر شمسُ الحسن کو طلب کرکے اپنے ذاتی خطوط، مسلم لیگ کا ریکارڈ اور دوسری دستاویزات ان کے سپرد کی تھیں جنھیں بعد میں 98 جلدوں میں مرتّب کیا گیا۔ یہی جلدیں ”شمسُ الحسن کلیکشن“ کہلاتی ہیں اور پاکستان کے لیے قائد اعظم کی شخصیت اور بطور لیڈر اس دور میں کئی اتار چڑھاؤ اور بہت سے اہم واقعات کی یادگار ہے۔
قیامِ پاکستان کے بعد شمسُ الحسن 1948ء سے 1958ء تک پاکستان مسلم لیگ کے اسسٹنٹ سیکریٹری کے طور پر کام کرتے رہے۔ ان کا انتقال 7 نومبر 1981ء کو ہوا۔ سید شمسُ الحسن کو کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں مدفون ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے بعد از مرگ ان کے لیے ستارۂ امتیاز کا اعلان کیا۔


