اتوار, مارچ 15, 2026
اشتہار

سلویا پلاتھ:‌ پُراثر شاعری اور درد ناک انجام

اشتہار

حیرت انگیز

سلویا پلاتھ نے اپنی ذات اور اپنے محسوسات کا جس غیرمعمولی شدت سے اپنی شاعری میں‌ اظہار کیا، وہ ناقدین کے نزدیک اس کی انفرادیت ہے، کیوں کہ اس دور کے دیگر شعرا‌ کی تخلیقات میں کیفیات اور جذبوں کا یہ والہانہ پن نہیں‌ ملتا۔ سلویا پلاتھ شاعرہ ہی نہیں بطور ناول نگار بھی مشہور ہوئی۔ خاص طور پر اس کے سوانحی ناول کو بہت سراہا گیا۔

شاعر اور ناول نگار سلویا پلاتھ نے 31 سال کی عمر میں اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا تھا۔ اس کی موت آج بھی ایک معمّہ ہے۔ پولیس نے اسے حادثہ قرار دیا تھا۔ سلویا پلاتھ اوائلِ عمری میں شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوگئی تھی۔ حساس اور زود رنج سلویا پلاتھ کو اس کے والد کی موت سے شدید صدمہ پہنچا تھا۔ اس نے نفسیاتی امراض کے ماہرین کی مدد بھی لی اور اپنا علاج بھی کروایا۔ لیکن وہ خود کو سنبھال نہیں سکی۔ نوجوانی میں تین مرتبہ خود کشی کی ناکام کوشش کرنے والی سلویا پلاتھ کی چوتھی کوشش 11 فروری 1963ء کو کام یاب ہوگئی اور وہ اپنے کمرے میں اس حالت میں‌ ملی کہ اس کا منہ اوون میں رکھا ہوا تھا۔ کچھ لوگوں نے اسے قتل سمجھا اور بعض کا خیال تھا کہ اس نے خود کشی کی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ اس کے کمرے کا دروازہ مقفل تھا جب کہ عموماً وہ اپنا کمرہ لاک نہیں کرتی تھی۔

بعد از مرگ سلویا پلاتھ کو بہت شہرت ملی اور اس کے فن و شخصیت پر مضامین شایع ہوئے۔ یہی نہیں‌ بلکہ سلویا پلاتھ کی شاعری کو ادبِ عالیہ میں شمار کیا گیا۔ وہ 27 اکتوبر 1932ء کو امریکا کے شہر بوسٹن میں پیدا ہوئی تھی۔ سلویا پلاتھ کے والد ایک کالج میں پروفیسر اور ماہرِ حشرات تھے۔ یوں سلویا بھی شروع ہی سے فطرت اور حسین مناظر میں کشش محسوس کرنے لگی تھی۔ اس نے نوعمری میں‌ شاعری سے ناتا جوڑ لیا تھا۔ وہ آٹھ برس کی ہوئی تو اس کے والد فوت ہو گئے اور ان کی موت کا سلویا پر گہرا نفسیاتی اثر پڑا جس نے بعد میں‌ ڈپریشن کا روپ دھار لیا۔ 18 سال کی عمر میں اس کی پہلی نظم مقامی اخبار میں شایع ہوئی اور پھر اس نے بچّوں کے لیے کہانیاں لکھنے کا آغاز کیا۔ بعد میں اس نے ناول بھی لکھے جن میں سے ایک نیم سوانحی ناول دی بیل جار کے نام سے بہت مقبول ہوا۔

1955 میں سلویا پلاتھ نے دوستوفسکی کے فن پر مقالہ لکھ کر اسمتھ کالج سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ وہ ذہین اور قابل لڑکی تھی اور اسی ذہانت کی وجہ سے انگلستان کا فل برائٹ اسکالر شپ حاصل کرکے انگلستان میں کیمبرج یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں کام یاب ہوئی۔ اس کی ملاقات اپنے وقت کے مشہور شاعر ٹیڈ ہیوز سے 1956 میں ہوئی اور دونوں ایک دوسرے کے عشق میں گرفتار ہو گئے، چند ماہ بعد انھوں نے شادی کرلی لیکن جلد ہی رومانس دم توڑ گیا اور سلویا پلاتھ کی ذاتی زندگی اتار چڑھاؤ اور تلخیوں سے کا شکار ہوکر بکھر گئی۔ اس جوڑے کے گھر دو بچّوں نے جنم لیا، مگر ایک وقت آیا جب انھوں نے علیحدگی کا فیصلہ کیا، اور پھر حساس طبع سلویا شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوتی چلی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ سلویا پلاتھ کے مشہور ناول کے چند ابواب دراصل اس کی ذاتی زندگی کا عکس ہیں۔

سلویا پلاتھ کی نظموں کا پہلا مجموعہ 1960ء میں شایع ہوا تھا اور الم ناک موت کے بعد اس کی دیگر نظمیں‌ کتابی شکل میں‌ شایع ہوئیں۔ اس کی نظموں کا متعدد زبانوں میں ترجمہ کیا گیا جن میں اردو بھی شامل ہے۔ بعد از مرگ اس کے لیے پلٹزر پرائز کا اعلان کیا گیا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں