سلہٹ (19 مئی 2026): دوسرا ٹیسٹ میچ دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گیا کل آخری روز پاکستان کو میچ جیتنے کے لیے 121 رنز جب کہ بنگلہ دیش کو صرف 3 وکٹیں درکار ہوں گی۔
سلہٹ ٹیسٹ فیصلہ کن اور دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ پہلی اننگ میں ناکامی کے بعد پاکستانی بیٹرز ڈٹ گئے اور 437 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف عبور کرنے کے لیے میچ کے چوتھے روز پانچ وکٹوں کے نقصان پر رنز بنا لیے۔
چوتھے روز پاکستان ٹیم نے 437 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بیٹنگ شروع کی تو ابتدائی دو وکٹیں جلد گر گئیں۔ عبداللہ فضل 6 جب کہ اذان اویس 21 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
41 رنز پر دو وکٹیں گرنے کے بعد کپتان شان مسعود اور سینئر بیٹر بابر اعظم نے تیسری وکٹ کے لیے 92 رنز جوڑے۔ 133 کے مجموعے پر بابر اعظم 47 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔
اس کے فوری بعد کپتان شان مسعود 71 رنز کی اننگ کھیل کر وکٹ گنوا بیٹھے جب کہ نائب کپتان سعود شکیل ایک بار پھر ناکام ہوئے اور صرف 6 رنز بنا کر ناہید رانا کی وکٹ بنے۔
162 کے مجموعے پر آدھی قومی ٹیم کے پویلین لوٹ جانے کے بعد پاکستان کے وائٹ واش ہونے کا سایہ گہرا ہو گیا تھا۔ تاہم سلمان آغا اور وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان نے احتیاط سے بیٹنگ کرتے ہوئے آہستہ آہستہ اسکور بورڈ کو متحرک رکھا۔
296 کے مجموعے پر سلمان علی آغا 71 رنز بنا کر تیج الاسلام کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔ دونوں بلے بازوں کے درمیان چھٹی وکٹ کے لیے 134 رنز کی پارٹنر شپ قائم ہوئی۔ حسن علی بغیر کوئی رن بنائے وکٹ دے بیٹھے۔
چوتھے روز کھیل کے اختتام تک پاکستان نے 7 وکٹوں کے نقصان پر 316 رنز بنا لیے تھے اور اس کو جیت کے لیے مزید 121 رنز درکار ہیں۔ محمد رضوان 75 رنز کے ساتھ کریز پر ڈٹے ہوئے ہیں جب کہ ساجد خان نے 8 رنز بنائے ہیں۔
بنگلہ دیش کی جانب سے تیج الاسلام نے 4 وکٹیں حاصل کی ہوئی ہیں جب کہ ناہید رانا نے 2 اور مہدی حسن میراز نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا ہوا ہے۔
میچ کا خلاصہ
بنگلہ دیش پہلی اننگ:
بنگلہ دیش نے پہلی اننگ میں وکٹ کیپر بیٹر لٹن داس کی شاندار سنچری کی بدولت 278 رنز بنائے تھے۔ پاکستان کی جانب سے خرم شہزاد سب سے کامیاب بولر رہے، جنہوں نے 4 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ محمد عباس نے تین جب کہ حسن علی نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔
پاکستان کی پہلی اننگ:
بنگلہ دیش کے 278 رنز کے جواب میں پاکستان کی بیٹنگ لائن پہلی اننگ میں ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور پوری ٹیم 232 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ بابر اعظم (68) کے علاوہ کوئی بیٹر نصف سنچری بھی نہ بنا سکا، یوں بنگلہ دیش کو پہلی اننگ میں 46 رنز کی قیمتی برتری حاصل ہوئی۔
بنگلہ دیش کی جانب سے ناہید رانا اور تیج الاسلام نے تین، تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جب کہ تسکین احمد اور مہدی حسن میراز نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔
بنگلہ دیش کی دوسری اننگ:
میزبان ٹیم نے 46 رنز کی برتری کے ساتھ دوسری اننگ کا آغاز کیا، لیکن پاکستانی بولرز بنگلہ دیشی بیٹرز کو جلد آؤٹ کرنے میں ناکام رہے۔ بنگلہ دیشی ٹیم دوسری اننگ میں 390 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی اور مہمان ٹیم کو جیت کے لیے 438 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف دیا۔ مشفق الرحیم نے سنچری اسکور کرتے ہوئے 137 رنز بنائے۔ مہدی حسن میراز نے 69 اور محمود الحسن جوئے نے 52 رنز اسکور کیے۔
پاکستان کی جانب سے خرم شہزاد نے چار، ساجد خان نے تین، حسن علی نے دو جب کہ محمد عباس نے ایک وکٹ حاصل کی۔
واضح رہے کہ ڈھاکا ٹیسٹ جیت کر بنگلہ دیش کو دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی نا قابل شکست برتری حاصل ہے۔
بنگلہ دیشی بولرز اگر پاکستان ٹیم کو 438 رنز کا ہدف پار نہیں کرنے دیتے تو وہ نہ صرف سیریز جیت جائیں گے بلکہ اپنی سر زمین پر پاکستان کو پہلی بار ٹیسٹ میچ میں شکست دینے کے ساتھ وائٹ واش کر کے تاریخی فتح حاصل کریں گے۔
اس سے قبل بنگلہ دیش نے 2024 میں دورہ پاکستان میں میزبان ٹیم کو دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں وائٹ واش کیا تھا۔ اس سیریز کے پہلا میچ ہار کر پاکستان نے بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ میچ میں نا قابل شکست ہونے کا ٹیگ بھی ختم کر دیا تھا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


